
اگر ایک غریب آدمی ہے اور اس نے پچاس ہزار کا بکرا لیا قربانی کی نیت سے، اس کے بعد اس کا بکرا مر جاتا ہے یا چوری ہو جاتا ہے اور اس کے بعد دوبارہ لینے کے اس کے پاس پیسے نہیں ہیں تو اسلام میں شریعت کی رو سے اس کے لیے کیا حکم ہے؟
صورت ِِِمسئولہ میں مذکور غریب آدمی پر قربانی کے لیے دوسرا جانور خریدنالازم نہیں ہے۔
بدائع الصنائع میں ہے :
"وعلى هذا يخرج ما إذا اشترى شاة للأضحية وهو موسر، ثم إنها ماتت أو سرقت أو ضلت في أيام النحر أنه يجب عليه أن يضحي بشاة أخرى .... وإن كان معسرا فاشترى شاة للأضحية فهلكت في أيام النحر أو ضاعت سقطت عنه وليس عليه شيء آخر لما ذكرنا أن الشراء من الفقير للأضحية بمنزلة النذر فإذا هلكت فقد هلك محل إقامة الواجب فيسقط عنه وليس عليه شيء آخر بإيجاب الشرع ابتداء لفقد شرط الوجوب وهو اليسار."
(كتاب التضحية، فصل في أنواع كيفية الوجوب، ج:5، ص:66، ط:مطبعة الجمالية)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144711101835
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن