بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عشاء کی نماز میں ظہر کی نیت سے نماز کا حکم


سوال

اگر کوئی شخص عشاء کی نماز میں کھڑا ہے اور نیت اس نے ظہر کی نماز کی کی ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں اگر نمازی نے  صرف زبان سے  عشاء کی نماز کے بجائے ظہر کا  لفظ ادا کیا ہو ،لیکن دل میں نیت عشاء پڑھنے کی تھی تو ایسی صورت میں اس کی  عشاء کی نماز ادا ہو گئی ہے ،البتہ اگر اس نے نیت ہی ظہر کی نماز کی کی ہو تو ایسی صورت میں اس کی  عشاء کی نماز ادا نہیں ہوئی ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"عزم على الظهر وجرى على لسانه العصر يجزيه كذا في شرح مقدمة أبي الليث وهكذا في القنية."

(كتاب الصلاة،الباب الثالث في شروط الصلاة،ج:1،ص:66،دارالفكر)

در مختار  میں ہے :

"(والمعتبر فيها عمل القلب اللازم للإرادة) فلا عبرة للذكر باللسان إن خالف القلب لأنه كلام لا نية إلا إذا عجز عن إحضاره لهموم أصابته فيكفيه اللسان مجتبى (وهو) أي عمل القلب (أن يعلم) عند الإرادة (بداهة) بلا تأمل (أي صلاة يصلي) فلو لم يعلم إلا بتأمل لم يجز."

(فتاوي شامي،كتاب الصلاة،باب شروط الصلاة،ج:1،ص:415،سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144606102353

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں