بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

فیس بک اسٹوری پر نیت کے بغیر لفظ طلاق لکھنے کا حکم


سوال

میری بیوی اپنے مرد دوستوں سے بات کرتی تھی، تو میں نے اسے کہا کہ دیکھو! تمہاری شادی ہو چکی ہے، اس لیے تمہارے دوست تم میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ اگر تمہاری مجھ سے طلاق ہو جائے تو تمہارے دوستوں کی یہ دلچسپی باقی نہیں رہے گی۔ اگر تمہیں یقین نہیں آتا تو اپنے موبائل کے فیس بک اسٹوری پر "Divorced" لکھ کر دیکھو، تمہارے دوست کیا کہتے ہیں؟ جب میری بیوی نے ایسا نہ کیا، تو میں نے اس کے موبائل میں خود ہی فیس بک رشتہ داری میں "Divorced" منتخب کر دیا، مقصد صرف یہ تھا کہ دیکھوں اس کے دوستوں کا کیا رد عمل ہوتا ہے۔

اب میرا سوال یہ ہے کہ  صرف "Divorced" کا لفظ سمجھانے کے لیے کہنے سے کیا طلاق واقع ہو گئی؟ اور بعد میں فیس بک کے رشتہ داری کے خانے میں "Divorced" منتخب کرنے سے بھی کیا کوئی طلاق واقع ہوئی؟ یہ واقعہ دو سال پہلے کا ہے، اور اس کے بعد سے ہم میاں بیوی کی طرح معمول کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں۔

جواب

واضح رہے کہ اسلام ایک پاکیزہ مذہب اور مکمل ضابطہ حیات ہے۔ وہ ہمیں بے حیائی اور برائی سے روکتاہے اور اس کی طرف لے جانے والے اعمال واقوال وافعال سے بھی روکتاہے۔ اور اسی وجہ سے اسلام نے پردہ کا حکم دیاہے، اور نامحرم مرد اور نامحرم عورت کا ایک دوسرے سے  کسی بھی طرح تعلق  اور دوستی کو حرام قرار دیا، اور عورت کے لیے  غیر محارم مردوں سے  دوستانہ تعلقات رکھنے اور  ملنے جلنے  کو ناجائز قرار دیا،  اور یہاں تک فرمایا کہ  چلتے وقت پاؤں زمین پر زور سے نہ رکھو تاکہ پاؤں میں پہنے زیورات کے بارے میں کسی کو معلوم نہ ہو۔

اس بناپر  آپ کی بیوی  کا اجنبی مرد وں سے کسی بھی قسم کا تعلق رکھنا جائز نہیں ہے، اور اس سے ان کو سچی توبہ کرکے اپنے شوہر کے ساتھ پاکدامنی کی زندگی گزار نی چاہیے، ورنہ ایسی عورتوں کے بارے میں سخت وعیدیں  آئی ہیں  اور ان کو جہنم کی سزا سُنائی گئی ہے۔

نیز بیوی پر طلاق واقع ہونے کے لیے یہ ضروری ہےکہ شوہر طلاق کی نسبت بیوی کی طرف کرے ، وہ نسبت لفظی ہو، معنوی ہویامنوی ہو،اگر ان مذکورہ نسبتوں میں سے کوئی نسبت نہ ہوتوطلاق واقع نہیں ہوتی ۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل نے بیوی کو سمجھانے کے لیے جو یہ کہا کہ " اگر تمہیں یقین نہیں آتا تو اپنے موبائل کے فیس بک اسٹوری پر "Divorced" لکھ کر دیکھو" تو بیوی کو سمجھانے کے لیے اس طرح کہنے  سے طلاق واقع نہیں ہوئی، اسی طرح فیس بک کے رشتہ داری کے خانے میں   طلاق کی نیت اور بیوی کی طرف  نسبت کے بغیرصرف  "Divorced" منتخب کرنے سے بھی کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، کیوں کہ اس  صورت میں نسبت لفظی ومعنوی بھی نہیں اور نسبت معنوی کا بھی سائل  انکار کررہا ہے (کہ مقصد صرف یہ تھا کہ دیکھوں اس کے دوستوں کا کیا رد عمل ہوتا ہے) ۔

قرآن مجیدمیں ہے:

 "قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ.  وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ۖ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ... وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ." (النور، 31،30)

ترجمہ: "آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچے رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے زیادہ صفائی کی بات ہے بے شک اللہ تعالی کو سب خبر ہے جو کچھ لوگ کیا کرتے ہیں ۔ اور مسلمان عورتوں سے کہہ دیجئے  کہ اپنی نگاہیں نیچے رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں  اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر جو اس میں سے کھلا رہتا ہےاوراپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رہا کریں...  اور اپنے پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہو جاوے "

صحیح مسلم میں ہے:

"عن أبي هريرة. قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم (صنفان من أهل النار لم أرهما. قوم معهم سياط كأذناب البقر يضربون بها الناس. ونساء كاسيات عاريات، مميلات مائلات، رؤسهن كأسنمة البخت المائلة، لا يدخلن الجنة، ولا يجدن ريحها. وإن ريحها ليوجد من مسيرة كذا وكذا)."

(كتاب اللباس والزينة، باب النساء الكاسيات العاريات الماَلات المميلات، ج: 3، ص: 1384، رقم: 2128، ط: بشري)

صحیح مسلم میں ہے:

"فالعینان زناهما النظر، و الأذنان زناهما الاستماع، و اللسان زناہ الکلام، و الید زناها البطش، و الرجل زناها الخطا."

(كتاب القدر، باب: قدر علی ابن آدم  حظه من الزني وغيره، ج: 3، ص: 1626، رقم: 2657، ط: بشري)

فتاوی شامی میں ہے:

"ولا يكلم الأجنبية إلا عجوزا عطست أو سلمت فيشمتها ويرد السلام عليها وإلا لا انتهى، وبه بان أن لفظةلا في نقل القهستاني، ويكلمها بما لا يحتاج إليه زائدة فتنبه.

وفي الرد: (قوله وإلا لا) أي وإلا تكن عجوزا بل شابة لا يشمتها، ولا يرد السلام بلسانه قال في الخانية: وكذا الرجل مع المرأة إذا التقيا يسلم الرجل أولا، وإذا سلمت المرأة الأجنبية على رجل إن كانت عجوزا رد الرجل عليها السلام  بلسانه بصوت تسمع، وإن كانت شابة رد عليها في نفسه، وكذا الرجل إذا سلم على امرأة أجنبية فالجواب فيه على العكس اهـ.

(قوله زائدة) يبعده قوله في القنية رامزا ويجوز الكلام المباح مع امرأة أجنبية اهـ وفي المجتبى رامزا، وفي الحديث دليل على أنه لا بأس بأن يتكلم مع النساء بما لا يحتاج إليه، وليس هذا من الخوض فيما لا يعنيه إنما ذلك في كلام فيه إثم اهـ فالظاهر أنه قول آخر أو محمول على العجوز تأمل، وتقدم في شروط الصلاة أن صوت المرأة عورة على الراجح ومر الكلام فيه فراجعه."

(كتاب الحظر والإباحة، ‌‌فصل في النظر والمس، ج: 6، ص: 369، ط: سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"نجيز الكلام مع النساء للأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك، ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم، ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة. اهـ."

(كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، مطلب في ستر العورة، ج: 1، ص: 406، ط: سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"باب الصريح (صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة) بالتشديد قيد بخطابها، لأنه لو قال: إن خرجت يقع الطلاق أو لا تخرجي إلا بإذني فإني حلفت بالطلاق فخرجت لم يقع لتركه الإضافة إليها.

(قوله لتركه الإضافة) أي المعنوية فإنها الشرط والخطاب من الإضافة المعنوية، وكذا الإشارة نحو هذه طالق، وكذا نحو امرأتي طالق وزينب طالق. اهـ."

(‌‌كتاب الطلاق، باب صريح الطلاق، ج: 3، ص: 248،247، ط: دار الفكر)

فتاوی شامی میں ہے:

"لكن لا بد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها."

(‌‌كتاب الطلاق، باب صريح الطلاق، ج: 3، ص: 250، ط: سعيد)

تبیین الحقائق میں ہے:

"ثم ‌الكتاب ‌على ‌ثلاث ‌مراتب مستبين مرسوم، وهو أن يكون معنونا أي مصدرا بالعنوان، وهو أن يكتب في صدره من فلان إلى فلان على ما جرت به العادة في تسيير الكتاب فيكون هذا كالنطق فلزم حجة، ومستبين غير مرسوم كالكتابة على الجدران وأوراق الأشجار أو على الكاغد لا على وجه الرسم فإن هذا يكون لغوا لأنه لا عرف في إظهار الأمر بهذا الطريق فلا يكون حجة إلا بانضمام شيء آخر إليه كالنية والإشهاد عليه والإملاء على الغير حتى يكتبه لأن الكتابة قد تكون للتجربة، وقد تكون للتحقيق.

وبهذه الأشياء تتعين الجهة، وقيل الإملاء من غير إشهاد لا يكون حجة، والأول أظهر، وغير مستبين كالكتابة على الهواء أو الماء، وهو بمنزلة كلام غير مسموع، ولا يثبت به شيء من الأحكام، وإن نوى."

(كتاب الخنثى، مسائل شتى، ج: 6، ص: 218، ط: دار الكتاب الإسلامي)

کفایت المفتی میں ہے:

سوال

  زید کی والدہ و ساس کے درمیان ایک عرصے سے خانگی جھگڑے ہورہے تھے، زید سخت بیمار ہے، ایک روز زید کے برادر خورد نے زید کی والدہ سے کہا کہ اماں یہ جھگڑے ختم نہ ہوں گے ،ہم اور تم کہیں  چلیں، ان دونوں کو یہاں رہنے دو اور زید کا بھائی اپنی والدہ کو لے جانے لگا، زید نے کہا کہ تم نہ جاؤ میں اس جھگڑے کو ہی ختم کیے دیتا ہوں اور یہ کہہ کر کہا کہ میں نے طلاق دی، یہ الفاظ اپنی والدہ سے مخاطب ہوکر کہے، پھر  اس کے بعد جوش میں آکر صرف طلاق طلاق طلاق پانچ چھ مرتبہ کہا، لیکن اپنی زوجہ کا نام ایک مرتبہ بھی نہیں لیا اور نہ اس سے مخاطب ہوکر کہا اور زید کا خیال بھی یہی تھا کہ صرف لفظ طلاق کہنے سے طلاق نہیں ہوتی، زوجہ گھر میں موجود تھی، لیکن اس نے الفاظ مذکورہ نہیں سنے۔  

جواب

"زید کے  ان الفاظ میں جو سوال میں مذکور ہیں لفظ طلاق تو صریح ہے، لیکن اضافت الی الزوجہ صریح نہیں ہے، اس لیے اگر زید قسم کھاکر  یہ کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی کو یہ الفاظ نہیں کہے تھے تو اس کے قول اور قسم کا اعتبار کرلیا جائے گا،  اور طلاق کا حکم نہیں دیا جائے گا۔"

(کتاب الطلاق، فصل پنجم نسبت یا اضافت طلاق، ج: 6، ص: 53، ط: دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701100778

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں