بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ذو الحجة 1443ھ 04 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

فجر کی نماز قضا کرنے کا وقت اور سنت کی قضا کا حکم


سوال

فجر کی نماز صبح  9  بجے قضا پڑھ   سکتے  ہیں ؟اور اگر  پڑھ  سکتے ہیں تو سنت بھی قضا پڑھنی پڑے گی یا صرف فرض؟

جواب

اگر فجر کی نماز قضا ہو جائے تو سورج نکلنے کے بعد اشراق کا وقت ہوتے ہی اُس کی قضا کرلینا درست ہے، بلکہ جلد از جلد قضا کر لینی چاہیے 9 بجے بھی جائز ہے، اور فجر کی قضا اسی دن کے  زوال سے پہلے کرنے کی صورت میں سنت بھی پڑھی جائے گی، البتہ اگر  اس دن کے زوال کے بعد (جب بھی) قضا کی جا رہی ہو تو پھر سنت کی قضا نہیں کی جائے گی۔ 

 اگر ظہر  تک بھی فجر کی قضا نہیں کر پایاتو ظہر سے پہلے ضرورقضا کر لینی چاہیے، تاکہ غفلت نہ ہو۔ البتہ جو شخص صاحبِ ترتیب ہو یعنی اس  پر  چھ نمازوں سے کم نمازیں باقی ہوں،تو ایسے شخص کے لیے ظہر سے پہلے فجر کی قضا  نماز پڑھنا واجب ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 57):

"(ولايقضيها إلا بطريق التبعية ل) قضاء (فرضها قبل الزوال لا بعده في الأصح)؛ لورود الخبر بقضائها في الوقت المهمل. 

(قوله: ولايقضيها إلا بطريق التبعية إلخ) أي لايقضي سنة الفجر إلا إذا فاتت مع الفجر؛ فيقضيها تبعاً لقضائه لو قبل الزوال، وما إذا فاتت وحدها فلاتقضى قبل طلوع الشمس بالإجماع؛ لكراهة النفل بعد الصبح. وأما بعد طلوع الشمس فكذلك عندهما. وقال محمد: أحب إلي أن يقضيها إلى الزوال، كما في الدرر. قيل: هذا قريب من الاتفاق؛ لأن قوله: "أحب إلي" دليل على أنه لو لم يفعل لا لوم عليه. وقالا: لايقضي، وإن قضى فلا بأس به، كذا في الخبازية. ومنهم من حقق الخلاف وقال: الخلاف في أنه لو قضى كان نفلاً مبتدأً أو سنةً، كذا في العناية يعني نفلاً عندهما، سنةً عنده، كما ذكره في الكافي إسماعيل"

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144210201176

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں