بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

فجر اور سحر کا وقت الگ الگ لکھنا


سوال

ہمارے علاقے کوہاٹ میں رمضان المبارک کے جو نقشے بنائے جاتے ہیں ان میں سحری اور اذان کے اوقات احتیاطا الگ الگ دیے جاتے ہیں جس میں تقریبا پانچ منٹ کا فرق ہوتا ہے، اس  وجہ سے سحری کا وقت ختم ہوتے ہی فورا اذان نہیں دی جاتی بلکہ  نقشے میں لکھے ہوئے اذان کے وقت کا انتظار کیا جاتا ہے بلکہ اکثر عوام تو یہ سمجھ رہے ہیں کہ نقشے میں لکھے ہوئے اذان کے وقت سے پہلے اذان دینا  صحیح  بھی نہیں ہے، لیکن اس احتیاط کی وجہ سے بعض  نا سمجھ لوگ یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ اذان ہونے تک کھانا پینا جائز ہے حالانکہ سحری کا وقت ختم ہوچکا ہوتا ہے۔

آپ حضرات سے درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:

۱) کیا رمضان المبارک کے نقشوں میں سحری اور اذان کے اوقات احتیاطا الگ الگ دینا ضروری ہے؟

۲) چونکہ اس وجہ سے اکثر عوام غلط فہمی میں بھی مبتلا ہیں، تو کیا لوگوں کو اس غلط فہمی سے نکالنے کے لیے اس کا ترک اولی نہیں ہوگا؟

۳) سحری کا وقت ختم ہوتے ہی اذان دینی چاہیے یا احتیاطا چار پانچ منٹ بعد دینی  چاہیے یا یہ احتیاط لازمی ہے؟ جبکہ احتیاط کی صورت میں بعض لوگوں کے روزے خراب ہونے کا اندیشہ بھی ہے۔

جواب

واضح رہے کہ احادیث اور فقہاء کی عبارات اس بات پر صریح ہیں کہ فجر کی ابتداء اور سحری کی انتہاء کا وقت ایک ہی ہے، ان دونوں وقتوں میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں ہے بلکہ ایک کی انتہاء کے ساتھ دوسرے کی ابتداء ہے۔ اسی بناء پر نمازوں اور سحری کے نقشوں میں بھی امت کا توارث یہ ہی ہے کہ نقشہ میں دونوں کا وقت  ایک ہی لکھا جاتا ہے، لہذا:

۱) رمضان المبارک کے نقشوں میں فجر اور سحری کا وقت الگ الگ دینا غیر ضروری عمل ہے بلکہ یہ طریقہ درست ہی  نہیں کیونکہ یہ امت کے توارث کے بھی خلاف ہے اور اس طریقہ میں اس بات کا قوی شبہ ہے کہ وقت کے ساتھ لوگ یہ سمجھنے لگیں گے کہ فجر کی ابتداء اور سحری کی انتہاء کا وقت حقیقت میں ہی الگ الگ ہے۔جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ نقشہ جات حساب کتاب سے بنائے جاتے ہیں اور ایک خاص طول بلد اور عرض بلد کی بنیاد پر بنائے جاتے ہیں جبکہ اس نقشہ کا استعمال پورے شہر اور علاقہ (جو متعدد طول بلد اور عرض بلد پر مشتمل ہوتے ہیں) میں ہوتا ہے، جس کی بناء پر متعلقہ مقام جہاں نقشہ استعمال کیا جارہا ہے اس کے فجر اور سحری کے وقت اور نقشہ کے وقت میں چند سیکنڈ اور منٹ کا فرق ہوسکتا ہے تو اس کے تدارک کے لیے نقشہ کی ہدایات میں یہ واضح طور پر لکھ دیا جائے کہ لکھے ہوئے اوقات میں احیاطی منٹوں اور سیکنڈوں کی رعایت رکھ کر عمل کیا جائے یعنی سحری بند کرنے میں کچھ سیکنڈ اور منٹ منہا کرلیے جائیں اور فجر کی اذان دینے میں کچھ منٹ یا سیکنڈ کا اضافہ کرلیا جائے۔ 

۲) اس طریقہ کا ترک ضروری ہے۔

۳) اس احتیاط پر عمل کرنے کو ضروری اور لازمی تو نہیں کہہ سکتے لیکن وقت پر سحری کا  بند کرنا اور فجر کی اذان یا نماز کا وقت پر ادا کرنا فرض اور ضروری ہے اور ان اوقات کی تعیین کا اصل طریقہ فجر صادق (وہ روشنی  جو افق پر شمالا جنوبا پھیلے)  کے طلوع کا مشاہدہ ہے،لہذا مشاہدہ کی صورت میں تو کسی قسم کی کوئی احیتاط نہیں ہے۔نیز  لوگوں کی تسہیل کی خاطر حساب کتاب کے ذریعہ نقشہ جات بنائے جاتے ہیں جن میں چند فنی وجوہ (جن میں سے ایک کا ضمنا ذکر اوپر گزر چکا ہے) کی بناء پر کچھ منٹوں اور سیکنڈوں کا فرق آسکتا ہے، لہذا روزے اور نماز کی حفاظت کے لیے احتیاط کرنا قرین قیاس ہے۔

نیز جہاں تک یہ شبہ ہے کہ اگر احتیاطا اذان کچھ ایک آدھ دو منٹ کے انتظار کے بعد دی جائے گی تو لوگ سحری بند نہیں کریں گے تو لوگوں کو سحری کی انتہاء کا بتانے کے لیے کوئی اور طریقہ استعمال کرلیا جائے اور لوگوں کو مسئلہ بھی بتایا جائے کہ سحری کی انتہاء اذان کے ساتھ نہیں بلکہ وقت کے داخل ہونے کے ساتھ ہے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ اذان کی مشروعیت نماز کے  اعلام (خبر دینے ) کے لیے ہے نہ کہ سحری کے ختم کی خبر دینے کے لیے لہذا اذان میں اس  کی خاطر عجلت کرنا کہ لوگوں کے روزے محفوظ ہوجائیں  جبکہ اس عجلت میں اذان کا وقت سے پہلے ہونے کا امکان ہو  اذان کو اپنے مقصد سے ہٹا دے گا ، جو کہ درست نہیں ہے۔ 

مبسوط للسرخسي میں ہے:

"قال (وقت صلاة الفجر من حين يطلع الفجر المعترض في الأفق إلى طلوع الشمس) والفجر فجران كاذب تسميه العرب ذنب السرحان وهو البياض الذي يبدو في السماء طولا ويعقبه ظلام، والفجر الصادق وهو البياض المنتشر في الأفق فبطلوع الفجر الكاذب لا يدخل وقت الصلاة ولا يحرم الأكل على الصائم ما لم يطلع الفجر الصادق لقوله - صلى الله عليه وسلم - «لا يغرنكم الفجر المستطيل ولكن كلوا واشربوا حتى يطلع الفجر المستطير» يعني المنتشر في الأفق وقال الفجر هكذا ومد يده عرضا لا هكذا ومد يده طولا."

(کتاب الصلاۃ باب مواقیت الصلاۃ ج نمبر ۱ ص نمبر ۱۴۱ دار المعرفۃ)

بدائع الصنائع میں ہے:

"(وأما) بيان حدودها بأوائلها وأواخرها فإنما عرف بالأخبار أما الفجر فأول وقت صلاة الفجر حين يطلع الفجر الثاني، وآخره حين تطلع الشمس، لما روي عن أبي هريرة - رضي الله عنه - أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: «إن للصلاة أولا وآخرا، وإن أول وقت الفجر حين يطلع الفجر، وآخره حين تطلع الشمس» ، والتقييد بالفجر الثاني لأن الفجر الأول هو البياض المستطيل يبدو في ناحية من السماء - وهو المسمى ذنب السرحان عند العرب - ثم ينكتم، ولهذا يسمى فجرا كاذبا؛ لأنه يبدو نوره ثم يخلف ويعقبه الظلام، وهذا الفجر لا يحرم به الطعام والشراب على الصائمين، ولا يخرج به وقت العشاء، ولا يدخل به وقت صلاة الفجر، والفجر الثاني وهو المستطير المعترض في الأفق لا يزال يزداد نوره حتى تطلع الشمس، ويسمى هذا فجرا صادقا؛ لأنه إذا بدأ نوره ينتشر في الأفق ولا يخلف، وهذا الفجر يحرم به الطعام والشراب على الصائم، ويخرج به وقت العشاء، ويدخل به وقت الفجر."

(کتاب الصلاۃ فصل شرائط ارکان الصلاۃ ج نمبر ۱ ص نمبر ۱۲۲ دار الکتب العلمیۃ)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

 

"وعن سمرة بن جندب رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ( «لا يمنعنكم من سحوركم أذان بلال، ولا الفجر المستطيل، ولكن الفجر المستطير في الأفق» ) . رواه مسلم، ولفظه للترمذي."

(کتاب الصلاۃ، باب تاخیر الاذان ، ج:2،ص:574،دار الفکر)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «‌أمني جبريل عند البيت مرتين، فصلى بي الظهر حين زالت الشمس، وكانت قدر الشراك، وصلى بي العصر حين صار ظل كل شيء مثله، وصلى بي المغرب حين أفطر الصائم، وصلى بي العشاء حين غاب الشفق، وصلى بي الفجر حين حرم الطعام والشراب على الصائم، فلما كان الغد ; صلى بي الظهر حين كان ظله مثله، وصلى بي العصر حين كان ظله مثليه، وصلى بي المغرب حين أفطر الصائم، وصلى بي العشاء إلى ثلث الليل وصلى بي الفجر فأسفر " ثم التفت إلي فقال: يا محمد، هذا وقت الأنبياء من قبلك، والوقت ما بين هذين الوقتين» " رواه أبو داود، والترمذي."

(کتاب الصلاۃ، باب المواقیت، ج:2،ص:519،دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710100433

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں