بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

عشاء جماعت سے نہ پڑھنے کی صورت میں وتر کی جماعت میں شامل ہونا


سوال

رمضان میں اگر کوئی شخص عشاء کی چار رکعت امام کے ساتھ ادا نہ کرے تو پھر وتر میں امام کے ساتھ جماعت میں شرکت کر سکتا ہے؟

جواب

اگر کوئی  شخص امام کے ساتھ عشاء کی جماعت میں شامل نہ ہو سکا، بلکہ تنہا پڑھ لی تو  وتر کے لیے امام کے ساتھ شامل ہو سکتا ہے، اس  میں کوئی حرج نہیں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 48):

أما لو صليت بجماعة الفرض وكان رجل قد صلى الفرض وحده فله أن يصليها مع ذلك الإمام؛ لأن جماعتهم مشروعة فله الدخول فيها معهم لعدم المحذور.

البحر الرائق (2/ 75) :

وفي القنية: صلى العشاء وحده فله أن يصلي التراويح مع الإمام، ولو تركوا الجماعة في الفرض ليس لهم أن يصلوا التراويح جماعة؛ لأنها تبع للجماعة، ولو لم يصل التراويح جماعةً مع الإمام فله أن يصلي الوتر معه، ثم ذكر بعده: أنه لو صلى التراويح مع غيره له أن يصلي الوتر معه، هو الصحيح اهـ.

الفتاوى الهندية (1/ 117):

وإذا صلى معه شيئاً من التراويح أو لم يدرك شيئاً منها أو صلاها مع غيره له أن يصلي الوتر معه هو الصحيح، كذا في القنية.

فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144109200947

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں