بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

فجر کی نماز کے لئے کوشش کے باوجود جاگ نہ ہو تو کیا کرنا چاہیے ؟


سوال

 میں دین کا ادنی سا طالب علم ہوں، اللّٰہ تعالیٰ نے مجھ پر بڑا فضل کیا ہوا کہ مجھے بڑے  گناہوں سے بچا یاہوا ہے، الحمدللہ نماز بھی جماعت کے ساتھ پڑھتا ہوں، پوری کوشش ہوتی ہے کہ جماعت ترک نہ ہو ، لیکن تقریبا دو تین سالوں سے فجر کی نماز اکثر قضا ہو جاتی ہے، یا گھر پر ہی پڑھ لیتا ہوں ، تقریبا مہینہ میں ایک دفعہ مسجد جانا ہوجاتا ہے،رات سونے سے پہلے دو، دو الارم لگاتا ہوں، لیکن پھر بھی صبح اٹھنے کی توفیق نہیں ہوتی، اورکلاس کےلیے آنکھ کھل جاتی ہےسبق میں جانے سے پہلے نماز کی قضاء کرلیتا ہوں ، ہر دن دل میں پیشمانی بھی ہوتی ہے، باقی ساری نمازیں جماعت کے ساتھ اکثر تکبیر اولیٰ کے ساتھ ہی ادا کرتا ہوں ،کیا یہ میرا عمل جان بوجھ کر نماز کو ترک کرنے کے زمرے میں آئے گا ؟ جس پر احادیث مبارکہ میں وعید سنائی گئی ہے، اور مجھے کوئی عمل یا وظیفہ بھی بتا دیجیے تاکہ میری فجر کی نماز کبھی قضا نہ ہو!

جواب

فجر کے لئے آنکھ  نہ کھلنے میں انسان  کے اپنے فعل کا بڑا دخل ہے، رات تاخیر سے سونے کا معمول بنانے سے اکثر فجر قضاء جاتی ہے، رات جلد سونے سے فجر کی نماز کے لئے بیدار ہونے میں سہولت ہو گی۔

لہذا صورت مسئولہ میں سائل اگر  حتی الامکان تمام تر اسباب (الارم) اختیار کرتا ہے ،اور اس  کے باوجود  بھی آنکھ نہیں کھل پاتی تو اس صورت میں  سائل پرکوئی مؤاخذہ نہیں ہے،البتہ  جاگنے کے  بعد اگر ممنوعہ وقت نہ ہو تو نماز کی فوراً قضاء کر لینی چاہیے، اس میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔

اس سلسلے میں بزرگوں نے دو مجرب نسخے بتائے ہیں ان پر عمل کریں تو ان شاء اللہ فجر کے وقت آنکھ ضرور کھلے گی:

1۔ رات کو سونے سے پہلے دو رکعت صلاۃ الحاجت اس نیت سے پڑھ کر باوضو حالت میں سوئیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ فجر کی نماز کے لیے میری آنکھ کھول دے اور مجھے فجر باجماعت پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

2۔ سونے سے پہلے سورۃ الکہف کی آخری دو آیات پڑھ کر جس وقت بیدار ہونا ہو وہ دل میں سوچ کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں کہ اس وقت میری آنکھ کھل جائے۔

ان شاء اللہ تعالیٰ مذکورہ اعمال کرنے سے آپ کی آنکھ بروقت ضرور کھلے گی، اس کے بعد  اٹھنا اور نماز ادا کرنا آپ کے عزم وہمت پر موقوف ہوگا، پختہ عزم رکھیں گے تو ان شاء اللہ نماز کی پابندی نصیب ہوجائے گی۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے :

"وعن أبي قتادة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ليس في النوم تفريط إنما التفريط في اليقظة. فإذا نسي أحدكم صلاة أو نام عنها فليصلها إذا ذكرها" فإن الله تعالى قال: (وأقم الصلاة لذكري) رواه مسلم."

(کتاب الصلاة، باب تعجیل الصلوات، ج : 1، ص : 403، رقم الحدیث : 604، ط : بشری)

مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے :

"(وعن أبي قتادة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (ليس في النوم) : أي: في حاله (تفريط) : أي: تقصير ينسب إلى النائم في تأخيره الصلاة (إنما التفريط) : أي يوجد (في اليقظة) : أي: في وقتها بأن تسبب في النوم قبل أن يغلبه، أو في النسيان بأن يتعاطى ما يعلم ترتبه عليه غالبا كلعب الشطرنج، وأنه يكون مقصرا حينئذ، ويكون آثما (فإذا نسي أحدكم صلاة أو نام عنها ; فليصلها إذا ذكرها ") : أي: بعد النسيان أو النوم (فإن الله تعالى قال: {وأقم الصلاة لذكري} [طه: 14] : اللام فيه للوقت. قال الطيبي: الآية تحتمل وجوها كثيرة من التأويل، لكن الواجب أن يصار إلى وجه يوافق الحديث لأنه حديث صحيح، فالمعنى أقم الصلاة لذكرها يعني: وقت ذكرها. قال: لأنه إذا ذكرها فقد ذكر الله يعني أقم الصلاة إذا ذكرتنا."

(کتاب الصلاة، باب تعجیل الصلوات، ج : 2، ص : 532، ط : دار الفکر بیروت)
فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703101161

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں