
فجوة الجنت نام رکھنا کیسا ہے؟ یہ نام رکھنا ٹھیک ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ "فجوۃ" کا معنی ہیں: ”دو چیزوں کے درمیان کھلی جگہ، کشادہ جگہ، گھر کا صحن“۔
لفظِ "جنت" کے لغوی معنی: ”گھنے باغ“ کے ہیں۔
لہذا معنی کے اعتبار سے یہ نام رکھنے کی اگرچہ گنجائش ہے، تاہم بہتر یہ ہے کہ مذکورہ نام کے بجائے کوئی اور اچھا بامعنی نام رکھا جائے، جب کہ نام رکھنے کے حوالے سے اسلامی تعلیما ت بھی یہی ہے کہ ایسا نام رکھا جائے، جس کا معنی عمدہ ہو یا صحابیات رضی اللہ عنہن کے اسماء میں سے کوئی نام یا صالحات امت رحمہن اللہ کے نام پر کوئی نام ہو،اور ان برگزیدات ہستیات کی نسبت سے نام رکھنا باعث سعادت وبر کت بھی ہے ۔ نیز جامعہ کی ویب سائٹ پر ناموں کی فہرست حروف تہجی کے اعتبار سے موجود ہے، وہاں سے دیکھ کر بھی نام رکھ سکتے ہیں۔
المعجم الوسیط میں ہے:
"(الجنة) الحديقة ذات النخل والشجر والبستان ودار النعيم في الآخرة (ج) جنان."
(باب الجيم، ج: 1، ص: 141، ط: دار الدعوة)
الصحاح تاج اللغہ وصحاح العربیہ میں ہے:
"[فجا] الفجوة: الفرجة والمتسع بين الشيئين. تقول منه: تفاجى الشئ، أي صار له فجوة. وفجوة الدار: ساحتها."
(باب الواو والياء، فصل الفاء، ج: 6، ص: 2452، ط: دار العلم للملايين - بيروت)
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وعن أبي وهب الجشمي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «تسموا أسماء الأنبياء وأحب الأسماء إلى الله عبد الله وعبد الرحمن وأصدقها حارث وهمام أقبحها حرب ومرة». رواه أبو داود."
ترجمہ: "حضرت ابو وہب جشمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انبیاء کے ناموں پر نام رکھو۔ اور اللہ کے ہاں سب سے پسندیدہ ناموں میں سے ”عبداللہ“ اور ”عبدالرحمٰن“ ہے، اور مصداق کے اعتبار سے سب سے سچے نام ”حارث“ اور ”ہمام“ ہیں۔ اور سب سے برے نام ”حرب“ اور ”مرہ“ ہیں"۔
(كتاب الآداب، باب الأسامي، الفصل الثالث، ج: 3، ص: 1349، رقم: 4782، ط: المكتب الإسلامي - بيروت)
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وعن أبي الدرداء قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «تدعون يوم القيامة بأسمائكم وأسماء آبائكم فأحسنوا أسمائكم» رواه أحمد وأبو داود."
ترجمہ:"حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن تم اپنے اوراپنے آباء کے ناموں سے پکارے جاؤگے لہذا اچھے نام رکھاکرو۔"
(كتاب الآداب، باب الأسامي، الفصل الثاني، ج: 3، ص: 1347، رقم: 4768، ط: المكتب الإسلامي)
محیطِ برہانی میں ہے:
وفي «الفتاوى» : التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في كتابه ولا ذكره رسول الله عليه السلام، ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه، والأولى أن لا تفعل."
(كتاب الاستحسان والكراهية، الفصل الرابع والعشرون في تسمية الأولاد وكناهم، ج: 5، ص: 382، ط: دار الكتب العلمية)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144706102068
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن