
ہم ایک فلاحی فاؤنڈیشن کے تحت ایک اسکول چلا رہے ہیں، جس میں مستحق اور غریب بچوں کو او لیول کی تعلیم دی جاتی ہے ،یہ بچے کم عمر اور نابالغ ہوتے ہیں، ان کے والدین صاحب نصاب نہیں ہوتے ،ہم چاہتے ہیں کہ ان بچوں کی تعلیم پر آنے والے اخراجات کو زکوۃ کی رقم سے پورا کریں،اس سلسلے میں چند امور کے بارے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے۔
1۔کیا ہم ایک فارم تیار کر سکتے ہیں، جس میں ان بچوں کے والدین سے دستخط لے لیں کہ ان کے بچوں کی تعلیم پر جو خرچ آئے گا، وہ زکوۃ کی رقم سے ادا کیا جائے گا ؟
2۔اگر ہم زکوۃ کی رقم سے ماہانہ فیس مثلاً بیس ہزار روپے طے کرلیں اور والدین سے اس پر دستخط بھی لے لیں ،لیکن بعد میں حقیقت میں خرچ کم ہو تو کیا اضافی رقم ہم کسی اور مقصد میں استعمال کر سکتے ہیں یا وہ رقم طلباء کو واپس کرنا لازم ہوگی؟یاپھر ہم اس مہینے اتنی ہی رقم بچوں سے فیس کی مد میں لے لیں جتنا خرچہ ہوا، مثال کے طور پر اگر ایک بچے پہ 600 روپے یا 800 روپے یا1000 روپیہ خرچہ آرہا ہے، ہم ہزار ہی لیں بیس ہزار کی بجائے تو یہ بھی ٹھیک ہوگا کیونکہ دستخط ہم نے بیس ہزار روپے پہ کرایا تھا اورہم ہزارروپیہ لےرہے ہیں۔
3۔اگر دستخط فارم میں مکمل فیس بیس ہزار روپے درج ہو چکی ہو، لیکن حقیقت میں کم خرچ ہوتوکیاہم ہم اصل خرچ کے مطابق ہی زکوۃکی رقم استعمال کر سکتے ہیں؟ یا فار م میں طے شدہ رقم کی وجہ سے مکمل رقم لینا ضروری ہے؟
4۔اس صورت میں کہ سکول کے متظمین اور زکوۃ دینے والے افراد ایک ہی ہوں یعنی اسکول بھی وہی چلا رہے ہوں اور زکوٰۃ بھی وہ دےرہےہوں، تو کیا اس سے شرعی حکم میں کوئی فرق آئے گا؟ نیز اس میں ہمارا نظام ہے کہ ہم نے دو الگ الگ کمپنیاں بنا دی ہیں ،اونر تو ایک ہی ہے ، بس وہ ایک کمپنی زکوۃ دیتی ( نکالتی )ہے اور کاتب فاؤنڈیشن جو دوسری کمپنی بنائی ہے اس کے پاس چلی جاتی ہے اور وہ پھر بچوں سے جو سائن لیےہیں ،اس کےعوض واپس اپنےپاس وصول کر لیتے ہیں،یہ طریقہ کارہے۔
5۔اگر اساتذہ کی تنخواہیں ،طلباء کے دیگر تعلیمی اخراجات یا کاغذی و تعلیمی ضروریات کا خرچ طے شدہ اندازے سے کم ہو جائے، تو کیا بچی ہوئی زکوۃ کی رقم کا اسکول کی دوسری ضروریات میں استعمال کیا جا سکتا ہے یا اسے واپس مستحق طلباء کی طرف اٹھانا لازم ہے؟
ان تمام نکات پر رہنمائی درکار ہےتاکہ زکوۃ کی رقم کے رست استعمال کو یقینی بنایا جا سکے؟
1۔واضح رہے کہ زکوۃ کی ادائیگی کے درست ہونے کے لیے زکوۃ کی رقم مستحق زکوۃ کومالک بنا کر دینا شرعاً ضروری ہوتا ہے، زکوٰۃ کی رقم پر قبضہ کرنے کے بعد مستحق شخص اسے اپنی تمام جائز ضروریات میں استعمال کرنے میں آزاد ہوتا ہے، اسی طرح مستحق زکوٰۃ شخص زکوۃ وصول کرنے کے لیے اگر کسی شخص یا ادارہ کی انتظامیہ کو اپنا وکیل مقرر کر دے تو وکیل کی جانب سے زکوۃ کی رقم پر قبضہ کرنا ادائیگی زکوۃ کے لیے کافی ہوتا ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ تعلیمی ادارے میں زیرِ تعلیم طلبہ اور اور نا بالغ طلبہ کےوالد اگر مستحق ہوں،تو زکوۃ کی ادائیگی کے لیے ہر ماہ طےشدہ فیس (خواہ کم ہو یا زیادہ) کی مدمیں زکوۃ کی رقم ان کے سپرد کی جائے اور پھر انہیں فیس ادا کرنے کا پابند کیا جائے یا مستحق زکوٰۃ والدین سے ان کے نا بالغ بچوں کے داخلہ کے وقت ان کی طرف سے زکوٰة وصول کر کے ان کے بچوں کی فیس زکوٰۃ کی رقم سے ادا کرنے کا اختیار لے لیا جائے، اسی طرح مستحق بالغ طلبہ سے بھی اجازت لے لی جائے، پس ہر طالب علم کی جوفیس طے کی گئی ہو، منتظمین زکوۃ کی رقم سے مستحق بالغ طلبہ کی اور مستحق والد ین کے نابالغ بچوں کی فیس ادا کر سکتے ہیں۔
2۔فیس کی مد میں حاصل ہونے والی رقم سے مذکورہ تعلیمی ادارہ کی جملہ ضروریات ( یعنی یوٹیلٹی بلز، اساتذہ کی تنخواہیں وغیرہ) پوری کی جا سکتی ہیں ۔
3۔طےشدہ فیس وصول کی جا سکتی ہے اور وصولی کے بعد مذکورہ رقم ادارہ کے فلاح وبہبود میں صرف کی جا سکتی ہے۔
4۔جواب نمبر ایک میں درج تفصیل پر عمل کیا جائے۔
5۔فیس کی مدمیں حاصل شدہ رقم طلبہ کو واپس کرنا ضروری نہیں۔
فتاوی شامی میں ہے:
"ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه)
وفي التمليك إشارة إلى أنه لا يصرف إلى مجنون وصبي غير مراهق إلا إذا قبض لهما من يجوز له قبضه كالأب والوصي وغيرهما ويصرف إلى مراهق يعقل الأخذ كما في المحيط قهستاني."
(كتاب الزكاة، باب مصرف الزكاة والعشر، ج:2، ص:344، ط:سعید)
وفیہ ایضاً:
"ولو خلط زكاة موكليه ضمن وكان متبرعًا إلا إذا وكله الفقراء."
"(قوله إذا وكله الفقراء) لأنه كلما قبض شيئا ملكوه وصار خالطا مالهم بعضه ببعض ووقع زكاة عن الدافع."
(كتاب الزكاة، ج:2،ص:269، ط:سعید)
مجمع الأنہر میں ہے:
"و الحیلة أن یتصدق علی الفقیر ثم یأمره بفعل هذه الأشیاء فتکون لربّ المال ثواب الزکوة و للفقیر ثواب هذا التقرب."
( کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج:1، ص:328، ط: دارالکتب)
رد المحتار علي الدر المختار میں ہے:
"وهو أن يوكل المديون خادم الدائن بقبض الزكاة ثم بقضاء دينه، فبقبض الوكيل صار ملكا للموكل، ولا يسلم المال للوكيل إلا في غيبة المديون لاحتمال أن يعزله عن وكالة قضاء دينه حال القبض قبل الدفع. اهـ."
(كتاب الزكاة، ج: 1، ص: 271، ط: دار الفكر)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"و كذلك في جميع أبواب البر التي لايقع بها التمليك كعمارة المساجد و بناء القناطر و الرباطات لايجوز صرف الزكاة إلى هذه الوجوه ... (و الحيلة أن يتصدق بمقدار زكاته) على فقير، ثم يأمره بعد ذلك بالصرف إلى هذه الوجوه فيكون للمتصدق ثواب الصدقة ولذلك الفقير ثواب بناء المسجد والقنطرة ...(والحيلة في ذلك) أن يتصدق السلطان بذلك على الفقراء، ثم الفقراء يدفعون ذلك إلى المتولي يصرف ذلك إلى الرباط كذا في الذخيرة."
(کتاب الحیل، ج:6، ص:392، ط: رشيدية)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما ركن الزكاة فركن الزكاة هو إخراج جزء من النصاب إلى الله تعالى، وتسليم ذلك إليه يقطع المالك يده عنه بتمليكه من الفقير وتسليمه إليه أو إلى يد من هو نائب عنه، وكذا لو دفع زكاة ماله إلى صبي فقير أو مجنون فقير وقبض له وليه أبوه أو جده أو وصيهما جاز؛ لأن الولي يملك قبض الصدقة عنه."
(کتاب الزکاۃ، فصل: رکن الزکاۃ، ج:4، ص:39، ط:دار الکتب العلمیۃ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701101788
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن