
ہماری میمن کمیونٹی کی فلاحی جماعت ہے، جس میں زکوٰۃ اور ڈونیشن (نفلی صدقہ) کا ایک ہی اکاؤنٹ ہے، کچھ مسائل کی وجہ سے الگ اکاؤنٹ نہیں ہے، اور بینک اکاؤنٹ اسلامک سیونگ اکاؤنٹ ہے، جس میں نفع ملتا ہے، معلوم یہ کرنا کہ زکوٰۃ کی رقم پر جو نفع ملے گا ، اسے زکوٰۃ میں شامل کریں گے یا وہ کسی بھی مصرف میں استعمال کرسکتے ہیں؟
صورت مسئولہ میں زکوۃ اور نفلی صدقہ کی رقم کا اگر حساب الگ الگ ہو تو بینک میں ایک اکاؤنٹ میں رقم جمع ہونے میں مضائقہ نہیں ہے، لیکن یہ رقم بینک کے منافع بخش اکاؤنٹ میں رکھوانا جائز نہیں ہے، اور اس کا نفع بھی حلال نہیں ہے، کیوں کہ یہ سودی معاملہ ہے، اور سود لینا، دینا دونوں ناجائز اور حرام ہے، نیزادارے والوں کے پاس یہ رقم زکوٰۃ اور عطیہ دینے والوں کی امانت ہے، ان کی ذمہ داری ہے کہ یہ رقم مستحقین تک پہنچائیں، اس کو بینک کے منافع بخش اکاؤنٹ میں رکھوانے سے زکوٰۃ دینے والوں کی زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی، جب تک کہ یہ مستحقین تک نہ پہنچ جائے۔
نیز مروجہ غیر سودی بینکوں کا طریقہ کار شرعی اصولوں کے مطابق نہیں ہے، اور مروجہ غیر سودی بینک اور روایتی بینک کے بہت سے معاملات درحقیقت ایک جیسے ہیں، اس لیے روایتی بینکوں کی طرح ان سے بھی تمویلی معاملات کرنا جائز نہیں ہے، ضرورت پر صرف ایسا اکاؤنٹ استعمال کیا جاسکتا ہے جس میں منافع نہ ملتا ہو ( مثلا کرنٹ اکاؤنٹ یا لاکرز وغیرہ)۔
لہذا مذکورہ کمیونٹی پر لازم ہے کہ وہ بینک کا مذکورہ سیونگ اکاؤنٹ بند کروادے ، اس لیے کہ ایسا اکاؤنٹ کھلوانا جائز هي نہیں ہے، اگر ضرورت ہو تو ایسا اکاؤنٹ کھلوائے جس میں منافع نہ ملتا ہو۔ باقی اب تک جو اس اکاؤنٹ سے نفع کے نام پر جو رقم وصول ہوگئي هے، وہ بھی ثواب کی نیت کے بغیر کسی مستحقِ زکوٰۃ کو دے دے، اس کا مصرف وہی زکوٰۃ والا ہے، البتہ اس میں ثواب کی نیت نہ ہو بلکہ حرام سے گلوخلاصی کی نیت ہو۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
" وأما حكمها فوجوب الحفظ على المودع وصيرورة المال أمانة في يده ووجوب أدائه عند طلب مالكه، كذا في الشمني.
الوديعة لاتودع ولاتعار ولاتؤاجر ولاترهن، وإن فعل شيئًا منها ضمن، كذا في البحر الرائق."
(كتاب الوديعة، الباب الأول في تفسير الإيداع الوديعة وركنها وشرائطها وحكمها،4/ 338، ط: رشيدية)
عمدة القاری ميں ہے:
"وقال الخطابي كل شيء يشبه الحلال من وجه والحرام من وجه هو شبهة والحلال اليقين ما علم ملكه يقينا لنفسه والحرام البين ما علم ملكه لغيره يقينا والشبهة ما لايدري أهو له أو لغيره فالورع اجتنابه ثم الورع على أقسام واجب كالذي قلناه ومستحب كاجتناب معاملة من أكثر ماله حرام ومكروه كالاجتناب عن قبول رخص الله والهدايا."
(کتاب البیوع ،باب تفسير المشبهات، 11 /236، ط: دارالكتب العلمية)
احکام القرآن للجصاص میں ہے:
"وعلى أن النهي عن أكل مال الغير معقود بصفة وهو أن يأكله بالباطل، وقد تضمن ذلك أكل أبدال العقود الفاسدة كأثمان البياعات الفاسدة."
(باب التجارات وخیار البیع، 3 /128، ط: دار إحياء التراث العربي)
اعلاء السنن میں ہے:
"قال ابن المنذر: أجمعوا علی أن المسلف إذا شرط علی المستسلف زیادةً أو هديةً، فأسلف علی ذلك إن أخذ الزیادة علی ذلك ربا."
(کتاب الحوالة، باب کل قرض جر منفعة، 14/ 513، ط: ادارة القرآن)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144705101673
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن