
فرض نمازوں کے بعد اجتماعی دعا کرنا یعنی امام صاحب دعا کرائیں اور مقتدی آمین کہیں، قرآن وحدیث سے ثابت ہے ؟
واضح رہے کہ فرائض کے بعد اجتماعی دعا کی جو مروجہ صورت ہے، یعنی امام اور مقتدی ہاتھ اٹھا کر ایک ساتھ دعا کریں، امام بلند آواز سے دعا کرے اور مقتدی آمین کہیں، اس مخصوص ہیئت کے ساتھ دعا احادیثِ مبارکہ سے صراحتاً ثابت نہیں ہے، البتہ احادیث سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ فرائض کے بعد امام، مقتدی اور منفرد سب کے لیے ہاتھ اٹھا کر انفرادی طور پر دعا کرنا مستحب ہے، اسی بنیاد پر فقہاء کرام نے فرائض کے بعد دعا کو سنتِ مستحبہ قرار دیا ہے، اور اکابر علمائے دیوبند کی تحقیق و عمل بھی اسی پر ہے۔
چنانچہ جب امام، مقتدی اور منفرد سب انفراداً دعا کریں گے تو اجتماعی صورت خود بخود بن جائے گی، یہ اجتماع دراصل ضمنی نوعیت کا ہے، شرعاً اس کا قصد و التزام مطلوب نہیں۔ لہٰذا اگر دعا اسی انفرادی صورت میں کی جائے جو مذکور ہوئی ہے تو یہ احادیث سے ثابت اور شرعاً مستحب ہے۔ البتہ کبھی کبھار امام اگر تعلیم و ترغیب یا عوام کی تربیت کے لیے بلند آواز سے دعا کرے اور مقتدی آمین کہیں، تو اس کی بھی گنجائش ہے۔
تاہم فرائض کے بعد اجتماعی دعا کو فرض، واجب یا سنتِ مؤکدہ سمجھنا، یا امام کے ساتھ دعا میں شریک نہ ہونے والوں پر تنقید کرنا درست نہیں، اسی طرح فرائض کے بعد نفسِ دعا کے ثبوت سے انکار کر دینا اور اسے بدعت کہنا بھی غلط اور غیر معتدل طرزِ فکر ہے، حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ نے ’’فیض الباری‘‘ میں اور محدث العصر حضرت مولانا محمد یوسف بنوری نور اللہ مرقدہ نے اپنے فتاویٰ میں لکھا ہے کہ فرائض کے بعد موجودہ ہیئت کے مطابق اجتماعی دعا سنتِ مستمرہ تو نہیں ہے، لیکن اس کی اصل ثابت ہے، لہٰذا اسے بدعت کہنا غلو ہے۔
البتہ جن فرض نمازوں کے بعد سننِ مؤکدہ ہیں، مثلاً ظہر، مغرب اور عشاء، ان کے بعد مختصر دعا پر اکتفا کرنا اور فوراً سنن و نوافل میں مشغول ہو جانا بہتر ہے، ان نمازوں کے بعد وہ اذکار یا دعائیں پڑھی جائیں جو احادیث میں وارد ہیں، یا مختصر دعا کر لی جائے تو یہ افضل اور معتدل طریقہ ہے، اور اگر طویل دعا یا ذکر کرنا مقصود ہو تو وہ سنن مؤکدہ کے بعد کیا جائے، جبکہ جن فرض نمازوں کے بعد سنن نہیں، مثلاً فجر اور عصر، ان کے بعد طویل دعا یا ذکر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
نیز سنتوں کے بعد اجتماعی دعا کا اہتمام یا التزام کرنا درست نہیں، کیونکہ فرض نماز کے بعد سنت و نفل نمازیں ہر شخص الگ الگ ادا کرتا ہے، اور الگ الگ عبادت کے بعد دوبارہ سب کا جمع ہو کر دعا کرنا نہ نبی کریم ﷺ، نہ صحابۂ کرامؓ، نہ تابعین و تبع تابعین اور نہ سلفِ صالحین سے منقول ہے،سلفِ صالحین کا معمول یہی رہا ہے کہ فرض نماز کے بعد امام اور مقتدی سب دعا کرتے تھے، پھر سنت و نفل الگ الگ ادا کرتے تھے، اور ہر ایک اپنی جگہ دعا کرتا تھا، یہ ممکن نہیں کہ وہ سب سنتوں کے بعد دوبارہ مسجد میں جمع ہو کر اجتماعی دعا کرتے ہوں، بلکہ اگر نبی کریم ﷺ کو کبھی کسی مصلحت یا ضرورت کے پیشِ نظر مسجد میں سنن و نوافل ادا کرنے کا اتفاق ہوا بھی ہو، تو آپ ﷺ نے مقتدیوں کے ساتھ اجتماعی دعا نہیں فرمائی۔
لہٰذا آج کل بعض مقامات پر سنتوں کے بعد اجتماعی دعا کا جو عملاً التزام رائج ہے، اسے ترک کر دینا ضروری ہے، تاکہ دین میں اعتدال، اتباعِ سنت اور سلفِ صالحین کے منہج کی پیروی باقی رہے۔
جیسا کہ سنن الترمذی میں ہے:
"عن أبي أمامة، قال: قيل يا رسول الله: أي الدعاء أسمع؟ قال: جوف الليل الآخر، ودبر الصلوات المكتوبات."
(أبواب الدعوات، ج: 5، ص: 526، رقم الحدیث: 3499، ط: دارابن کثیر)
ترجمہ: ”حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنےعرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! کون سی دعا (اللہ کی بارگاہ میں) زیادہ سنی جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: رات کے آخری حصے میں اور فرض نمازوں کے بعد۔“
عمل الیوم و اللیلۃ میں ہے:
"عن أنس بن مالك، رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: ما من عبد بسط كفيه في دبر كل صلاة، ثم يقول: اللهم إلهي وإله إبراهيم، وإسحاق، ويعقوب، وإله جبرائيل، وميكائيل، وإسرافيل عليهم السلام، أسألك أن تستجيب دعوتي، فإني مضطر، وتعصمني في ديني فإني مبتلى، وتنالني برحمتك فإني مذنب، وتنفي عني الفقر فإني متمسكن، إلا كان حقا على الله عز وجل أن لا يرد يديه خائبتين."
(ص: 121، رقم الحديث: 138، ط: دار القبلة، جدة)
ترجمہ: ”حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جو بندہ ہر نماز کے بعد اپنے ہاتھ پھیلاتا ہے اور پھر یہ دعا کرتا ہے " اے اللہ! جو میرا الٰہ ہے اور ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہم السلام کا الٰہ ہےاور جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام کا الٰہ ہے، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میری دعا قبول فرمالے، کیوں کہ میں مجبور ہوں اور میرے دین میں میری حفاظت فرما کیوں کہ میں آزمائش میں ڈالا ہوا ہوں اور مجھے اپنی رحمت سے نواز دے کیوں کہ میں گناہ گار ہوں اور مجھ سے فقر کو دور فرما کیوں کہ میں مسکنت والا ہوں (جو شخص ایسی دعا کرے گا تو) اللہ تعالی اس کے ہاتھوں کو ناکام نہیں لوٹائے گا۔“
مجمع الزوائد میں ہے:
"عن محمد بن [أبي] يحيى قال: رأيت عبد الله بن الزبير، ورأى رجلا رافعا يديه يدعو قبل أن يفرغ من صلاته، فلما فرغ منها قال: إن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - لم يكن يرفع يديه حتى يفرغ من صلاته، رواه الطبراني."
(کتاب الأدعية، باب ماجاء في الإشارة و رفع اليدين، ج: 10، ص: 169، رقم الحديث: 17345، ط: مكتبة القدسي، القاهرة)
ترجمہ: ”محمد بن ابی یحیی اسلمی فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ اپنی نماز مکمل کرنے سے پہلے اپنے ہاتھ اٹھا کر دعا کر رہا تھا، جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے یہاں تک کہ اپنی نماز سے فارغ ہوجاتے۔ اس کو طبرانی نے روایت کیا ہے۔“
سنن الترمذی میں ہے:
"عن الفضل بن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الصلاة مثنى مثنى، تشهد في كل ركعتين، وتخشع، وتضرع، وتمسكن، وتقنع يديك، يقول: ترفعهما إلى ربك، مستقبلا ببطونهما وجهك، وتقول: يا رب يا رب، ومن لم يفعل ذلك فهو كذا وكذا، وقال غير ابن المبارك في هذا الحديث: من لم يفعل ذلك فهي خداج."
(كتاب الصلوة، باب ماجاء في التخشع في الصلوة، ج: 2، ص: 225، ط: دارابن کثیر)
ترجمہ:”فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا: نماز دو دو ( رکعت ) ہے، ہر دو رکعت کے بعد تشہد پڑھیے، خشوع، خضوع اور عاجزی اختیار کیجیے اور اپنے ہاتھ اٹھائیے، ( نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم) فرماتے تھے: اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیاں اپنے چہرے کی جانب کرتے ہوئے اپنے ہاتھ اپنے رب کی طرف اٹھائیے اور کہیے اے میرے پروردگار! اے میرے پروردگار!، جس نے ایسا نہیں کیا وہ ایسا ایسا ہے۔ ابن مبارک کے علاوہ دوسرے راوی اس حدیث کو ( اس طرح ) بیان کرتے ہیں: ( نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ) جس نے ایسانہیں کیا تو وہ نماز ناقص ہے۔“
معارف السنن میں ہے:
"قد راج في كثير من البلاد الدعاء بهيئة اجتماعية رافعين أيديهم بعد الصلوات المكتوبة، و لم يثبت ذلك في عهده صلى الله عليه و سلم و بالأخص بالمواظبة، نعم ثبتت أدعية كثيرة بالتواتر بعد المكتوبة و لكنها من غير رفع الأيدي و من غير هيئة اجتماعية، نعم ثبت دعاؤه صلى الله عليه و سلم برفع اليدين باجتماع بعد النافلة في واقعتين: أحدهما واقعة بيت أم سليم رضي الله عنها حين صلى فيه السبحة و دعا لأنس، رواه مسلم."
(كتاب الصلوة، باب ما جاء في كراهية أن یخص الإمام نفسه بالدعاء، ج: 3، ص: 409، ط: ایچ ایم سعید)
وفیه أیضا:
"فهذه و ما شاكلها من الروايات في الباب تكاد تكفي حجة لما اعتاده الناس في البلاد من الدعوات الاجتماعية دبر الصلوات... و يقول النووي في شرح المهذب: الدعاء للإمام و المأموم و المنفرد مستحب عقب كل الصلوات بلا خلاف ... و بالجملة التزامه كسنة مستمرة دائمة يشكل أن يكون عليه دليل من السنة."
(كتاب الصلوة، باب ما يقول إذا سلم، ج: 3، ص: 124، ط: ايچ ايم سعيد)
استحباب الدعوات عقیب الصلوات میں ہے:
"اعلم أنه لا خلاف بين المذاهب الأربعة في ندب الدعاء سرا للإمام و الفذ ... فأما نصوص المالكية ففي المعيار قال ابن عرفة مضى عمل من يقتدى به في العلم و الدين من الأئمة على الدعاء بأثر الذكر الوارد إثر تمام الصلوة و ما سعمت من ينكره إلا جاهل غير مقتدى به و رحم الله بعض الأندلسين فإنه لما انتهى إليه ذلك ألف جزءا ردا على منكره و في نوازل الصلوة أيضا من الأمور التي هي كالمعلوم بالضرورة استمرار عمل الأئمة في جميع الأقطار على الدعاء ادبار الصلوة في مساجد الجماعات و استصحاب الحال حجة و اجتماع الناس عليه في المشارق و المغارب منذ الأزمنة المتقادمة من غير نكير إلى هذه المدة من الأدلة على جوازه و استحسان الأخذ به و تأكده عند علماء الملة، باختصار."
(الرسالة: استحباب الدعوات عقيب الصلوات، المؤلفة لمولانا اشرف علي التهانوي رحمه الله، المطبوعة في جواهر الفقه للمفتي شفيع العثماني رحمه الله، المجلد لجواهر الفقه: 2، ص: 211، ط: مكتبه دار العلوم، كراتشي)
وفیه أیضاً:
"فتحصل من هذا كله أن الدعاء دبر الصلوات مسنون و مشروع في المذاهب الأربعة، لم ينكره إلا ناعق مجنون، قد ضل في سبيل هواه و وسوس له الشيطان فأغواه."
(الرسالة: استحباب الدعوات عقيب الصلوات، المؤلفة لمولانا اشرف علي التهانوي رحمه الله، المطبوعة في جواهر الفقه للمفتي شفيع العثماني رحمه الله، المجلد لجواهر الفقه: 2، ص: 214، ط: مكتبه دار العلوم، كراتشي)
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وعن كعب بن عجرة قال: إن النبي صلى الله عليه وسلم أتى مسجد بني عبد الأشهل فصلى فيه المغرب فلما قضوا صلاتهم رآهم يسبحون بعدها فقال: «هذه صلاة البيوت». رواه أبو داؤد وفي رواية الترمذي والنسائي قام ناس يتنفلون فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «عليكم بهذه الصلاة في البيوت».
وعن ابن عباس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يطيل القراءة في الركعتين بعد المغرب حتى يتفرق أهل المسجد. رواه أبو داود."
(باب السنن وفضائلھا، ج: 1، ص: 105، ط: قدیمی)
اعلاء السنن میں ہے:
" ورحم اﷲ طائفة من المبتدعة في بعض أقطار الهند حیث واظبوا علی أن الإمام ومن معه یقومون بعد المکتوبة بعد قرائتهم اللهم أنت السلام ومنك السلام الخ ثم إذا فرغوا من فعل السنن والنوافل یدعو الإمام عقب الفاتحة جهراً بدعاء مرةً ثانيةً والمقتدون یؤمنون علی ذلك وقدجری العمل منهم بذلك علی سبیل الالتزام والدوام حتی أن بعض العوام اعتقدوا أن الدعاء بعد السنن والنوافل باجتماع الإمام والمأمومین ضروري واجب حتی أنهم إذا وجدوا من الإمام تاخیراً لأجل اشتغاله بطویل السنن والنوافل اعترضوا علیه قائلین: إنا منتظرون للدعاء ثانیاً وهو یطیل صلاته وحتی أن متولي المساجد یجبرون الإمام الموظف علی ترویج هذا الدعاء المذکور بعد السنن والنوافل علی سبیل الالتزام، ومن لم یرض بذلك یعزلونه عن الإمامة ویطعنونه ولایصلون خلف من لایصنع بمثل صنیعهم، وأیم ﷲ! أن هذا أمر محدث في الدین… وأیضاً ففي ذلك من الحرج ما لایخفی وأیضاً فقد مرّ أن المندوب ینقلب مکروهاً إذا رفع عن رتبته لأن التیمن مستحب في کل شيء من أمور العبادات لکن لماخشي ابن مسعود أن یعتقدوا وجوبه أشار إلی کراهته. فکیف بمن أصرّ علی بدعة أومنکر؟… کان ذلك بدعة في الدین محرمة."
(الدعاء بعد الصلوات، ج: 3، ص: 205، ط: قدیمی)
فتاوی شامی میں ہے:
"ويكره تأخير السنة إلا بقدر اللهم أنت السلام إلخ. قال الحلواني: لا بأس بالفصل بالأوراد واختاره الكمال. قال الحلبي: إن أريد بالكراهة التنزيهية ارتفع الخلاف قلت: وفي حفظي حمله على القليلة؛ ويستحب أن يستغفر ثلاثاً ويقرأ آية الكرسي والمعوذات ويسبح ويحمد ويكبر ثلاثاً وثلاثين؛ ويهلل تمام المائة ويدعو ويختم بسبحان ربك.
(قوله: إلا بقدر اللهم إلخ) لما رواه مسلم والترمذي عن عائشة قالت «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لايقعد إلا بمقدار ما يقول: اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» وأما ما ورد من الأحاديث في الأذكار عقيب الصلاة فلا دلالة فيه على الإتيان بها قبل السنة، بل يحمل على الإتيان بها بعدها؛ لأن السنة من لواحق الفريضة وتوابعها ومكملاتها فلم تكن أجنبية عنها، فما يفعل بعدها يطلق عليه أنه عقيب الفريضة.
وقول عائشة بمقدار لايفيد أنه كان يقول ذلك بعينه، بل كان يقعد بقدر ما يسعه ونحوه من القول تقريباً، فلاينافي ما في الصحيحين من «أنه صلى الله عليه وسلم كان يقول في دبر كل صلاة مكتوبة: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولاينفع ذا الجد منك الجد» وتمامه في شرح المنية، وكذا في الفتح من باب الوتر والنوافل (قوله: واختاره الكمال) فيه أن الذي اختاره الكمال هو الأول، وهو قول البقالي. ورد ما في شرح الشهيد من أن القيام إلى السنة متصلا بالفرض مسنون، ثم قال: وعندي أن قول الحلواني لا بأس لا يعارض القولين لأن المشهور في هذه العبارة كون خلافه أولى، فكان معناها أن الأولى أن لايقرأ قبل السنة، ولو فعل لا بأس، فأفاد عدم سقوط السنة بذلك، حتى إذا صلى بعد الأوراد تقع سنة لا على وجه السنة، ولذا قالوا: لو تكلم بعد الفرض لاتسقط لكن ثوابها أقل، فلا أقل من كون قراءة الأوراد لا تسقطها اهـ."
(کتاب الصلوة، باب صفة الصلاة، فروع قرأ بالفارسية أو التوراة أو الإنجيل، ج: 1 ص: 530 ط: ایچ ایم سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702101660
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن