
میں ایک نجی کمپنی میں کام کر رہا تھا ، ابھی میں نے وہ کمپنی چھوڑ دی ہے ، انہوں نے میری تنخواہ سے EOBIمیں 13 سال تک پیسے جمع کرائے ہیں۔ اب کیا میرے لیے اس ادارے سے پنشن لینا جائز ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو میں مزید بھی اس میں پیسے جمع کرتا رہوں ؟
ای او بی آئی (EOBI) حکومتِ پاکستان کی طرف سے پنشن اور بڑھاپے کی انشورنس کی سہولت کے لیے قائم فنڈ کا ادارہ ہے، جو ملازمین اور ان کے ورثاء کو ان کی سروس کی مدت کے مطابق پنشن و دیگر منفعت دیتا ہے،کمپنیاں ملازمین کی تنخواہ میں سے کچھ پیسے کاٹ کر ڈالتی ہیں اورکچھ اپنی طرف سےبھی اس میں دیتی ہیں، اس رقم کی انویسٹمنٹ سودی سرمایہ کاری کے اداروں میں بھی کی جاتی ہے،EOBIمیں سرمایہ کاری کا یہ طریقہ کار تو شرعا ناجائز ہے۔
صورت مسئولہ کے حکم میں تفصیل یہ ہے کہ اگر سائل کی کمپنی کی طرف سے اس کی تنخواہ سے اس مد میں جبری کٹوتی کی گئی تھی ، سائل کو اس میں اختیار نہ تھا تو اس صورت میں جو منافع (پنشن وغیرہ) ملتے ہیں، سائل کے لیے اس کا لینا جائز ہے، اور اگر کٹوتی اختیاری تھی تو جتنی رقم سائل کی تنخواہ سے کاٹی گئی تھی اور جو رقم ابتدا میں بطور تبرع کمپنی شامل کرتی رہی ہیں تو وہ رقم سائل کے لیے لینا جائز ہوگا، البتہ اس پر ملنے والی اضافی رقم ( انٹرسٹ ) لینا جائز نہیں ہوگا۔
نیز EOBIمیں مزید پیسے جمع کرواتے رہنے سے کیا مراد ہے؟ اس کی تفصیل سے وضاحت کرکے دوبارہ سوال دریافت فرمائیں۔
فتاوی شامی میں ہے:
"لأن الملك ما من شأنه أن يتصرف فيه بوصف الاختصاص."
(کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، ج: 5، ص: 51، ط: دارالفکر)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144702100050
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن