بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا/ قعدہ آخیرہ میں شریک ہونے والے کوجماعت کی فضیلت حاصل ہوجائے گی


سوال

1۔کیا جماعت سے نماز پڑھنے کے بعد دعا مانگنا منع ہے؟ایک صاحب کہہ رہے ہیں کہ پانچوں فرض نماز کے بعد جماعت سے امام کے پیچھے  امام کے ساتھ دعا مانگنا بدعت ہے۔

2۔یہ سنا ہے کہ اگر ایک شخص مسجد میں آیا مگر جماعت ختم ہوگئی ہے،مگر صفیں نہیں ٹوٹی  تو اگر آخری صف میں شامل ہوجائے تو حدیث کی روشنی میں وہ جماعت میں شامل ہوگا،کیا یہ بات درست ہے؟

جواب

1۔فرائض کے بعد اجتماعی دعا کرنامستحب ہے ، بدعت نہیں ہے، احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ فرض نماز وں کےبعد  کا وقت دعاؤں کی قبولیت کا وقت ہے،نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم،صحابہ کرام رضون اللہ علیم اجمعین اور سلف صالحین سے اس موقع پر دعا کرنا منقول ہے،پھر چونکہ دعا کے آداب میں سے ہے کہ ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی جائے،لہذا اس موقع پر بھی ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنی چاہئے۔

البتہ  اس موقع پر اجتماعی دعا مانگنے کو  سنتِ مستمرہ دائمہ کہنا مشکل ہے،اس بنا پراس کو ضروری اورلازم سمجھ کرکرنا،اورنہ کرنے والوں پرطعن وتشنیع کرنا بھی درست نہیں۔

حضرت علامہ محمدانورشاہ کشمیری رحمہ اللہ  اور محدث العصر حضرت مولانا محمد یوسف بنوری نوراللہ مرقدہ نے  لکھاہے کہ فرائض کے بعد موجودہ ہیئت کے مطابق اجتماعی دعا کرنا سنت مستمرہ تو نہیں ہے، لیکن اس کی اصل ثابت ہے ؛ اس لیے یہ بدعت نہیں ہے، اسے بدعت کہنا غلو ہے۔لہٰذا جماعت سے نماز پڑھنے کی صورت میں فرض نماز کے بعد ہی دعا کرنی چاہیے، سنن و نوافل کے بعد اجتماعی ہیئت بنا کر دعا کرنا ثابت نہیں، لہٰذا سنن کے بعد اجتماعی دعا سے اجتناب کیا جائے۔

البتہ  انفرادی طور پر اگر کوئی سنن ونوافل کے بعد دعا کرنا چاہے تو کر سکتا ہے، اس میں حرج نہیں ہے۔

سنن الترمذی  میں ہے:

"عن أبي أمامة، قال: قيل يا رسول الله: أي الدعاء أسمع؟ قال: جوف الليل الآخر، ودبر الصلوات المكتوبات۔"

(سنن الترمذی، جلد5، ابواب الدعوات، ص: 526،رقم الحدیث:3499، ط:شرکت مکتبة)

ترجمہ: حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنےعرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! کونسی دعا (اللہ کی بارگاہ میں) زیادہ سنی جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: رات کے آخری حصے میں اور فرض نمازوں کے بعد۔

المعجم الکبیر للطبرانی میں ہے:

"حدثنا محمد بن أبي يحيى، قال: رأيت عبد الله بن الزبير ورأى رجلاً رافعاً يديه بدعوات قبل أن يفرغ من صلاته، فلما فرغ منها، قال: «إن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يكن يرفع يديه حتى يفرغ من صلاته»".

(المعجم الكبير للطبراني 13/ 129، ط: مكتبة ابن تيمية - القاهرة)

ترجمہ:

 ’’ محمد بن یحیی اسلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا ،انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ نماز سے فارغ ہونے سے پہلے ہی ہاتھ اٹھا کر دعا کررہا تھا تو جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے فرمایا: رسول اللہ ﷺ جب تک نماز سے فارغ نہ ہوتے اس وقت تک (دعا کے لیے) ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے ( لہذا تم بھی ایسا ہی کرو)۔

مراقي الفلاح بإمداد الفتاح شرح نور الإيضاح ونجاة الأرواح    میں ہے:

"(ثم يدعو لامام لنفسه وللمسلمين) بالأدعية المأثورة الجامعة؛ لقول أبي أمامة: قيل: يا رسول الله أي الدعاء أسمع؟ قال: "جوف الليل الأخير و دبر الصلوات المكتوبات، و لقوله صلى الله عليه و سلم: "والله إني لأحبك أوصيك يا معاذ! لاتدعن دبر كل صلاة أن تقول: اللهم أعني على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك" (رافعي أيديهم) حذاء الصدر و بطونها مما يلي الوجه بخشوع و سكون، ثم يمسحون بها وجوههم فى آخره أي: عند الفراغ."

 

(باب صفة الصلوة، ص:316، ط:مكتبه رشيديه)

معارف السنن میں ہے:

"وردت احاديث قولية و فعلية في الدعاء دبر الصلوات مطلقا اي قبل الفراغ عنها، و كذا بعد الفراغ عنها و صحت احاديث عامة في ادب الدعاء من رفع اليدين و مسح الوجه بها بعد الدعاء و صح حديث في تكرير الدعاء ثلاثا كل مرة برفع اليدين من حديث عائشة عند مسلم و هذا كله واضح معروف في محله لا مساغ لانكارها و ورد في حديث حبيب بن سلمة الضمري في كنز العمال (1-177): "لا يجتمع ملأ فيدعو بعضهم و يؤمن بعضهم الا اجابهم الله" و دليل بهيئة اجتماعية و مظنة وقبولها اكثر من دعاء الوحدان ........منها ما اخرجه بن ابي شيبة قال حدثنا محمد بن يحيي الاسلمي قال: "رأيت عبد الله بن الزبير و رأي رجلا رافعا يديه يدعوقبل ان يفرغ من صلاته فلما فرغ منها قال له ان رسول الله صلي الله عليه وسلم لم يكن يرفع يديه حتي يفرغ من صلاته"........فهذه و ما شاكلها من الروايات في الباب تكاد تكفي حجة لما اعتاده الناس في البلاد من الدعوات الاجتماعية دبر الصلوات و لذا ذكر فقهاؤنا ايضا كما في نور الايضاح و شرحه مراقي الفلاح للشرنبلالي  و يقول النووي في شرح المهذب (3-488): الدعاء للامام و المأموم و المنفرد مستحب عقب كل الصلوات بلا خلاف الخ."

(کتاب الصلاۃ، باب ما یقول اذا سلم، 3/ 121-123،ایچ ایم سعید)

العرف الشذي شرح سنن الترمذي  میں ہے:

"و ليعلم أن الدعاء المعمول في زماننا من الدعاء بعد الفريضة رافعين أيديهم على الهيأة الكذائية لم تكن المواظبة عليه في عهده عليه الصلاة والسلام."

(باب ماجاء فى كراهية ان يخص الامام نفسه فى الدعاء، ج:1، ص:346، ط:دار إحياء التراث العربى)

مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے :

1۔ "استحباب الدعوات عقيب الصلوة" مؤلف:حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ۔

 "النفائس المرغوبة في حكم الدعاء بعد المكتوبة"مؤلف: حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ رحمہ اللہ (مفتی اعظم ہند)۔

3۔ "التحفة المرغوبة في أفضلية الدعاء بعد المكتوبة"مؤلف: حضرت مولانا مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی رحمہ اللہ۔

2۔ایسی کوئی حدیث معلوم نہیں ،البتہ جو شخص قعدہ آخیر ہ میں امام کو پالے تو اس کو جماعت کا ثواب مل جائے گا،مگر اس شخص کی طرح ثواب نہیں ملے گا جو شروع سے امام کے ساتھ شریک ہو۔

البحر الرائق میں ہے:

"فظاهر كلامهم أن من أدرك الإمام في التشهد فقد أدرك فضلها."

(کتاب الصلوۃ , باب إدراک فریضة الصلوۃ جلد 2 ص: 82 ط: دارالکتاب الإسلامي)

وفیه ایضا:

"وفي غاية البيان ‌أن ‌المسبوق يكون مدركا لثواب الجماعة لكن لا يكون ثوابه مثل ثواب من أدرك أول الصلاة مع الإمام لفوات التكبيرة الأولى."

(کتاب الصلوۃ , باب ادراک فریضة الصلوۃ جلد 2 ص: 82 ط: دارالکتاب الاسلامي)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101164

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں