
میں اپنی گلی میں بورنگ سیٹھ صاحب کے پیسوں سے کرنا چاہتا ہوں، اس پر جو خرچہ آئے گا تو میرا سیٹھ مجھے وہ پیسے مجھے زکات کی مد میں دے گا لیکن وہ کہہ رہے ہیں کہ پہلے لکھوا کر لاؤ کہ آپ پر زکات ہوتی ہے یا نہیں؟
میری ملکیت میں ایک گھر ہے ، جس میں ہم رہائش ہذیر ہیں اور ایک گاڑی ہے جسے میں چلاتاہوں اور مزدوری کرتاہوں اور اس سے اپنے گھر کا بسر ہوتا ہے، اس کے علاوہ میری ملکیت میں نہ نقد پیسے ہیں نہ ہی زمین و غیرہ۔
برائی مہربانی شرعی راہنمائی فرمائیے کہ کیا میرے لیے وہ زکات کے پیسے لےکر اس سے بورنگ بنانا جائز ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً سائل کی ملکیت میں رہائش کے گھر اور استعمال (مزدوری کے لیے )کی گاڑی کے علاوہ نقد رقم، سونا ، چاندی یا مال تجارت نصاب کے برابر موجود نہیں اور سائل سید بھی نہیں تو سائل شرعاً زکاۃ کا مستحق ہوگااور سائل کو زکاۃ دینے سے زکاۃ ادا ہوجائے گی۔
نوٹ: یہ سوال کا جواب ہے ، کسی کے حق میں سفارش یا تصدیق نہیں ۔
قرآن مجید میں ہے:
" إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ"
"ترجمہ: صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لیے اور عاملوں[زکاۃ جمع کرنے والے] کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہے اور گردنیں چھڑانے میں اور تاوان بھرنے والوں میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافر پر (خرچ کرنے کے لیے ہیں)،یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔"
(سورۃ التوبة، رقم الآیة: 60)
فتح القدیر میں ہے:
"(قوله والفقير من له أدنى شيء) وهو ما دون النصاب أو قدر نصاب غير نام وهو مستغرق في الحاجة."
(کتاب الزکاۃ،باب من يجوز دفع الصدقة إليه ومن لا يجوز، ج: 2، ص: 261، ط: دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101243
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن