بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

فرائض اور سنن کے درمیان بات چیت کرنے کا حکم


سوال

کیا نماز فرض پڑھنے کے بعد سنت یا نفل پڑھنے سے پہلے گفتگو کرنا جائز ہے؟

براہ کرم دلیل کے ساتھ رہنمائی فرما دیں ، کیوں کہ  مجھے بتایا گیا ہے کہ گفتگو کرنا جائز نہیں ہے، نماز فاسد ہو جاتی ہے۔

جواب

صورت مسئولہ میں فرض نماز کے بعد سنن اور نوافل پڑھنے سے پہلے گفتگو کرنا  ناجائز تو نہیں، البتہ بلا عذر بات چیت کرنے سے ثواب میں کمی آجاتی ہے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(ولو تكلم بين السنة والفرض لا يسقطها ولكن ينقص ثوابها) وقيل تسقط."

"(قوله ولو تكلم إلخ) وكذا لو فصل بقراءة الأوراد لأن السنة الفصل بقدر " اللهم أنت السلام إلخ " حتى لو زاد تقع سنة لا في محلها المسنون كما مر قبيل فصل الجهر بالقراءة.

(قوله وقيل تسقط) أي فيعيدها لو قبلية، ولو كانت بعدية فالظاهر أنها تكون تطوعا، وأنه لا يؤمر بها على هذا القول تأمل."

(کتاب الصلاۃ، باب الوتر والنوافل، ج : 2، ص : 19، ط : سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"ولو تكلم بعد الفريضة هل تسقط السنة؟ قيل: تسقط، وقيل: لا ولكن ثوابه أنقص من ثوابه قبل التكلم. كذا في النهاية."

(کتاب الصلاۃ، الباب التاسع في النوافل، ج : 1، ص : 113، ط : رشیدیه)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704100266

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں