
اگر عورت اپنے گھر میں رمضان کے آخری عشرہ کا مسنون اعتکاف کر رہی ہو اور اس دوران ماہواری آجاۓ تو پھر اعتکاف کا کیا حکم ہے ؟ نیز اس کی قضاء کرے گی یا نہیں ؟
اگر دورانِ اعتکاف عورت کے ایام شروع ہوجائیں تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا، ایسی حالت میں عورت اعتکاف چھوڑدے، اور بعد میں روزہ کے ساتھ ایک دن کے اعتکاف کی قضاء کرنا لازم ہوگا، مکمل دس دن کی قضاء لازم نہیں ہوگی، پس اگر رمضان المبارک میں ہی پاک ہوجائے، تو ایک روز کے اعتکاف کی قضاء کرلے، ورنہ رمضان کے بعد سال کے جن دنوں میں روزے رکھنا منع ہے(عیدین وایام تشریق) ان دنوں کے علاوہ کسی بھی دن مغرب سے دوسرے دن کے غروب آفتاب تک ایک دن رات روزے کے ساتھ اعتکاف کی قضا کرلے۔
بدائع الصنائع میں ہے :
"ولو حاضت المرأة في حال الإعتكاف فسد اعتكافها؛ لأن الحيض ينافي أهلية الإعتكاف لمنافاتها الصوم، ولهذا منعت من انعقاد الإعتكاف فتمنع من البقاء".
(كتاب الإعتكاف، فصل ركن الإعتكاف، ج: 2، ص: 116، ط : دارالكتب العلمية)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144709102229
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن