بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

امام کی اقتداء میں مرد و عورت پردہ کے اہتمام کے ساتھ کس طرح نماز تراویح ادا کریں؟


سوال

میں گھر میں تراویح پڑھاتا ہوں، اب میں یہ چاہتا ہوں کہ گھر کی خواتین بھی میرے ساتھ شریک ہوں ،مگر مجھے سامع باہر سے بلوانا پڑتاہے، پچھلی بار میں نے گھر کی خواتین اور مقتدی (جو خواتین کے لیے نامحرم تھے) کے درمیان کرسیاں رکھی ہوئی تھیں۔ اس صورت سے مجھے شرح صدر نہیں ہورہا تھا۔ اب مجھے ایسی صورت بتائیں کہ خواتین بھی تراویح پڑھ لیں اور اتصال بھی ہوجائے اور بے پردگی کا شبہ بھی نہ رہے۔ الگ کمرہ کرنا ممکن نہیں ۔تفصیلی صورت مطلوب ہے۔ جزاک اللہ۔

جواب

واضح رہے کہ مرد و عورت کے درمیان پردہ ہر حال میں ضروری ہے، لہذا صورت مسئولہ میں سائل جس کمرے میں تراویح پڑھاتا ہے، اس کمرےکے درمیان میں ایک موٹا پردہ لگادے، پھر اس کمرے میں سائل اور تمام مرد حضرات اولاً  آجائیں اور پردے کے اگلے حصہ میں صف میں بیٹھ جائیں اور اس کے بعد اس کمرے میں خواتین آجائیں، اور پردے کے پیچھے صفوں میں بیٹھ جائیں ، پھر نماز اور تراویح کی ادائیگی سے فارغ ہونے کے بعد اولاً عورتیں  اس کمرے سے واپس اپنے اپنے  کمروں میں   چلی جائیں اور پھر مرد حضرات  عورتوں کے اس کمرے سے نکلنے کے بعد نکلیں ، تاکہ مرد و عورت کے درمیان اختلاط اور بے پردگی نہ ہو، بہرحال مرد و عورت کے درمیان تراویح کی ادائیگی کے وقت  صرف کرسیاں رکھنا کافی نہیں ہوگا، بلکہ پردہ لگانا ضروری ہوگا۔

حوالہ جات:

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولو اجتمع الرجال والصبيان والخناثى والإناث والصبيات المراهقات يقوم الرجال أقصى ما يلي الإمام ثم الصبيان ثم الخناثى ثم الإناث ثم الصبيات المراهقات. كذا في شرح الطحاوي."

(كتاب الصلاة،الباب الخامس في الإمامة،الفصل الخامس في بيان مقام الإمام والمأموم،88،89/1، ط: رشیدیة)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"إمام يصلي برجال ونساء .......لو كان بين صف النساء وصف الرجال سترة قدر مؤخر الرجل كان ذلك سترة للرجال ولا تفسد صلاة واحد منهم."

(كتاب الصلاة،الباب الخامس في الإمامة،الفصل الخامس في بيان مقام الإمام والمأموم،87،88/1، ط: رشیدیة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708100410

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں