بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اعتکاف کے دوران حیض آنے کا حکم


سوال

 اگر عورت اپنے گھر میں رمضان کے آخری عشرہ کا مسنون اعتکاف کر رہی ہو اور اس دوران ماہواری آجاۓ تو پھر اعتکاف کا کیا حکم ہے ؟ نیز اس کی قضاء کرے گی یا نہیں ؟

جواب

اگر دورانِ اعتکاف عورت کے ایام شروع ہوجائیں تو  اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا، ایسی حالت میں عورت اعتکاف چھوڑدے، اور بعد میں روزہ کے ساتھ ایک دن کے اعتکاف کی قضاء کرنا لازم ہوگا، مکمل دس دن کی قضاء لازم نہیں ہوگی، پس اگر رمضان المبارک میں ہی پاک ہوجائے، تو  ایک روز کے اعتکاف کی قضاء کرلے، ورنہ رمضان کے بعد سال کے جن دنوں میں روزے رکھنا منع ہے(عیدین وایام تشریق) ان دنوں کے علاوہ کسی بھی دن مغرب سے دوسرے دن کے غروب آفتاب تک ایک دن رات روزے کے ساتھ اعتکاف کی قضا کرلے۔

بدائع الصنائع میں ہے :

"ولو حاضت المرأة في حال الإعتكاف فسد اعتكافها؛ لأن الحيض ينافي أهلية الإعتكاف لمنافاتها الصوم، ولهذا منعت من انعقاد الإعتكاف فتمنع من البقاء".

(كتاب الإعتكاف، فصل ركن الإعتكاف، ج: 2، ص: 116، ط : دارالكتب العلمية)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144709102229

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں