
عرض یہ کرنا ہے کہ میرا فیس بک پیج ہے۔تقریبا تین لاکھ فالورز ہے۔میں دن رات پوسٹس کرتا ہوں جس کے بدلے فیس بک مجھے ڈالرز دیتا ہے۔جنوری کے مہینے مجھے 370 ڈالرز ملے۔ جوکہ پاکستانی تقریباً ایک لاکھ دس ہزار بنتے ہیں۔تو میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ یہ کمائی شرعاً درست ہے یا نہیں ؟
فیس بک کی ویب سائٹ پر موجود معلومات کے مطابق پوسٹ کے ذریعے جو کمائی ہوتی ہے ، وہ ایڈز (اشتہارات) کے ذریعے ہوتی ہے ،یعنی فیس بک پیج کا حامل شخص اپنے پیج پر مستقل بنیادوں پر پوسٹ ڈالتا ہے ،جس کی وجہ سے فالورز بڑھتے ہیں اور پیج پر ٹریفک (فیس بک استعمال کرنے والوں کی آمدورفت ) بڑھتی ہے اور فیس بک کو اس پیج پر ایڈ چلانے کا صوتی موقع ملتا ہے ، اور فیس بک کو ایڈزکے ذریعے جو کمائی حاصل ہوتی ہے اس میں سے فیس بک پیج والے کو بھی دیتاہے ،گویا کہ فیس بک پیج کا حامل شخص ایڈ چلانے اور ایڈ کے ذریعہ آمدنی حاصل کرنے میں اپنی پوسٹ کے بسبب معاون ومددگار ٹھیرتا ہے ،اسی بنیاد پر فیس بک ادارہ اس ایڈ کی آمدنی سے حصہ دیتا ہے ،نیز فیس بک ہر قسم کے ایڈز اس پیج پر چلاسکتا ہے ، چاہے وہ ایڈ کسی جاندار کی تصویر ،فحاشی یاکسی ناجائز مواد پر مشتمل کیوں نہ ہو ۔
پس جب ہر قسم کے اشتہارات چلتے ہیں جیسا کہ مشاہدہ بھی یہی ہے اور ان اشتہارات کی آمدن سے فیس بک پیج والے کو بھی حصہ ملتاہے تو یہ آمدنی حلال نہیں ہو گی ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
"ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله بغير علم"
(سورۃ لقمان: 6)
ترجمہ"اور بعض آدمی ایسا ہے جو ان باتوں کا خریدار بنتا ہے جوغافل کرنے والی ہیں ،تا کہ اللہ کی راہ سے بے سمجھے بوجھے گمراہ کرے"
(بیان القرآن ،ج :2،ص:17،ط :میر محمد کتب خانہ )
تفسیر طبری میں ہے :
"عن سعيد بن جبير، عن أبي الصهباء البكري، أنه سمع عبد الله بن مسعود وهو يسأل عن هذه الآية: {ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله بغير علم}. فقال عبد الله:الغناء والذي لا إله إلا هو. يرددها ثلاث مرات."
"عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس: {ومن الناس من يشتري لهو الحديث}. قال: الغناء "
(سورۃ لقمان،ج:21،ص:608،ط:دارابن الجوزی القاھرہ)
بخاری شریف میں ہے :
"إن أشد الناس عذابا عند الله يوم القيامة المصورون"
ترجمہ:لوگوں میں سخت عذاب قیامت کے دن اللہ کے نزدیک تصویر کشوں کو ہوگا ۔
(باب عذاب المصورین یوم القیٰمة،ج:2،ص:1699،ط:المکتبة البشرىٰ)
فتح الباری میں ہے :
"قال النووي: قال العلماء: تصوير صورة الحيوان حرام شديد التحريم، وهو من الكبائر؛ لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد، وسواء صنعه لما يمتهن أم لغيره فصنعه حرام بكل حال،"
(باب ایضاََ،ج:10،ص:397،ط:دارالریان للتراث القاھرہ )
وفیہ ایضاََ:
"وقال ابن العربي: حاصل ما في اتخاذ الصور أنها إن كانت ذات أجسام حرم بالإجماع،"
(باب کرہ القعود علی الصورۃ،ج :ایضاََ،ص:405،ط:ایضاََ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708101749
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن