
ایک شخص عیسائی مذہب چھوڑ کر مسلمان ہوا ہے، میں ان سے نکاح کرنا چاہتی ہوں ،مگر اس کے شناختی کارڈ پر اس کا پرانا مذہب (عیسائیت)ہی لکھا ہوا ہے تو کیا اس سے ہمارے نکاح پر کوئی اثر تو نہیں پڑے گا؟
واضح رہے کہ وہ شخص مسلمان ہو چکا ہے، عیسائیت چھوڑ چکا ہے، اب چونکہ صرف شناختی کارڈ پہ اب تک کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے تو اس سے نکاح پر فرق پڑے گا یا نہیں، کیا یہ نکاح جائز ہوگا؟
صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص واقعۃً باقاعدہ مسلمان ہوچکا ہےاور اپنے مذہب عیسائیت سے توبہ کرچکا ہے اور اس کی دستاویز اس کے پاس موجود ہے تو شرعا اس سے آپ کا نکاح جائز ہے،البتہ قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لئے بہتر یہ ہے کہ پہلے شناختی کارڈ میں ریکارڈ درست کروالیا جائے اس کے بعد نکاح کیا جائے۔
بدائع الصنائع میں ہے :
"ومنها: إسلام الرجل إذا كانت المرأة مسلمة فلا يجوز إنكاح المؤمنة الكافر؛ لقوله تعالى: {ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا} ولأن في إنكاح المؤمنة الكافر خوف وقوع المؤمنة في الكفر؛ لأن الزوج يدعوها إلى دينه، والنساء في العادات يتبعن الرجال فيما يؤثرون من الأفعال ويقلدونهم في الدين إليه وقعت الإشارة في آخر الآية بقوله عز وجل:{أولئك يدعون إلى النار}؛ لأنهم يدعون المؤمنات إلى الكفر، والدعاء إلى الكفر دعاء إلى النار؛ لأن الكفر يوجب النار، فكان نكاح الكافر المسلمة سببا داعيا إلى الحرام فكان حراما، والنص وإن ورد في المشركين لكن العلة، وهي الدعاء إلى النار يعم الكفرة، أجمع فيتعمم الحكم بعموم العلة فلا يجوز إنكاح المسلمة الكتابي كما لا يجوز إنكاحها الوثني والمجوسي؛ لأن الشرع قطع ولاية الكافرين عن المؤمنين بقوله تعالى:{ولن يجعل الله للكافرين على المؤمنين سبيلا}فلو جاز إنكاح الكافر المؤمنة لثبت له عليها سبيل، وهذا لا يجوز."
(کتاب النکاح ،فصل التأبید،ج:۲،ص:۲۷۲،دارالکتب العلمیة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100769
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن