بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

فرض نماز میں امام کا سورہ فاتحہ نہ پڑھنے کا حکم


سوال

اگر فرض نماز میں امام دو یا تین رکعت میں سورۃ الفاتحہ نہ پڑھے، تو کیا نماز ہو جاتی ہے یا نہیں؟

جواب

فرض نماز کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ پڑھنا واجب ہے؛ لہٰذا اگر کوئی شخص فرض نماز کی پہلی دو رکعت میں سےکسی بھی رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنا بھول جائے تو سجدۂ سہو واجب ہوگا، نماز کے آخر میں سجدۂ سہو کرلینے سے نماز درست ہوجائے گی، نماز دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

البتہ اگر کوئی شخص فرض نماز کی پہلی دو رکعتوں میں سےکسی رکعت میں جان بوجھ کر سورہ فاتحہ نہ پڑھے تو سجدۂ سہو سے ازالہ نہیں ہوگا، نماز کا اعادہ لازم ہوگا۔ اسی طرح اگر بھولے سے فاتحہ چھوڑے دے اور آخر میں سجدہ سہو نہ کرے تو اس نماز کے وقت کے اندر اندر ایسی نماز کا اعادہ کرنا  واجب ہوگااور وقت کے بعد مستحب ہوگا۔

اور اگر فرض نماز کی تیسری یا چوتھی رکعت میں سورہ فاتحہ نہ پڑھے تو نماز درست ہوجاتی ہے، سجدہ سہو کرنے یا نماز دہرانے کی ضرورت نہیں۔

کیونکہ فرض نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت میں سورۂ فاتحہ پڑھنا سنت ہے، اگر امام نہ پڑھے تو نماز ہو جائے گی، البتہ ورہ فاتحہ مستقل  چھوڑنے کا معمول بنانا درست نہیں ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(ثم واجبات الصلاة أنواع) (منها) قراءة الفاتحة و السورة إذا ترك الفاتحة في الأوليين أو إحداهما يلزمه السهو و إن قرأ أكثر الفاتحة و نسي الباقي لا سهو عليه و إن بقي الأكثر كان عليه السهو إماما كان أو منفردا، كذا في فتاوى قاضي خان. و إن تركها في الأخريين لا يجب إن كان في الفرض و إن كان في النفل أو الوتر وجب عليه، كذا في البحر الرائق، و لو كررها في الأوليين يجب عليه سجود السهو بخلاف ما لو أعادها بعد السورة أو كررها في الأخريين، كذا في التبيين."

(كتاب الصلاة،الباب الثاني عشر في سجود السهو،ج:1، ص:126، ط: دار الفكر)

وفیہ ایضا:

"وتجب قراءة الفاتحة وضم السورة أو ما يقوم مقامها من ثلاث آيات قصار أو آية طويلة في الأوليين بعد الفاتحة كذا في النهر الفائق وفي جميع ركعات النفل والوتر. هكذا في البحر الرائق."

(کتاب الصلوٰۃ، الباب الرابع فی صفة الصلوٰة، ج:1،ص: 71، ط: دار الفكر)

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح میں ہے:

"‌وتسن ‌قراءة ‌الفاتحة ‌فيما ‌بعد ‌الأوليين" يشمل الثلاثي والرباعي."

(كتاب الصلاة، ‌‌فصل في بيان سننها، ص: 270، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101512

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں