
میں فیس بک پر مختلف برانڈز کی مارکیٹنگ کرتا ہوں اور میرا کام یہی ہے کہ میں ان کے اشتہارات لگاتا ہوں تاکہ ان کی سیل ہو سکے۔ میرے پاس اس کے علاوہ کوئی اور ذریعہ آمدنی نہیں ہے، میں جن برانڈز کے اشتہارات چلاتا ہوں ان میں سے ایک سکن کیئر کا برانڈ ہے، جہاں خواتین کریم لگا کر دکھاتی ہیں، اور ایک برانڈ بالوں کا رنگ فروخت کرتا ہے، میں ان سے ماہانہ چارجز لیتا ہوں۔
مسئلہ یہ ہے کہ فیس بک کا الگورتھم (اشتہارات کی رسائی کا خودکار نظام) اس طرح بنایا گیا ہے کہ اگر کوئی پراڈکٹ خواتین کے استعمال کی ہے تو اسے خاتون ہی اشتہار میں دکھا سکتی ہے، تبھی الگورتھم اس اشتہار کو صحیح خواتین تک پہنچاتا ہے۔ اسی طرح مردوں کی پراڈکٹ کے لیے مرد کی ویڈیو لگانی پڑتی ہے۔ آج کل تقریباً سارا کاروبار آن لائن ہو گیا ہے، ہر برانڈ کی ویب سائٹ ہے اور لوگ آن لائن ہی خریداری کرتے ہیں۔ دکانوں اور سٹوروں پر کاروبار بہت کم ہو گیا ہے۔ ایسے میں یہ طریقہ ایک مجبوری بن گیا ہے، کیوں کہ خواتین کی پروڈکٹ کی مارکیٹنگ خاتون کے بغیر مؤثر نہیں ہوتی۔اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس طرح مارکیٹنگ کرنا اور برانڈز کے اشتہارات لگانا جائز ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ اشتہارات جاندار کی تصاویر پر مشتمل ہیں تو یہ اشتہارات لگانا اور ان سے کمانا شرعا درست نہیں، لہذا ان اشتہارات لگانے سے حاصل ہونے والی رقم حلال نہیں ہے، مذکورہ رقم وصول کرنا ہی جائز نہیں ، اگر وصول کر لی ہو تو ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کرنا شرعاً ضروری ہوگا۔
سائل کا یہ کہنا درست نہیں کہ " لوگ آن لائن ہی خریداری کرتے ہیں، دکانوں اور سٹوروں پر کاروبار بہت کم ہو گیا ہے، اور اشتہارات لگانا ایک مجبوری بن گیا ہے"،کیوں کہ مارکیٹ میں بہت سے افراد ایسے ہیں جو اپنی اشیاء کی تشہیر نہیں کرتے، لیکن ان کا کاروبار چل رہا ہے۔ نیز سائل کا تعلق اشتہارات لگانے سے ہے، اس کے لیے یہ امر عذر بن بھی نہیں سکتا، کیوں کہ وہ حلال طریقے سے کماسکتا ہے، لہذا اللہ تعالی پر توکل اور اعتماد کرکے حلال ذریعۂ آمدن کی کوشش کریں۔
قرآن مجید میں ہے:
﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾
ترجمہ:"اور نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی اعانت کرتے رہو اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرا کرو بلا شبہ اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والے ہیں"۔
(بیان القرآن از حکیم الامت اشرف علی تھانوی، ج:1، ص:444، سورت:المائدہ، آیت:2، ط:مکتبہ رحمانیہ)
صحیح بخاری میں ہے:
"عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (يأتي على الناس زمان، لا يبالي المرء ما أخذ منه، أمن الحلال أم من الحرام). و في رواية: عن المقدام رضي الله عنه، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: (ما أكل أحد طعاما قط، خيرا من أن يأكل من عمل يده، وإن نبي الله داود عليه السلام كان يأكل من عمل يده)".
ترجمہ:"رسول کریم ﷺ نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ آدمی کو جو مال ملے گا اس کے بارے میں وہ اس کی پرواہ نہیں کرے گا کہ یہ حلال ہے یا حرام۔ دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (کبھی کسی نے اپنے ہاتھ کی روزی سے بہتر کوئی کھانا نہیں کھایا، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی کے نبی حضرت داؤد -علیہ السلام- اپنے ہاتھوں کی محنت سے کمائی ہوئی روزی کھاتے تھے)"۔
(كتاب البيوع، ج:2، ص:730/726، الرقم:1966/1954، ط:دار ابن كثير)
و فيه أيضا:
"عن ابن عباس، عن أبي طلحة رضي الله عنهم قال:قال النبي صلى الله عليه وسلم: (لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب و لا تصاوير). و في رواية: حدثنا سفيان: حدثنا الأعمش، عن مسلم قال: كنا مع مسروق في دار يسار بن نمير، فرأى في صفته تماثيل، فقال: سمعت عبد الله قال:سمعت النبي -صلى الله عليه وسلم- يقول: (إنّ أشدّ الناس عذابًا عند الله يوم القيامة المصورون)".
ترجمہ:" رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس گھر میں کتا اور تصاویر ہوں وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ دوسری روایت میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالی کے ہاں جن کو سب سے سخت عذاب دیا جائے گاوہ تصویر بنانے والے ہیں"۔
(کتاب اللباس ،باب التصاویر،ج:5،ص:2220،رقم :5605-5606،ط:دار ابن کثیر)
صحیح مسلم میں ہے:
"عن أبي هريرة؛ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (أيها الناس! إن الله طيب لا يقبل إلا طيبا. وإن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين. فقال: {يا أيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحا إني بما تعملون عليم} وقال: {يا أيها الذين آمنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم} ". ثم ذكر الرجل يطيل السفر. أشعث أغبر. يمد يديه إلى السماء. يا رب! يا رب! ومطعمه حرام، ومشربه حرام، وملبسه حرام، وغذي بالحرام. فأنى يستجاب لذلك؟) ".
ترجمہ:"رسول کریم ﷺ نے فرمایا: بلا شبہ اللہ تعالیٰ (تمام کمی اور عیوب سے) پاک ہے اس پاک ذات کی بارگاہ میں صرف وہی (صدقات و اعمال) مقبول ہوتے ہیں جو (شرعی عیوب اور نیت کے فساد سے) پاک ہوں (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ نے جس چیز (یعنی حلال مال کھانے اور اچھے اعمال) کا حکم اپنے رسولوں کو دیا ہے اسی چیز کا حکم تمام مؤمنوں کو بھی دیا ہے چناں چہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَاأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا﴾، [المؤمنون: 51] {ترجمہ از بیان القرآن: اے پیغمبرو! تم (اور تمہاری امتیں) نفیس چیزیں کھاؤ اور نیک کام یعنی عبادت کرو} اور فرمایا:﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ﴾ [البقرة: 172]، {ترجمہ: اے ایمان والو، جو (شرع کی رو سے) پاک چیزیں ہم نے تم کو مرحمت فرمائی ہیں، ان میں سے جو چاہو کھاؤ(برتو)} پھر آپ ﷺ نے (بطور مثال) ایک شخص کا حال ذکر کیا کہ وہ طول و طویل سفر اختیار کرتا ہے پراگندہ بال اور غبار آلودہ وہ اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھاتا ہے اور کہتا ہے اے میرے رب: اے میرے رب: (یعنی وہ اپنے مقاصد کے لئے دعاء مانگتا ہے) حالانکہ کھانا اس کا حرام، لباس اس کا حرام، (شروع سے اب تک) پرورش اس کی حرام ہی (غذاؤں) سے ہوئی پھر کیونکر اس کی دعاء قبول کی جائے"۔
(كتاب الزكاة، باب قبول الصدقة، ج:2، ص:703، الرقم:1015، ط:دار إحياء التراث العربي)
مشکوٰۃ المصابیح میں ہے:
"وعن عبد الله بن مسعود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: (لا يكسب عبد مال حرام فيتصدق منه فيقبل منه ولا ينفق منه فيبارك له فيه ولا يتركه خلف ظهره إلا كان زاده إلى النار. إن الله لا يمحو السيئ بالسيئ ولكن يمحو السيئ بالحسن إن الخبيث لا يمحو الخبيث). رواه أحمد وكذا في شرح السنة".
ترجمہ:"آپ ﷺ نے فرمایا: ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ کوئی بندہ حرام مال کما کر اس میں سے صدقہ و خیرات کرتا ہو اور اس کا وہ صدقہ قبول کر لیا جاتا ہو (اگر کوئی شخص حرام ذرائع سے کمایا ہوا مال صدقہ و خیرات کرے تو اس کا صدقہ قطعاً قبول نہیں ہوتا اور نہ اسے کوئی ثواب ملتا ہے) اور نہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ شخص اس حرام مال کو (اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال پر) خرچ کرتا ہو اور اس میں اسے برکت حاصل ہوتی ہو (یعنی حرام مال میں سے جو بھی خرچ کیا جاتا ہے اس میں بالکل برکت نہیں ہوتی) اور جو شخص اپنے (مرنے کے) بعد حرام مال چھوڑ جاتا ہے اس کی حیثیت اس کے علاوہ اور کچھ نہیں رہتی کہ وہ مال اس شخص کے لئے ایک ایسا توشہ بن جاتا ہے جو اسے دوزخ کی آگ تک پہنچا دیتا ہے اور (یہ بات یاد رکھو کہ) اللہ تعالیٰ برائی کو برائی کے ذریعہ دور نہیں کرتا بلکہ برائی کو بھلائی کے ذریعہ دور کرتا ہے، اسی طرح ناپاک مال ناپاک کو دور نہیں کرتا (یعنی حرام مال برائی کو دور نہیں کرتا بلکہ حلال مال برائی کو دور کرتا ہے)"۔
(كتاب البيوع، الفصل الثاني، ج:2، ص:844، الرقم:2771، ط:المكتب الإسلامي)
و فيه أيضا:
"عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (طلب كسب الحلال فريضة بعد الفريضة) . رواه البيهقي في شعب الإيمان، و في رواية: عن رافع بن خديج قال: قيل: يا رسول الله أي الكسب أطيب؟ قال: (عمل الرجل بيده وكل بيع مبرور) . رواه أحمد".
ترجمہ:"رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حلال روزی کمانا فرض (اسلام کے دیگر معین فرض، مثلاً: نماز، روزہ وغیرہ) کے بعد ایک فرض ہے۔ دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ سب سے پاکیزہ کمائی کو ن سی ہے؟ تو آپ ﷺنے فرمایا کہ : آدمی کا خود اپنے ہاتھ سے محنت کرنا اور ہر جائز اور مقبول خرید و فروخت کرنا (سب سے پاکیزہ کمائی ہے)"۔
(كتاب البيوع، الفصل الثالث، ج:2، ص:847، الرقم:2783/2781، ط:المكتب الإسلامي)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
«أي الكسب) : أي أنواعه (أطيب) ؟ أي أحل وأفضل (قال: " عمل الرجل بيده) ، أي من زراعة أو تجارة أو كتابة أو صناعة (وكل بيع مبرور) : بالجر صفة بيع و (كل) عطف على (عمل) ، والمراد بالمبرور أن يكون سالما من غش وخيانة، أو مقبولا في الشرع بأن لا يكون فاسدا ولا خبيثا أي رديا، أو مقبولا عند الله بأن يكون مثابا به"
(كتاب البيوع، باب الكسب، ج:5، ص:1904، ط:دار الفكر)
فتاوی شامی ميں ہے:
"(لا تصح الإجارة لعسب التيس) وهو نزوه على الإناث (و) لا (لأجل المعاصي مثل الغناء والنوح والملاهي)".
(كتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة، ج:6، ص:55، ط:دار الفكر)
و فيه أيضا:
"وفي السراج ودلت المسألة أن الملاهي كلها حرام... (قوله ودلت المسألة إلخ) لأن محمدا أطلق اسم اللعب والغناء فاللعب وهو اللهو حرام بالنص قال -عليه الصلاة والسلام-: [لهو المؤمن باطل إلا في ثلاث]... قال ابن مسعود:"قال ابن مسعود صوت اللهو والغناء ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء النبات. قلت: وفي البزازية استماع صوت الملاهي كضرب قصب ونحوه حرام لقوله - عليه الصلاة والسلام - (استماع الملاهي معصية والجلوس عليها فسق والتلذذ بها كفر) أي بالنعمة".
(كتاب الحظر و الإباحة، ج: 6، ص: 348-349، ط:دارالفکر)
وفیه أیضاً:
"قال بعض مشايخنا: كسب المغنية كالمغصوب لم يحل أخذه، وعلى هذا قالوا لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه".
(کتاب الحظر الاباحة، فصل في البیع، ج:6، ص:385، ط:دار الفكر)
وفیه أیضا:
"وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ فينبغي أن يكون حراما لا مكروها إن ثبت الإجماع أو قطعية الدليل بتواتره".
(کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاة، ج:1، ص:647، ط: دار الفكر)
الموسوعہ الفقہیہ میں ہے:
"الإجارة على المنافع المحرمة كالزنى والنوح والغناء والملاهي محرمة، وعقدها باطل لايستحق به أجرة. ولايجوز استئجار كاتب ليكتب له غناءً ونوحاً ؛ لأنه انتفاع بمحرم... ولايجوز الاستئجار على حمل الخمر لمن يشربها، ولا على حمل الخنزير... لأنه استئجار لفعل محرم، فلم يصح، ولأن النبي صلى الله عليه وسلم لعن حاملها والمحمولة إليه".
(حرف الألف، إجارة، ج:1، ص:290، ط: دار السلاسل)
و فيه أيضا:
"وكل ما حرمه الله تعالى يحرم صنعه وبيعه واقتناؤه. وقد اتفق الفقهاء على أن صنعة التصاوير المجسدة لإنسان أو حيوان حرام على فاعلها، سواء أكانت من حجر أم خشب أم طين أم غير ذلك؛ لما روى ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: الذين يصنعون هذه الصور يعذبون يوم القيامة، يقال لهم: أحيوا ما خلقتم. والأمر بعمله محرم كعمله، بل إن الأجرة على صنع مثل هذه الأشياء لا تجوز وهذا في مطلق التصاوير المجسدة، فإذا كانت مما يعبد من دون الله فذلك أشد تحريما. ففي الفتاوى الهندية: لو استأجر رجلا ينحت له أصناما لا شيء له، والإجارة على المعاصي لا تصح... وكما يحرم صنع هذه الأشياء يحرم بيعها واقتناؤها... فهذه كلها يجب إزالتها وإعدامها. وبيعها ذريعة إلى اقتنائها واتخاذها، ولذلك يحرم البيع".
(حرف الألف، أنصاب، ج:7، ص:8، ط:دار السلاسل)
امداد الاحکام میں ہے:
"تصویر کی حرمت احادیث متواترہ سے ثابت ہے اور امت کا ا س پر اجماع ہے ...حرام چیز کانام بدل دینے سے وہ حلال نہیں ہوجاتی ،حدیث میں آیا ہے کہ میری امت کے لوگ شرا ب کا نام بدل کر اس کو پئیں گے اور برسر مجلس راگ باجے اور گانے بجانے کامشغلہ کریں گے ،اللہ تعالی ان کو زمین میں دھنسا دیں گے اور ان میں سے بعض کو بندر اور سور بنادیں گے پس جس طرح سود کانام منافع اور رشوت کانام حق الخدمت اور شراب کانام برانڈ ی یا اسپرٹ اور قمار کانام بیمہ، لاٹری اور گانے کانام گراموفون رکھ دینے سے وہ حلال نہیں ہوجاتے اسی طرح تصویر کشی کانام فوٹوگرافی یاعکاسی کہہ دینے سے وہ حلال نہ ہوجائے گی...الخ"۔
(کتاب اللباس، باب اللعب، تصویر اور فوٹو میں فرق، ج:4، ص:382، ط:دار العلوم کراچی)
فقط و اللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711100570
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن