بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

فرض نماز کے بعد دعا کرنے کا حکم


سوال

فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا کے حوالے سے مکمل تفصیلات بتائیں ۔

جواب

فرض نمازوں کے بعد کے اوقات حدیث شریف کے مطابق قبولیتِ دعاکے اوقات ہیں،  فرائض کے بعددعاکرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اورسلف صالحین سے ثابت ہے۔ اور دعا کے آداب میں سے ہے کہ ہاتھ اٹھا کر دعا کی جائے  اور آں حضرت ﷺ سے بھی  دعا میں ہاتھ اٹھانا ثابت ہے۔

’’المعجم الکبیر ‘‘  میں  علامہ طبرانی رحمہ اللہ نے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی سے ایک روایت ذکر کی ہے کہ  محمد بن یحیی اسلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے عبد اللہ بن  زبیر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا ، انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ  وہ نماز سے فارغ ہونے سے پہلے ہی ہاتھ اٹھا کر دعا کررہا تھا ، جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو  حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے فرمایا: رسول اللہ ﷺ جب تک نماز سے فارغ نہ ہوتے  اس وقت تک (دعا کے لیے) ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے ( لہذا تم بھی ایسا ہی کرو)۔

 اسی طرح ’’کنزالعمال‘‘ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جوبندہ نمازکے بعدہاتھ اٹھاکراللہ تعالیٰ سے دعاکرتاہے اورکہتاہے کہ اے میرے معبود....اللہ تعالیٰ اس کی دعا کوضرورقبول فرماتے ہیں ،اسے خالی ہاتھ واپس نہیں لوٹاتے۔

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷲﷺنے ارشاد فرمایا: تمہارا رب حیا والا اور کریم ہے، اپنے بندے سے حیا کرتاہے ،جب وہ اپنے ہاتھوں  کو اس کے سامنے اٹھاتا ہے کہ ان کو خالی واپس لوٹا دے ۔

حضرت مالک بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺنے ارشاد فرمایا : جب تم اللہ سے دعا کرو تو ہاتھوں  کی ہتھیلیوں  سے کرو، ہاتھوں  کی پشت سے نہ کرو ۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں  ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیوں  سے سوال کیا کرو اور ہاتھوں  کی پشت سے نہ کرو ،پس جب دعا سے فارغ ہوجاؤ تو  ہاتھوں  کو اپنے چہرے پر پھیر لو ۔

دعا میں  ہاتھ اٹھانا حضور ﷺکی عادتِ شریفہ تھی ، حضرت سائب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں  کہ رسول اللہ ﷺجب دعا فرماتے تھے تو اپنے دونوں  ہاتھ مبارک اٹھاتے اور فارغ ہوتے تو ان دونوں  کو اپنے چہرے پر پھیرتے۔

اس طرح کی روایات فرض نمازوں کے بعدہاتھ اٹھاکراجتماعی دعاکے ثبوت واستحباب کے لیے کافی ہیں ؛ اس لیے نماز کے بعد دعاپر نکیر کرنا یا اسے بدعت کہنا درست نہیں۔ تاہم اسے سنتِ مستمرہ دائمہ کہنا مشکل ہے،اس بنا پراس کو ضروری اورلازم سمجھ کرکرنا،اورنہ کرنے والوں پرطعن وتشنیع کرنا بھی درست نہیں۔ اور یہ دعا سر اً افضل ہے، البتہ تعلیم کی غرض سے  کبھی کبھار امام  جہراً بھی دعا کرا سکتا ہے۔

حضرت علامہ محمدانورشاہ کشمیری رحمہ اللہ نے ’’فیض الباری‘‘ میں اور محدث العصر حضرت مولانا محمد یوسف بنوری نوراللہ مرقدہ نے اپنے فتاویٰ میں لکھاہے کہ فرائض کے بعد موجودہ ہیئت کے مطابق اجتماعی دعا کرنا سنتِ مستمرہ تو نہیں ہے، لیکن اس کی اصل ثابت ہے ؛ اس لیے یہ بدعت  نہیں ہے، اسے بدعت کہنا غلو ہے۔

صحیح البخاری میں ہے:

"حدثنا قتيبة بن سعيد: حدثنا جرير، عن منصور، عن المسيب بن رافع، عن وراد، مولى المغيرة بن شعبة، قال: كتب المغيرة إلى معاوية بن أبي سفيان:أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول في دبر كل صلاة إذا سلم: (لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وهو على كل شئ قدير، اللهم لا مانع لما أعطيت، ولا معطي لما منعت، ولا ينفع ذا الجد منك الجد)."

 (باب: الدعاء بعد الصلاة، ج:8،  ص:72، ط :دار ابن كثير)

المعجم الکبیر للطبرانی میں ہے:

"حدثنا محمد بن أبي يحيى، قال: رأيت عبد الله بن الزبير ورأى رجلاً رافعاً يديه بدعوات قبل أن يفرغ من صلاته، فلما فرغ منها، قال: «إن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يكن يرفع يديه حتى يفرغ من صلاته»".

(ج:13، ص: 129، ط:مكتبة ابن تيمية - القاهرة)

عمل اليوم والليلة میں ہے:

حدثني أحمد بن الحسن بن أديبويه، ثنا أبو يعقوب إسحاق بن خالد بن يزيد البالسي، ثنا عبد العزيز بن عبد الرحمن البالسي، عن خصيف، عن أنس بن مالك، رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: " ‌ما ‌من ‌عبد ‌بسط ‌كفيه في دبر كل صلاة، ثم يقول: اللهم إلهي وإله إبراهيم، وإسحاق، ويعقوب، وإله جبرائيل، وميكائيل، وإسرافيل عليهم السلام، أسألك أن تستجيب دعوتي، فإني مضطر، وتعصمني في ديني فإني مبتلى، وتنالني برحمتك فإني مذنب، وتنفي عني الفقر فإني متمسكن، إلا كان حقا على الله عز وجل أن لا يرد يديه خائبتين "

(‌‌نوع آخر، ص121، ط:دار القبلة للثقافة الإسلامية)

تحفة الأحوذی میں ہے:

"إن الدعاء بعد الصلاة المكتوبة مستحب مرغب فيه وإنه قد ثبت عن رسول الله صلى الله عليه وسلم الدعاء بعد الصلاة المكتوبة وأن رفع اليدين من آداب الدعاء وأنه قد ثبت عن رسول الله صلى الله عليه وسلم رفع اليدين في كثير من الدعاء"

 (ج:2،ص:172، ط :دار الكتب العلمية - بيروت)

كفايت المفتي ميں هے:

سوال: فرض نماز کے بعد امام کا بلند آواز سے دعا مانگنا اور مقتدیوں کا آمین کہنا، کیا یہ درست ہے یا نہیں؟ یہ تو ٹھیک ہے کہ سنتوں اور نوافل کے بعد انتظار کرنا اور اجتماعی دعا مانگنا سنت کے خلاف ہے، مگر فرضوں کے بعد دعا مانگنا تو ثابت ہے۔

جواب : اس طریقے کو ضروری اور لازمی نہ سمجھا جائے تو مباح (اجازت) ہے، مگر سنتوں اور نوافل کے بعد سب کا موجود رہنا اور پھر اس طریقے سے دعا مانگنا واجب الترک (چھوڑ دینا ضروری) ہے۔

 

(ج 3 ص330 ط:دارالاشاعت)

مزید دلائل کے لیے ”النفائس المرغوبة في الدعاء بعد المکتوبة“ مؤلفہ حضرت مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ صاحب رحمہ اللہ کا مطالعہ فرمائیں۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711100424

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں