بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1447ھ 05 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

فجر اور عصر کے بعد مقتدیوں کا امام سے سلام و مصافحہ


سوال

 نماز فجر اورعصر کے بعد نمازی حضرات اور تعلق والوں کا امام صاحب کو اور آپس میں سلام و مصافحہ کرنے کو فقہاء کرام نے بدعت اور مکر وہ لکھا ہے ، اس وجہ سے کہ لوگوں کے بارے میں یہ خطرہ ہو سکتا ہے کہ اس مواظبت کی وجہ سے وہ اس کو سنت سمجھنے لگیں گے۔

اس حوالے سے چند سوالات کے جوابات مطلوب تھے، برائے کرم تمام سوالات کے جوابات عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔

(1) آیا صرف اس خطرے کی وجہ سے یہ با قاعدہ بدعت اور مکر وہ شمار ہو گا ؟ یا اس خطرے کی وجہ سے حکم فقط یہ ہو گا کہ اس مواظبت سے اجتناب کیا جائے البتہ بدعت نہیں کہہ سکتے ؟ ( وضاحت فرمادیں)۔

(2) کیا اگر اس اہتمام کی وجہ یہ ہو کہ بعض محبت والے اور تعلق والے جو دن بھر اپنی معاشی یا دیگر مشغولیات میں مصروف ہوتے ہیں اور دیگر نمازوں میں یا دیگر اوقات میں ملاقات نہیں کر پاتے اور چاہت یہ ہوتی ہے کہ دن میں ایک دو مرتبہ ملاقات ہو جائے، تو اب اگر اس ملاقات کے وقت سلام و مصافحہ بھی ہو جائے تو کیا حکم ہے ؟ جبکہ اس سلام و مصافحہ کے خاص اس وقت میں کرنے کو سنت ولازم بھی نہ سمجھا جائے، بلکہ دیر ینہ تعلق کی وجہ سے فقط ملاقات مقصود ہو۔

(3) کیا ایسے موقع پر امام مسجد سے اگر کوئی سلام و مصافحہ کرے تو کیا وہ ہاتھ کھینچ لے ؟ اور مصافحہ نہ کرے ؟

جواب

مصافحہ   ملاقات کے وقت سلام کے بعد مسنون اور مشروع ہے،ملاقات کے علاوہ کسی اور وقت میں بالخصوص فجر اور عصر کے بعد مقتدیوں کا امام سے  مصافحہ کو ثواب سمجھنا،اس  کا التزام کرنا  اور نہ کرنے والے کو ملامت کرنا یہ بدعت ہے ؛آپ صلی  اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں اس عمل کا رواج نہیں تھا، بعد میں روافض نے شروع کیا ،یہ روافض کی بدعت ہے،لہذا اس سے اجتناب کرنا لازم ہے ۔

1۔جیسا کہ  اوپر ذکر ہوا کہ حکم کا مدار اعتقاد اور التزام پر ہے،یعنی  نماز کے بعد امام سے  مصافحہ کرنے کو ثواب سمجھنا اور اس  کا التزام کرنابدعت ہے ،لہذا اگر مواظبت نہ کی جائے  اور خاص نماز کے بعد مصافحہ کرنے کو ثواب نہ سمجھا جائے  کبھی کبھار سلام و مصافحہ کرلیا جائے تو یہ بدعت شمار نہیں ہوگا۔

2۔اگر کوئی  مقتدی امام سےتعلق کی بناء پر   ملاقات کرتا ہے اور ملاقات کی نیت سے پہلے سلام اور مصافحہ کرتا ہے  جیسے دیگر اوقات میں ملاقات کے وقت مصافحہ کرتا ہے تو یہ ممنوع نہیں ہے۔البتہ اس میں بھی یہ کوشش کرنی چاہئے کہ التزام نہ ہو،نمازوں کے بعد بالخصوص فجر اور عصر کی نماز کے بعد کبھی کبھی اس ملاقات کو ترک کردیں ،تاکہ عام لوگوں کو اس کے دین کا حصہ ہونے کا اعتقاد نہ ہو۔

3۔اگر بغیر ملاقات کے قصد کے کوئی شخص صرف مصافحہ کرنے آتا ہے، اور امام یہ سمجھتا ہو کہ یہ ثواب کی نیت سے اس امر کا التزام کررہا ہے ، اس صورت میں  امام ہاتھ نہ کھینچے البتہ اسے حکمت کے ساتھ سمجھادے کہ یہ عمل بدعت ہے ، اس سے آئندہ اجتناب کریں ۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"(كالمصافحة) أي كما تجوز المصافحة لأنها سنة قديمة متواترة لقوله - عليه الصلاة والسلام - «من صافح أخاه المسلم وحرك يده تناثرت ذنوبه» وإطلاق المصنف تبعا للدرر والكنز والوقاية والنقاية والمجمع والملتقى وغيره يفيد جوازها مطلقا ولو بعد العصر وقولهم إنه بدعة أي مباحة حسنة كما أفاده النووي في أذكاره وغيره في غيره وعليه يحمل ما نقله عنه شارح المجمع من أنها بعد الفجر والعصر ليس بشيء توفيقا فتأمله.

(قوله كما أفاده النووي في أذكاره) حيث قال اعلم أن المصافحة مستحبة عند كل لقاء، وأما ما اعتاده الناس من المصافحة بعد صلاة الصبح والعصر، فلا أصل له في الشرع على هذا الوجه ولكن لا بأس به فإن أصل المصافحة سنة وكونهم حافظوا عليها في بعض الأحوال، وفرطوا في كثير من الأحوال أو أكثرها لا يخرج ذلك البعض عن كونه من المصافحة التي ورد الشرع بأصلها اهـ قال الشيخ أبو الحسن البكري: وتقييده بما بعد الصبح والعصر على عادة كانت في زمنه، وإلا فعقب الصلوات كلها كذلك كذا في رسالة الشرنبلالي في المصافحة، ونقل مثله عن الشمس الحانوتي، وأنه أفتى به مستدلا بعموم النصوص الواردة في مشروعيتها وهو الموافق لما ذكره الشارح من إطلاق المتون، لكن قد يقال إن المواظبة عليها بعد الصلوات خاصة قد يؤدي الجهلة إلى اعتقاد سنيتها في خصوص هذه المواضع وأن لها خصوصية زائدة على غيرها مع أن ظاهر كلامهم أنه لم يفعلها أحد من السلف في هذه المواضع، وكذا قالوا بسنية قراءة السور الثلاثة في الوتر مع الترك أحيانا لئلا يعتقد وجوبها ونقل في تبيين المحارم عن الملتقط أنه ‌تكره ‌المصافحة بعد أداء الصلاة بكل حال، لأن الصحابة - رضي الله تعالى عنهم - ما صافحوا بعد أداء الصلاة، ولأنها من سنن الروافض اهـ ثم نقل عن ابن حجر عن الشافعية أنها بدعة مكروهة لا أصل لها في الشرع، وأنه ينبه فاعلها أولا ويعزر ثانيا ثم قال: وقال ابن الحاج من المالكية في المدخل إنها من البدع، وموضع المصافحة في الشرع، إنما هو عند لقاء المسلم لأخيه لا في أدبار الصلوات فحيث وضعها الشرع يضعها فينهى عن ذلك ويزجر فاعله لما أتى به من خلاف السنة اهـ.

ثم أطال في ذلك فراجعه (قوله وغيره في غيره) الضمير الأول للنووي والثاني لكتاب الأذكار (قوله وعليه يحمل ما نقله عنه) أي عن النووي في شرحه على صحيح مسلم كما صرح به ابن ملك في شرح المجمع فافهم. أقول: وهذا الحمل بعيدا جدا والظاهر أنه مبني على اختلاف رأي الإمام النووي في كتابيه، وأنه في شرح مسلم نظر إلى ما يلزم عليه من المحظور، وإلى أن ذلك بخصوصه غير مأثور ولا سيما بعدما قدمناه عن الملتقط من أنها من سنن الروافض والله أعلم."

 (کتاب الحضر و الاباحۃ،6/ 381،ط:سعید)

کفایت المفتی میں ہے:

’’نماز فجر کے بعد مصافحہ کرنے کا طریقہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں نہیں تھا اور اس کا رواج دینا اور التزام کرنا بدعت ہے۔‘‘

(ج:9،ص:107،ط:دار الاشاعت )

فتاوی رحیمیہ میں ہے:

’’بہرحال اصل مسئلہ یہی ہے، البتہ لوگوں کے حالات بہت نازک ہوچکے ہیں، مزاج بگڑچکے ہیں، بات بات پر لڑائیاں ہوتی ہیں، بدگمانیاں پھیلتی ہیں، لہذا رفعِ فتنہ کے طور علماء نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر کوئی مصافحہ کے  لیے ہاتھ بڑھائے تو اپنا ہاتھ کھینچ کر ایسی صورت پیدا نہ کرنا چاہیے کہ اسے بدگمانی ، شکایت اور رنج ہو‘‘۔

(ج:2،ص:228،ط:دار الاشاعت )

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703101991

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں