بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

فجر کی نماز کی قضاء


سوال

مجھ سے اکثر فجر کی نماز قضا ہو جاتی ہے تو قضا کی نماز کیسی پڑھی جائے خاص کر فجر کی؟

جواب

نمازوں کو اپنے مقررہ اوقات میں باجماعت ادا کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے، اور جماعت کی نماز اکیلے نماز پڑھنے پر کئی گنا فضیلت اور اجر رکھتی ہے۔ جان بوجھ کر نماز قضا کرنا سخت گناہ کبیرہ ہے، احادیثِ مبارکہ میں اس پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ فجر کے لئے آنکھ نہ کھلنے میں انسان کے اپنے فعل کا بڑا دخل ہے، رات تاخیر سے سونے کا معمول بنانے سے اکثر فجر کی نماز قضا ہو جاتی ہے۔ لہٰذا فجر کی نماز مقررہ وقت میں جماعت کے ساتھ ادا کرنے کا اہتمام کریں۔ البتہ اگر کسی عذر کی وجہ سے یا اہتمام کے باوجود آنکھ نہ کھلنے کی وجہ سے نماز فجر قضا ہو جائے، تو ظہر سے پہلے بھی ادا کرسکتے ہیں اور ظہر کے وقت داخل ہونے کے بعد بھی۔ اگر اسی دن ظہر کی نماز کا وقت داخل ہونے سے پہلے پہلے ادا کریں تو سنت اور فرض دونوں ادا کی جائیں گی، اور اگر کسی دن فجر کی نماز قضا ہوگئی، اور ظہر کے وقت سے پہلے ادا نہ کرسکے اور ظہر کا وقت داخل ہوگیا، تو اب صرف فرض کی قضا کی جائے گی۔ لیکن نماز کی قضا کرلینے کو معمول بنا لینا سخت گناہ ہے۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " والذي نفسي بيده لقد هممت أن آمر بحطب فيحطب ثم آمر بالصلاة فيؤذن لها ثم آمر رجلا فيؤم الناس ثم أخالف إلى رجال. وفي رواية: لا يشهدون الصلاة فأحرق عليهم بيوتهم والذي نفسي بيده لو يعلم أحدهم أنه يجد عرقا سمينا أو مرماتين حسنتين لشهد العشاء ". رواه البخاري ولمسلم نحوه."( 1053)

( كتاب الصلاة، باب الجماعة وفضلھا، الفصل الأول، ج: 1، ص: 332، ط: المكتب الإسلامي)

ترجمہ:"حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں كہ رسول كریمﷺ نے ارشاد فرمایا قسم ہے اس ذات كی جس كی قبضہ قدرت میں میری جان ہے،میں نے ارادہ كیا كہ كسی خادم كو لكڑیاں جمع كرنے كا حكم دوں، جب لكڑیاں جمع ہوجائیں ،تو عشاء کی نماز کے لئے اذان کہنے کا حکم دوں،جب اذان ہوجاۓ تو کسی شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھاۓ، پھر میں ان لوگوں کی طرف جاؤں جو جماعت کی نماز کے لئے نہیں آتے،اور ایک روایت میں اس طرح مذکورہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا  میں ان لوگوں کے پاس جاؤں جو نماز کے لئے حاضر نہیں ہوتے، اور ان کے گھروں کو آگ لگادوں، اور قسم ہے اس ذات کی جس کی قبضہ قدرت میں میری جان ہےاگر کسی کو یہ معلوم ہو کہ مسجد میں گوشت کی اچھی ہڈی یا گاۓ اور بکری کے دو اچھے کُھر مل جائیں گے تو عشاء کی نماز میں وہ لوگ ضرور حاضر ہوں گے۔"( مظاہر حق)

بخاری شریف میں ہے: 

" قال: سألت النبي صلى الله عليه وسلم: أي العمل أحب إلى الله؟ قال: (الصلاة على وقتها). قال: ثم أي؟ قال: (ثم بر الوالدين). قال: ثم أي؟ قال: (الجهاد في سبيل الله). قال: حدثني بهن، ولو استزدته لزادني. "(504)

( کتاب الصلاۃ، باب: فضل الصلاۃ لوقتھا، ج: 1، ص: 197، ط: دارابن کثیر)

ترجمه: '' حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ  ایک شخص نے آں حضرت صلی اللہ علیہ  وسلم سے پوچھا کہ کون سا عمل افضل ہے؟ آپ نے فرمایا : نماز اپنے وقت پر پڑھنا اور والدین کے ساتھ نیکی کرنا، پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ ''

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(ولا يقضيها إلا بطريق التبعية ل) قضاء (فرضها قبل الزوال لا بعده في الأصح).

وفي الرد: "(قوله ولا يقضيها إلا بطريق التبعية إلخ) أي لا يقضي سنة الفجر إلا إذا فاتت مع الفجر فيقضيها تبعا لقضائه لو قبل الزوال؛ وما إذا فاتت وحدها فلا تقضى قبل طلوع الشمس بالإجماع، لكراهة النفل بعد الصبح. وأما بعد طلوع الشمس فكذلك عندهما. وقال محمد: أحب إلي أن يقضيها إلى الزوال كما في الدرر. قيل هذا قريب من الاتفاق لأن قوله أحب إلي دليل على أنه لو لم يفعل لا لوم عليه. وقالا: لا يقضي، وإن قضى فلا بأس به، كذا في الخبازية؛ ومنهم من حقق الخلاف وقال الخلاف في أنه لو قضى كان نفلا مبتدأ أو سنة، كذا في العناية يعني نفلا عندهما سنة عنده كما ذكره في الكافي إسماعيل (قوله لقضاء فرضها) متعلق بالتبعية؛ وأشار بتقديرالمضاف إلى أن التبعية في القضاء فقط، فليس المراد أنها تقضى بعده تبعا له بل تقضى قبله تبعا لقضائه."

( كتاب الصلاة، باب إدراك الفريضة، ج: 2، ص: 57، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711102180

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں