بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

فقیر کا جانور گم ہوجانے کی صورت میں حکم


سوال

اگر ایک غریب آدمی ہے اور اس نے  پچاس ہزار کا بکرا لیا قربانی کی نیت سے، اس کے بعد اس کا بکرا مر جاتا ہے یا چوری ہو جاتا ہے اور اس کے بعد دوبارہ لینے کے اس کے پاس پیسے نہیں ہیں تو اسلام میں شریعت کی رو سے اس کے لیے کیا حکم ہے؟

جواب

صورت ِِِمسئولہ میں مذکور غریب آدمی  پر قربانی کے لیے دوسرا جانور خریدنالازم نہیں ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے :

"وعلى هذا يخرج ما إذا اشترى ‌شاة ‌للأضحية وهو موسر، ثم إنها ماتت أو سرقت أو ضلت في أيام النحر أنه يجب عليه أن يضحي بشاة أخرى .... وإن كان معسرا فاشترى ‌شاة ‌للأضحية فهلكت في أيام النحر أو ضاعت سقطت عنه وليس عليه شيء آخر لما ذكرنا أن الشراء من الفقير للأضحية بمنزلة النذر فإذا هلكت فقد هلك محل إقامة الواجب فيسقط عنه وليس عليه شيء آخر بإيجاب الشرع ابتداء لفقد شرط الوجوب وهو اليسار."

(كتاب التضحية، فصل في أنواع كيفية الوجوب، ج:5، ص:66، ط:مطبعة الجمالية)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144711101835

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں