
جب بھی کوئی ملٹی نیشنل ادارہ کسی جگہ سرمایہ کاری کی غرض سے اجارہ داری کرتا ہے تو موجودہ عالمی قوانین کی رُو سے وہ اس معاہدے کا پابند ہوتا ہے کہ اپنے مستقل اجیر کو اس کی خدمات کو سامنے رکھتے ہوئے سروس پوری کرنے یا معذوری کی صورت میں یا موت کی صورت میں اس کی بیوہ کے ساتھ پنشن کے نام سے ماہانہ تعاون کرتا رہے گا، لیکن سوائے چند اداروں کے یہاں تقریباً اکثر ادارے اسے پورا نہیں کر پا رہے،تو اِس تناظر میں اسی فلسفےکے پیشِ نظرگورنمنٹ کا 'ای او بی آئی' کےنام سے ایک ادارہ ہے، جس کامقصد یہ ہے کہ اس ادارےکی رکنیت حاصل کرنےوالے کارکنان کو معذوری کی صورت میں یا زندگی کے ساٹھ سال گزارلینے کے بعد یا کارکن کی بیوہ کو گزرانِ زندگی کے واسطے ماہانہ ایک متعین رقم کی ادائیگی کرکے تعاون کیا جائے۔
اِس ادارے سے اِنتفاع حاصل کرنے کا جو فارمولا گورنمنٹ نےبنایاہےوہ یہ ہےکہ...
ألِف: اس ادارےکی رکنیت حاصل کرنے والے ہر کارکن کی طرف سےگورنمنٹ کی طرف سے طےشدہ کم از کم مزدور کی اجرت کےبرابر رقم ہر ماہ اس ادارے میں جمع کی جاتی ہے اس طور پر کہ کل رقم کا ایک فیصد اَجِیر یعنی کارکن خود اور پانچ فیصد آجِر جبکہ باقی چورانوے فیصد گورنمنٹ جمع کرتی ہے۔
ب: پندرہ سال تک مندرجہ بالا فارمولے کےمطابق ہر ماہ کارکن کی طرف سےچندہ دِہَندَگی ضروری ہوتی ہے۔ (کچھ خاص صورتوں میں یہ میعاد تبدیل بھی ہے۔)
ج: اس رقم کو "ای او بی آئی" ادارہ تقریباً ناجائز ذرائع میں مصروف رکھتا ہے۔
میں ایک ادارےمیں بطور مُستَقِل اجیرِخاص کے کام کرتا ہوں اور وہ ادارہ "ای او بی آئی" کے ادارے میں ہم سب کام کرنے والوں کو از خود ہماری سروس شروع ہوتے ہی اپنے تَئیں کارکن بناکر ہماری تنخواہ سے مندرجہ بالا فارمولے کے مطابق کٹوتی شروع کردیتا ہے، اب میرے ساتھ ادارے کایہی معاملہ ہے تو میرے لیے اپنی مُدَّتِ ملازمت مکمل کرنے کے بعد "ای او بی آئی" سے پنشن لینا جائز ہے یا نہیں؟
مندرجہ بالا تفصیل کو سامنے رکھ کر مختصراً جائز ہےیا نہیں کےواضح الفاظ سےجواب مرحمت فرمادیں تو نوازش ہوگی۔
بصورت مسئولہ سائل جس ادارے میں ملازمت کرتا ہے، اگر وہ اپنے ملازمین کی تنخواہ سے جبری کٹوتی کر کے ای او بی آئی (Employee's Old Age Benefit's Institution) میں سرمایہ کاری کرتا ہے،ملازمین کو اِس معاملہ میں کسی قسم کا اختیار حاصل نہیں ہوتا، تو اِس صورت میں ملازمین کا ریٹائرمنٹ کے بعد "ای او بی آئی" سے پنشن وغیرہ لینا جائز ہے۔تاہم اگر تنخواہ سے کٹوتی ملازمین کے اختیار و رضامندی سے ہوتی ہو تو ملازمین فقط اپنی تنخواہوں سے ہونے والی کٹوتی اور ادارے کی جانب سے جمع کردہ رقم وصول کرسکتے ہیں، اِس کے علاوہ اضافی رقم بطورِ پنشن یا کسی بھی نام وعنوان سے وصول کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔
کفایت المفتی میں ایک سوال کے جواب میں ہے :
"جو رقم تنخواہ میں سے لازمی طور پر کاٹ لی جاتی ہے اور جو رقم کہ بونس کے نام سے بڑھائی جاتی ہے اور جو رقم کہ ان دونوں رقموں پر سو دکے نام سے لگائی جاتی ہے ان تینوں رقموں کو لے لینا مسلم ملازمین یا ان کے ورثاء کے لئے جائز ہے اور وصول ہونے سے پہلے اس مجموعی رقم پر زکوٰۃ ادا کرنا واجب نہیں بونس تو عطیہ ہی ہے مگر وہ رقم جو سود کے نام سے لگائی جاتی ہے وہ شرعاً سود کی حد میں داخل نہیں وہ بھی عطیہ ہی کا حکم رکھتی ہے۔ "
( کتاب الربوا، تیسرا باب: پراویڈنٹ فنڈ اور بونس اور پنشن، ج:۸، ص:۹۶-۹۷،ط:دار الاشاعت)
جواہر الفقہ میں حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"جبری پراویڈنٹ فنڈ پہ سود کے نام پر جو رقم ملتی ہے ،وہ شرعا سود نہیں بلکہ اجرت(تنخواہ)ہی کا ایک حصہ ہے اس کا لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز ہے ، البتہ پراویڈنٹ فنڈ میں رقم اپنے اختیار سے کٹوائی جائے تو اس میں تشبہ بالربوا بھی ہے اور ذریعہ سود بنا لینے کا خطرہ بھی ہے ، اس لیے اس سے اجتناب کیا جائے۔"
(ج:3،ص:257،ط:مکتبہ دار العلوم کراچی)
البحر الرائق میں ہے:
"(قوله بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك كما أشار إليه القدوري في مختصره لأنها لو كانت دينا لا يقال أنه ملكه المؤجر قبل قبضه وإذا استحقها المؤجر قبل قبضها فله المطالبة بها وحبس المستأجر عليها وحبس العين عنه وله حق الفسخ إن لم يعجل له المستأجر كذا في المحيط لكن ليس له بيعها قبل قبضها."
(کتاب الإجارۃ، ج:7، ص:300، ط: سعید)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144704102007
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن