بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 محرم 1448ھ 11 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

فناءِ شہر میں واقع نئی آبادی اور متصل بستیوں میں جمعہ کے جواز کا حکم


سوال

  مانسہرہ شہر کی مغربی جانب متصل آبادی   پیٹرول پمپ پر آکر ختم ہو جاتی ہے۔ آخری پیٹرول پمپ سے تقریباً 1.5 کلومیٹر کے فاصلے پر سی پیک سڑک شروع ہوتی ہے۔ یہاں اس مقام پر ایک ٹول پلازہ، بجلی گریڈ اسٹیشن، پولیس چوکی ، بڑی گاڑیوں کے وزن کرنے کے لئے کمپیوٹر کانٹا اور بڑی 22 ویلر گاڑیوں پر سفید پتھر کی لوڈنگ ، ان لوڈنگ کا اڈا بھی ہے ۔ اور ساتھ ہی ایک آٹا مل ہے جو فی الحال بند ہے ، اور بڑے بڑے مرغی فارمز بھی ہیں۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ :

1- مذکورہ مل کے جنوبی جانب تقریباً 300 فٹ کے فاصلے پر نئی پلاٹنگ ہو رہی ہے ، جس میں اب تک تقریبا 10 گھر آباد ہو چکے ہیں ، اسی محلہ میں ایک مسجد و مدرسہ بھی ہے۔ اب اس محلہ کو فناءِ شہر میں شمار کر کے یہاں جمعہ ادا کرنا جائز ہے یا نہیں؟

2- مذکورہ بالا پیٹرول پمپ سے ٹول پلازہ تک جانے والی (1.5 کلو میٹر ) سڑک کے دائیں بائیں بھی تقریبا 60/50 مکانات ہیں جن میں مساجد بھی ہیں، ان میں جمعہ کا کیا حکم ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ صنعتی و خدماتی ادارے سے  چوں کہ اہلِ شہر کے مصالح و ضروریات   وابستہ ہیں اور یہ علاقہ شہر کی آخری حد سے ایک فرسخ کے اندر واقع ہے، اس لیے یہ پورا قطعہ فنائے شہر کے حکم میں ہے، اور فنائے شہر کے لیے شہر کے ساتھ اتصال شرط نہیں۔ لہٰذا آٹا مل کے جنوبی جانب واقع نئی آبادی ہو یا پیٹرول پمپ سے ٹول پلازہ تک سڑک کے دونوں جانب کے مکانات، دونوں جگہ کی مساجد میں جمعہ کا قیام درست ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وعبارة القهستاني تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق قال أبو القاسم: هذا بلا خلاف إذا أذن الوالي أو القاضي ببناء المسجد الجامع وأداء الجمعة لأن هذا مجتهد فيه فإذا اتصل به الحكم صار مجمعا عليه."

(کتاب الصلاۃ،باب الجمعه،ج:2،ص:138،ط:سعید)

البحر الرائق میں ہے:

"(قوله شرط أدائها المصر) أي شرط صحتها أن تؤدى في مصر حتى لا تصح في قرية، ولا مفازة لقول علي - رضي الله عنه - لا جمعة، ولا تشريق، ولا صلاة فطر، ولا أضحى إلا في مصر جامع أو في مدينة عظيمة رواه ابن أبي شيبة وصححه ابن حزم وكفى بقوله قدوة وإماما، وإذا لم تصح في غير المصر فلا تجب على غير أهله.

وفي حد المصر أقوال كثيرة اختاروا منها قولين: أحدهما ما في المختصر ثانيهما ما عزوه لأبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمه وعلمه أو علم غيره والناس يرجعون إليه في الحوادث قال في البدائع، وهو الأصح وتبعه الشارح، وهو أخص مما في المختصر، وفي المجتبى وعن أبي يوسف أنه ما إذا اجتمعوا في أكبر مساجدهم للصلوات الخمس لم يسعهم، وعليه فتوى أكثر الفقهاء وقال أبو شجاع هذا أحسن ما قيل فيه، وفي الولوالجية وهو الصحيح."

(کتاب الصلاۃ،باب صلاۃ الجمعه،ج:2،ص:151،152،ط:دار الکتاب الاسلامی)

فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:

"اگر قصبہ کے حدود میں جمعہ پڑھیں تو صحیح ہے اور جو دیہات متصل قصبہ کے ہیں ان میں جائز نہیں ہے اور مراد حدود قصبہ سے فناء شہر ہے جس میں قصبہ کے کاروبار ہوتے ہیں جیسے رکضِ خیل وغیرہ."

(کتاب الصلوٰۃ،الباب الخامس عشر فی صلوٰۃ الجمعہ ج:5،ص:41،ط:دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712100378

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں