بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تعویذ لکھنے والے کی امامت کا حکم


سوال

ہمارے علاقے میں ایک حافظِ قرآن صاحب ہیں جو تعویذ لکھنے اور دم جھاڑ پھونک وغیرہ کا کام کرتے ہیں، اور اس کے عوض ایک طے شدہ فیس مقرر کرتے ہیں۔ نیز یہ بھی مشہور ہے کہ وہ غیر محرم عورتوں سے براہِ راست ہم کلام ہوتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ: 1. ایسے حافظ صاحب کو امام بنانا شرعاً درست ہے یا نہیں؟ 2. اگر وہ امام ہوں تو ان کے پیچھے نماز پڑھنا شرعاً کیا حکم رکھتا ہے؟ 3. جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ان کے پیچھے نماز بالکل نہیں ہوگی، کیا یہ بات درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جائز تعویذ لکھنا یا دم کرنا شرعا جائز ہے اور اس کی اجرت لینا بھی جائز ہے۔ اسی طرح نامحرم عورتوں سے غض بصر کے ساتھ گفتگو کرنا جائز ہے بشرطیکہ خلوت اور تنہائی نہ ہو۔ لہذا ایسی صورت میں اس امام کے پیچھے نماز پڑھنا بغیر کسی کراہت کے درست ہے۔

ہاں اگر مذکورہ امام بلا ضرورت نامحرم عورتوں سے بلا حجاب ملتا ہو یا ایسا تعویذ لکھتا ہو جو غیر شرعی یا شرکیہ کلمات پر مشتمل ہو، تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ ہوگا۔ اگر قریب میں کوئی متدین اور متقی امام موجود ہو تو اس کی اقتداء میں نماز ادا کرنے کی کوشش کی جائے۔ اور اگر امام میں مذکورہ خرابیاں موجود نہ ہوں تو اس پر الزام لگانے والا عنداللہ سخت مجرم ہوگا۔

صحیح مسلم میں ہے:

"عن أبي سعيد الخدري « أن ناسا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم كانوا في سفر، فمروا بحي من أحياء العرب فاستضافوهم فلم يضيفوهم، فقالوا لهم: هل فيكم راق؟ فإن سيد الحي لديغ أو مصاب! فقال رجل منهم: نعم. فأتاه فرقاه بفاتحة الكتاب فبرأ الرجل،

فأعطي قطيعا من غنم فأبى أن يقبلها، وقال: حتى أذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم. فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له، فقال: يا رسول الله، والله ما رقيت إلا بفاتحة الكتاب! فتبسم وقال: ‌وما ‌أدراك ‌أنها ‌رقية؟ ثم قال: خذوا منهم، واضربوا لي بسهم معكم »."

(كتاب السلام، باب جواز أخذ الأجرة على الرقية بالقرآن والأذكار، ج: 7، ص: 19، الرقم: 2201، ط: دار الطباعة العامرة - تركيا)

فتاوی شامی میں ہے:

"فإذا نجيز ‌الكلام ‌مع ‌النساء للأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك، ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم، ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة. اهـ."

(كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، مطلب في ستر العورة، ج: 1، ص: 406، ط: دار الفكر - بيروت)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144702101675

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں