
ایک طالب علم ہے، میڈیکل کا وہ اعتکاف کرنے کا خواہشمند ہے، لیکن رمضان سے ایک ہفتے بعد اس کا فائنل امتحان ہے، تو کیا وہ اعتکاف میں عبادات ذکر اذکار کے ساتھ ساتھ میڈیکل کی کتابوں کا مطالعہ کرسکتا ہے؟تاکہ امتحان پاس کرسکے ؟
اعتکاف کا مقصد اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنا اور اس کی عبادت میں مشغول رہنا ہے، لہذا معتکف کو چاہیے کہ وہ نماز، تلاوت، ذکر و اذکار، تعلیم و تعلم اور دیگر عبادات میں اپنا زیادہ وقت گزارے،اس کے علاوہ جو مصروفیات ہوں ان کو ترک کردے۔ دوران اعتکاف مسجد کے آداب کی رعایت رکھتے ہوئے امتحان کی تیاری کرنے سے اعتکاف تو نہیں ٹوٹے گا،لیکن متعلقہ مضامین اور کتب میں اگر جاندار کی تصاویر ہوں تو ایسی کتب سے مسجد میں احتراز لازم ہوگا، اس لئے سخت مجبوی کے بغیر اسے ترک ہی کرنا چاہیے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(وخص) المعتكف (بأكل وشرب ونوم وعقد احتاج إليه) لنفسه أو عياله فلو لتجارة كره (كبيع ونكاح ورجعة)".
(کتاب الاعتکاف، ج: 2، ص: 448، ط: سعید)
المبسوط للسرخسي میں ہے:
"وفي الاعتكاف تفريغ القلب عن أمور الدنيا وتسليم النفس إلى بارئها والتحصن بحصن حصين وملازمة بيت الله تعالى (قال) عطاء مثل المعتكف كمثل رجل له حاجة إلى عظيم فيجلس على بابه، ويقول: لا أبرح حتى تقضي حاجتي والمعتكف يجلس في بيت الله تعالى، ويقول: لا أبرح حتى يغفر لي فهو أشرف الأعمال إذا كان عن إخلاص."
(باب الاعتكاف، ج: 3، ص: 115، ط: ادارة القرآن )
و في الرد:
"(قوله: فلو لتجارة كره) أي وإن لم يحضر السلعة، واختاره قاضي خان، ورجحه الزيلعي؛ لأنه منقطع إلى الله تعالى فلا ينبغي له أن يشتغل بأمور الدنيا، بحر".
(رد المحتار ج: 2،ص:448، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707101521
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن