
فجر میں جماعت کے وقت سنت پڑھنے پر کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ صحیح نہیں ،کیونکہ اس کے بارے میں کوئی صحیح حدیث نہیں، حالانکہ جماعت میں شامل ہونا ضروری ہوتا ہے، کیا واقعی کوئی صحیح حدیث اس بارے میں نہیں ہے؟ اور دوسری بات کہ صحابہ کرام کےدور میں جہاں تک امام کی آواز نہیں پہنچتی تھی وہاں صحابہ جماعت کی جگہ سے دور ہوکر سنت پڑھتے تھے وہ بھی ضعیف حدیث ہے ، حالانکہ ہماری مسجد چھوٹی ہے اور امام صاحب کی قرأت کی آواز آتی ہے اس لئے سنت نہیں پڑھنا چاہیے، بلکہ جماعت میں شامل ہوکر قرآن کی تلاوت سننی چاہیے کیونکہ یہ تو قرآن پاک میں ہے کہ قرآن پڑھاجاۓ تو خاموشی سے قرآن کو سنو،
مفتی صاحب ہم کس پر عمل کریں ؟
فجر کی سنتوں کے متعلق احادیثِ مبارکہ میں بہت تاکید آئی ہے ، صحیحین میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ" رسو ل اللہ ﷺ کسی نفلی عبادت کا اس قدر التزام نہ فرماتے تھے جتنا کہ فجر کی دو رکعتوں کا التزام فرماتے تھے "،سنن ابی داؤد میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ "رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ فجر کی دورکعت نہ چھوڑو اگرچہ تمھیں گھوڑے روند ڈالیں " ۔نیز ا مام طحاوی نے شرح معانی الآثار میں متعدد صحابہ اکرام رضی اللہ عنھم کا یہ عمل نقل کیا ہے کہ وہ اس وقت مسجد تشریف لائے جب فجر کی جماعت ہو رہی تھی ،انھوں نے فجر کی سنتیں ادا کیں اور جماعت میں شریک ہو گئے، چنانچہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ، حضرت عبد اللہ بن عباس ،حضرت ابن عمر اور حضرت ابو درداء رضی اللہ عنھم سے یہ عمل منقول ہے۔ اور حضرات صحابہ اکرام رضی اللہ عنھم کے اعمال و افعال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی تشریح اور عملی نمونہ ہیں ۔
لہٰذ امام ابو حنیفہ کے نزدیک اگر جماعت میں شامل ہونے کی امید ہو تو پہلے سنتیں پڑھ لینا چاہیے تاکہ سنت اور جماعت دونو ں کی فضیلت حاصل ہو جائے ۔اور اگر سنتیں پڑھنے کی صورت میں جماعت میں شامل ہونے کی امید نہ ہو تو جماعت میں شامل ہو جائے اور سنت نہ پڑھے ۔
صحیح بخاری میں ہے :
"عن عائشة رضي الله عنها قالت: لم يكن النبي صلى الله عليه وسلم، على شيء من النوافل، أشد منه تعاهدا على ركعتي الفجر".
(کتاب الصلاۃ ، باب تعاهد ركعتي الفجر، ومن سماهما تطوعا، ج :1، ص:393، ط دار ابن كثير، دار اليمامة، دمشق)
سنن ابی داؤد میں ہے :
"عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تدعوهما، وإن طردتكم الخيل."
( كتاب الصلاة، باب في تخفيفهما، ج : 1، ص: 487، ط المطبعة الأنصارية بدهلي)
شرح معانی الآثار میں ہے :
"عن عبد الله بن أبي موسى، عن عبد الله :أنه دخل المسجد والإمام في الصلاة ، فصلى ركعتي الفجر."
(کتاب الصلاۃ،باب الرجل يدخل المسجد والإمام في صلاة الفجر ولم يكن ركع. أيركع أو لا يركع؟، ج؛1، ص:374، ط مصر)
فتاوی شامی میں ہے:
"(وإذا خاف فوت) ركعتي (الفجر لاشتغاله بسنتها تركها) لكون الجماعة أكمل (وإلا) بأن رجا إدراك ركعة في ظاهر المذهب. وقيل التشهد واعتمده المصنف والشرنبلالي تبعا للبحر، لكن ضعفه في النهر (لا) يتركها بل يصليها عند باب المسجد إن وجد مكانا وإلا تركها لأن ترك المكروه مقدم على فعل السنة."
(کتاب الصلاۃ، باب إدراك الفريضة، ج : 2، ص : 50، سعید)
فقط اللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144608100960
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن