بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شوال 1445ھ 21 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

فلسطینی مسلمان بھائیوں کے لیے مشکل کی اس گھڑی میں روزہ رکھنا


سوال

آج کل فلسطین پر اسرائیل مسلسل بمباری کر رہا ہے، کیا اپنے ان مسلمان بہن بھائیوں کی مدد کے لئے روزہ رکھنا اور دوسروں سے روزہ رکھنے کی اپیل کرنا جائز ہے؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں فلسطینی مسلمانوں  کے لیے روزہ رکھنا جائز ہے ،اور دوسروں کو   بھی ترغیب دی جاسکتی ہے کہ روزہ رکھ کر فلسطینی مسلمانوں کے لیے دعا کی جائے، اب اگر کوئی روزہ رکھنا چاہے تو اپنی سہولت سے کسی بھی دن روزہ رکھ لے،اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ سے دعائیں بھی کر یں ،البتہ  اس روزہ کو اپنے  یا دوسروں پرلازم نہ سمجھا جائے ،اور نہ ہی کسی مخصوص دن کا التزام کیا جائے۔

صحیح بخاری میں ہے:

"عن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (‌من ‌أحدث في أمرنا هذا ما ليس فيه فهو رد)."

(كتاب الصلح، باب: إذا اصطلحوا على صلح جور فالصلح مردود، ج: 2، ص: 959، رقم: 2550، ط: دار اليمامة )

وفي البحر لابن النجيم :

"ولأن ذكر الله تعالى إذا قصد به التخصيص بوقت دون وقت أو بشيء دون شيء لم يكن ‌مشروعا حيث لم يرد الشرع به؛ لأنه خلاف المشروع."

(كتاب الصلوة ،باب العيدين ،باب مايفعله عيد الفطر،ج:2،ص:172 ،ط:دارالكتب العلمية)

وفي العقود الدرية  في الفتاوي الحامدية:

"‌كل ‌مباح يؤدي إلى زعم الجهال سنية أمر أو وجوبه فهو مكروه."

(‌‌فائدة الاعتماد على ما وقع في كتبنا من العبارات الفارسية،ج:2،ص:333 ،ط:دارالمعرفة)

وفي الشامية :

"لأن الجهلة يعتقدونها سنة أو واجبة وكل مباح يؤدي إليه ‌فمكروه."

(كتاب الصلوة ،باب صلوة المسافر ،ج:2،ص:120 ،ط:سعيد)

فتاوی شامی میں ہے:

"‌إذا ‌تردد ‌الحكم بين سنة وبدعة كان ترك السنة راجحا على فعل البدعة."

(‌‌كتاب الصلاة، ‌‌باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج: 1، ص: 642، ط: سعید)

الاعتصام للشاطبی میں ہے:

"وأما غير العالم وهو الواضع لها، لأنه لا يمكن أن يعتقدها بدعة، بل هي عنده مما يلحق المشروعات، كقول من جعل يوم الإثنين يصام لأنه يوم مولد النبي صلى الله عليه وسلم، وجعل الثاني عشر من ربيع الأول ملحقا بأيام الأعياد لأنه عليه السلام ولد فيه."

(الباب السادس في‌‌ أحكام البدع، فصل هل في البدع صغائروكبائر، ج: 2، ص: 548، ط: دار ابن عفان، السعودية)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144504100253

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں