
نکاح کے وقت نکاح خواں نے دولہا سے مجمع کے سامنے دو لاکھ حق مہر کے عوض لڑکی سے نکاح کرنے کا سوال کیا اور اس وقت اس کے علاوہ کسی اضافی چیز کا مطالبہ بطور حق مہر نہ تھا۔ لیکن بعد میں دولہا کے مستقل اصرار کے باوجود اس کو نکاح نامہ نہ دیا گیا اور جب انہوں نے قانونی کارروائی کے ذریعہ نکاح نامہ حاصل کیا توحق مہر میں بیس تولہ سونا اور ایک گھر کا اضافہ ہو چکا تھا۔ کیا ایسا عمل کرنا جائز ہے ؟ دولہا کے لیے حقیقی واجب الادا حق مہر کیا ہے ؟
واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ نے نکاح کے موقع پر فریقین کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ باہمی رضامندی سے مہر مقرر کریں، خواہ وہ مہرِ مثل سے کم ہو یا زیادہ، بشرطیکہ وہ کم از کم دس درہم سے کم نہ ہو۔ نکاح کے وقت جو مہر فریقین کی رضامندی سے طے پاتا ہے، اسی کو مہرِ مسمّی کہا جاتا ہے، اور شرعاً شوہر پر اسی مہر کی ادائیگی لازم ہوتی ہے۔ اس میں کسی فریق یا نکاح خواں کو از خود تبدیلی یا اضافہ کرنے کا اختیار نہیں ہوتا۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً فریقین کے مابین باہمی رضامندی سے دو لاکھ روپے حقِ مہر طے ہوا تھا، اور نکاح خواں نے مجمع کے سامنے دولہا سے اسی مقدارِ مہر کے عوض ایجاب و قبول کروایا، اور اس وقت نہ بیس تولہ سونا بطورِ مہر طے ہوا تھا اور نہ کسی گھر کا ذکر حقِ مہر کے طور پر کیا گیا تھا، تو شرعاً معتبر اور واجب الادا حقِ مہر وہی دو لاکھ روپے ہیں جن پر نکاح منعقد ہوا۔
بعد میں نکاح نامہ میں بیس تولہ سونا اور ایک گھر کا یکطرفہ طور پر اضافہ کر دینا، جبکہ دولہا نے اس پر رضامندی ظاہر نہ کی ہو، شرعاً جائز نہیں، اور ایسی تحریر کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه»."
(باب الغصب والعاریة، الفصل الثانی، ج:2، ص:889، رقم:2946، ط: المکتب الإسلامي بیروت)
ترجمہ:”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:خبردار کسی پرظلم و زیادتی نہ کرو، اچھی طرح سنو!کہ کسی دوسرے شخص کا مال اس کی دلی رضامندی کے بغیر لیناحلال نہیں ہے۔“
فتاوی شامی میں ہے:
"(وتجب) العشرة (إن سماها أو دونها و) يجب (الأكثر منها إن سمى) الأكثر ويتأكد (عند وطء أو خلوة صحت) من الزوج.
وفي الرد: (قوله ويجب الأكثر) أي بالغا ما بلغ فالتقدير بالعشرة لمنع النقصان (قوله ويتأكد) أي الواجب من العشرة لو الأكثر وأفاد أن المهر وجب بنفس العقد لكن مع احتمال سقوطه بردتها أو تقبيلها ابنه أو تنصفه بطلاقها قبل الدخول، وإنما يتأكد لزوم تمامه بالوطء ونحوه."
(کتاب النکاح، باب المھر، ج:3، ص:102، ط:سعید)
وفیه أیضًا:
"المهر مهر السر، وقيل: العلانية.
وفي الرد: (قوله: المهر مهر السر إلخ) المسألة على وجهين: الأول تواضعا في السر على مهر ثم تعاقدا في العلانية بأكثر والجنس واحد، فإن اتفقا على المواضعة فالمهر مهر السر وإلا فالمسمى في العقد ما لم يبرهن الزوج على أن الزيادة سمعة، وإن اختلف الجنس فإن لم يتفقا على المواضعة فالمهر هو المسمى في العقد."
(کتاب النکاح، باب المھر، ج:3، ص:161، ط: سعید)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"(ثم الأصل) في التسمية أنها إن صحت وتقررت يجب المسمى ثم ينظر إن كان المسمى عشرة فصاعدا؛ فليس لها إلا ذلك، وإن كان دون العشرة يكمل عشرة عند أصحابنا الثلاثة وإذا فسدت التسمية أو تزلزلت يجب مهر المثل."
(کتاب النکاح، الباب السابع في المهر، الفصل الأول، ج:1، ص:303، ط:دار الفکر)
البحر الرائق میں ہے:
"لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي."
(كتاب الحدود، ج:5، ص:44، ط:دار الكتاب الإسلامي)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707101268
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن