بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

فرض نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت میں سورۂ فاتحہ نہ پڑھنے کا حکم / قراءت خلف الامام کا حکم


سوال

اگر  جماعت کی فرض نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت میں سورۂ فاتحہ پڑھنا کیسا ہے؟ اور اگر تیسری یا چوتھی رکعت میں امام سورۂ فاتحہ نہ پڑھے تویہ کیسا ہے؟ اور فرض نماز میں تیسری اور چوتھی رکعت میں امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنا کیسا ہے؟ 

جواب

فرض نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت میں سورۂ فاتحہ پڑھنا سنت ہے، اگر امام نہ پڑھے تو نماز ہو جائے گی، البتہ چھوڑنے کا معمول بنانا درست نہیں ہے۔ باقی مقتدی کے لیے امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنا جائز نہیں، کیوں کہ امام مقتدی کی نماز کا بھی ضامن ہوتا ہے، اور امام کی قراءت مقتدی کے لیے کافی ہوتی ہے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وتجب قراءة الفاتحة وضم السورة أو ما يقوم مقامها من ثلاث آيات قصار أو آية طويلة في الأوليين بعد الفاتحة كذا في النهر الفائق وفي جميع ركعات النفل والوتر. هكذا في البحر الرائق."

(کتاب الصلوٰۃ، الباب الرابع فی صفة الصلوٰة، 1/ 71، ط: دار الفكر)

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاحمیں ہے:

"‌وتسن ‌قراءة ‌الفاتحة ‌فيما ‌بعد ‌الأوليين" يشمل الثلاثي والرباعي."

(كتاب الصلاة، ‌‌فصل في بيان سننها، ص: 270، ط: دار الكتب العلمية)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(والمؤتم لا يقرأ مطلقا) ولا الفاتحة في السرية اتفاقا، وما نسب لمحمد ضعيف كما بسطه الكمال (فإن قرأ كره تحريما) وتصح في الأصح. وفي درر البحار عن مبسوط خواهر زاده أنها تفسد ويكون فاسقا، وهو مروي عن عدة من الصحابة فالمنع أحوط (بل يستمع) إذا جهر (وينصت) إذا أسر «لقول أبي هريرة - رضي الله عنه - كنا نقرأ خلف الإمام فنزل - {وإذا قرئ القرآن فاستمعوا له وأنصتوا} [الأعراف: 204]-» (وإن) وصلية (قرأ الإمام آية ترغيب أو ترهيب) وكذا الإمام لا يشتغل بغير القرآن، وما ورد حمل على النفل منفردا كما مر (كذا الخطبة) فلا يأتي بما يفوت الاستماع ولو كتابة أو رد سلام (وإن صلى الخطيب على النبي - صلى الله عليه وسلم - إلا إذا قرأ - {صلوا عليه} [الأحزاب: 56]- فيصلي المستمع سرا) بنفسه وينصت بلسانه عملا بأمري - {صلوا} [الأحزاب: 56]- {وأنصتوا} [الأعراف: 204]."

(کتاب الصلوۃ، فصل في بيان تأليف الصلاة إلى انتهائها، 1/ 544، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707101620

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں