
اگر فجر کی اذان ہورہی ہو،اور پانی پی لیاجاۓ ،تو کیاروزہ ہوجاۓگا؟
واضح رہے کہ سحری کا وقت صبحِ صادق تک ہوتا ہے، اور صبح صادق کے ساتھ سحری کا وقت ختم ہوجاتا ہے، اور فجر کا وقت شروع ہو جاتا ہے،اور اذان فجر کا وقت داخل ہونے کے بعد دی جاتی ہے،کیوں کہ وقت داخل ہونے سے پہلے اذان دینا جائز نہیں۔
لہذااگر فجر کا وقت داخل ہوچکا ہو، تو کھانا پینا جائز نہیں،اگر چہ فجر کی اذان نہ ہوئی ہو، اور اگر فجر کا وقت داخل نہیں ہوا ہے تو کھانا پینا جائز ہے اگر چہ فجر کی اذان ہوگئی ہو، بہرحال اصل مدار وقت پر ہے، اذان تو وقت کی علامت ہے۔
جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:
﴿ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰی يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَی الَّيْلِ ﴾ (البقرة:187)
ترجمہ:”کھاؤ(بھی)اور پیو(بھی)اس وقت تک کہ تم کو سفید خط(کہ وہ نور ہے)صبح( صادق)کا(جب کہ وہ بالکل شروع ہی شروع میں طلوع ہوتی ہے)متمیز ہوجاوے سیاہ خط سے(کہ عبارت ہے تاریکی کی اس حد فاصل سے کہ جو خط نور صبح سے ملا ہوا محسوس ہوتا ہےمراد متمیز ہونے سے یہ کہ صبح صادق طلوع ہوجاوے )پھر(صبح صادق سے) رات (آنے)تک روزہ کو پورا کیا کرو۔“ (بیان القرآن: سورۃ البقرۃ، ج: 1، ص: 131، ط: رحمانیہ)
لہذا صورت مسئولہ میں فجر کا وقت چوں کہ صبح صادق کے بعد ہوتا ہے، اور فجر کی اذان صبح صادق کے بعد دی جاتی ہے، اس لیے اذان شروع ہونے کے بعد روزہ دار کے لیے کھانا پینا جائز نہیں ہے۔
پس اگر کسی نے اس دوران ناواقفیت میں کھا پی لیا،تو اس کا روزہ نہ ہوگا، بعد میں اس روزے کی قضا کرنی ہوگی،تاہم کفارہ لازم نہیں ہوگا،اور اگر واقفیت کے باوجود کھا پی لیا،تو پھر قضاء کے ساتھ ساتھ کفارہ بھی لازم ہوگا۔
جیسا کہ فتاوی شامی میں ہے:
"(أو تسحر أو أفطر يظن اليوم) أي الوقت الذي أكل فيه (ليلا و) الحال أن (الفجر طالع والشمس لم تغرب) لف ونشر ويكفي الشك في الأول دون الثاني عملا بالأصل فيهما ولو لم يتبين الحال لم يقض في ظاهر الرواية والمسألة تتفرع إلى ستة وثلاثين، محلها المطولات (قضى) في الصور كلها (قوله: أو تسحر إلخ) أي يجب عليه القضاء دون الكفارة؛ لأن الجناية قاصرة وهي جناية عدم التثبت لا جناية الإفطار؛ لأنه لم يفسده، ولهذا صرحوا بعدم الإثم عليه كما قالوا في القتل الخطأ لا إثم فيه والمراد إثم القتل وصرحوا بأن فيه إثم ترك العزيمة والمبالغة في التثبت حالة الرمي بحر عن الفتح."
(كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، ج: 2، ص: 405،406، ط: ایچ ایم سعید)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"ووقته من حين يطلع الفجر الثاني، وهو المستطير المنتشر في الأفق إلى غروب الشمس وقد اختلف في أن العبرة لأول طلوع الفجر الثاني أو لاستطارته وانتشاره فيه. قال شمس الأئمة الحلواني القول الأول أحوط والثاني أوسع هكذا في المحيط، وإليه مال أكثر العلماء كذا في خزانة الفتاوى في كتاب الصلاة.
تسحر على ظن أن الفجر لم يطلع، وهو طالع أو أفطر على ظن أن الشمس قد غربت، ولم تغرب قضاه، ولا كفارة عليه؛ لأنه ما تعمد الإفطار كذا في محيط السرخسي.
إذا شك في الفجر فالأفضل أن يدع الأكل، ولو أكل فصومه تام ما لم يتيقن أنه أكل بعد الفجر فيقضي حينئذ كذا في فتح القدير.
وإن كان أكبر رأيه أنه تسحر والفجر طالع فعليه قضاؤه عملا بغالب الرأي، وفيه الاحتياط وعلى ظاهر الرواية لا قضاء عليه كذا في الهداية، وهو الصحيح كذا في السراج الوهاج. هذا إذا لم يظهر له شيء، ولو ظهر أنه أكل، والفجر طالع يجب عليه القضاء، ولا كفارة عليه هكذا في التبيين.
وإذا شهد اثنان على طلوع الفجر وشهد اثنان على أنه لم يطلع فأفطر ثم ظهر أنه قد طلع عليه القضاء والكفارة بالاتفاق، وتقبل الشهادة على الإثبات، ولا يعارضها الشهادة على النفي كما في حقوق العباد."
(كتاب الصوم، الباب الأول في تعريفه وتقسيمه وسببه ووقته وشرطه، ج: 1، ص: 194، ط: المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708101068
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن