بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ذو الحجة 1447ھ 11 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

فاختہ کا گھر کی چھت وغیرہ میں گھونسلہ بنانے اور انڈے دینے کاحکم


سوال

فاختہ نے گھر کے کار پورچ میں انڈے دیے ہیں، اُن کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

شریعت  مطہرہ میں جانوروں اور پرندوں کو بلاوجہ اور بے جا تکلیف دینے سے منع کیا گیا ہے، البتہ اگر اُن سے تکلیف پہنچ رہی ہو تو مناسب طریقے سے اسے دور کرنے کی تدبیر اختیار کی  کیا جا سکتی ہے۔  صورتِ مسئولہ میں فاختہ وغیرہ جب کسی گھر یا دوکان میں گھونسلا بنائے اور اس میں انڈے دےدے  یا اس کے بچے ہوجائيں تو صفائی کی نیت سے اسے ضائع  نہیں  کرناچاہیئے، بلکہ اگر اسی جگہ رکھنا ممکن ہو تو بہت بہتر ، ورنہ  قريب ميں کسی ایسی جگہ  ميں منتقل کردیے جائیں، جہاں وہ محفوظ رہیں اور پرندے اپنے انڈوں کے پاس اور اپنے گھونسلے میں آ، جاسکیں۔

سنن ابی داؤد میں ہے :

"عن سهل ابن الحنظلية قال: «مر رسول الله صلى الله عليه وسلم ببعير قد لحق ظهره ببطنه، قال: اتقوا الله في هذه البهائم المعجمة، فاركبوها صالحة وكلوها صالحة."

(باب ما يؤمر به من القيام على الدواب والبهائم،ج:3َ،ص:23، رقم الحدیث:2548،ط:المكتبة العصرية بیروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"ولا ينبغي الكتابة على جدرانه ولا بأس برمي عش خفاش وحمام لتنقيته.

(قوله ولا ينبغي الكتابة على جدرانه) أي خوفا من أن تسقط وتوطأ بحر عن النهاية (قوله خفاش) كرمان: الوطواط قاموس (قوله لتنقيته) جواب سؤال؛ حاصله أنه قال - صلى الله عليه وسلم - «أقروا الطير على مكانتها» فإزالة العش مخالفة للأمر فأجاب بأنه للتنقية وهي مطلوبة، فالحديث مخصوص بغير المساجد ۔"

(‌‌كتاب الصلاة‌‌، باب ما يفسد الصلاة،مطلب في أفضل المساجد، ج:1، ص:663، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712100375

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں