بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز جنازہ کو وقتی فرض نماز پر مقدم کرنے کا حکم


سوال

کیا فرض کفایہ فرض عین سے پہلے ادا کیا جاسکتا ہے؟یعنی نماز جنازہ فرض نماز سے پہلے ادا کی جاسکتی ہے؟ اور بالخصوص ایک ہی مجلس میں متصلاً۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں عام اصول یہی ہے کہ فرضِ عین (وقتیہ نماز) فرض کفایہ (جنازہ کی نماز) پر مقدم ہے، اسے پہلے ادا کیا جائے ، البتہ  فرضِ کفایہ (نمازِ جنازہ) کو کسی عذر کی بناء پر فرضِ عین (نمازِ وقتیہ) سے پہلے ادا کرنا اس صورت میں جائز ہے جب کہ فرضِ عین کے وقت کے فوت ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔ البتہ اگر نمازِ جنازہ ادا کرنے کی صورت میں فرضِ عین کے قضا ہونے یا وقت نکل جانے کا خوف ہو تو ایسی صورت میں فرضِ کفایہ کو مؤخر کر کے فرضِ عین کو پہلے ادا کرنا لازم ہوگا، کیوں کہ فرضِ عین کی ادائیگی کو فرضِ کفایہ پر ترجیح حاصل ہے۔

اسی طرح اگر دونوں نمازیں ایک ہی مجلس میں متصلاً ادا کی جا رہی ہوں تو بھی اگر کسی عذر کی وجہ سے نماز جنازہ کو مقدم کرنا چاہے تو گنجائش ہوگی ، بشرطیکہ فرض نماز کا وقت نکلنے کا خطرہ نہ ہو ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(‌وتقدم) ‌صلاتها (‌على ‌صلاة ‌الجنازة إذا اجتمعا) لأنه واجب عينا والجنازة كفاية (و) تقدم (صلاة الجنازة عن الخطبة) وعلى سنة المغرب وغيرها والعيد على الكسوف، لكن في البحر قبيل الأذان عن الحلبي الفتوى على تأخير الجنازة عن السنة وأقره المصنف كأنه إلحاق لها بالصلاة لكن في آخر أحكام دين الأشباه ينبغي تقديم الجنازة والكسوف حتى على الفرض ما لم يضق وقته فتأمل.

(قوله: ينبغي إلخ) عبارة الأشباه اجتمعت جنازة وسنة قدمت الجنازة؛ وأما إذا اجتمع كسوف وجمعة أو فرض وقت لم أره، وينبغي تقديم الفرض إن ضاق الوقت وإلا فالكسوف لأنه يخشى فواته بالانجلاء. ولو اجتمع عيد وكسوف وجنازة ينبغي تقديم الجنازة، وكذا لو اجتمعت مع فرض وجمعة ولم يخف خروج وقته. وينبغي أيضا تقديم الخسوف على الوتر والتراويح اهـ ."

(‌‌كتاب الصلاة، ‌‌باب العيدين، ج: 2، ص: 167، ط: دار الفكر)

بدائع الصنائع میں ہے:

"‌ولو ‌أرادوا ‌أن ‌يصلوا ‌على ‌جنازة وقد غربت الشمس فالأفضل أن يبدءوا بصلاة المغرب ثم يصلون على الجنازة؛ لأن المغرب آكد من صلاة الجنازة فكان تقديمه أولى؛ ولأن في تقديم الجنازة تأخير المغرب وأنه مكروه."

(كتاب الصلاة، فصل بيان ما يكره في صلاة الجنازة، ج: 1، ص: 317، ط: دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144602102348

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں