
1- احناف کے یہاں علتِ ربا قدر مع الجنس کو قرار دیا گیا ہے،اب سوال یہ ہے کہ احناف کی مراد علتِ ربا قرار دینے میں قدر و جنس کا مجموعہ ہےیا پھر ان میں سے ہر ایک بالاستقلال علت بننے کی صلاحیت رکھتاہے،اگر شق اول یعنی مجموعہ مراد ہو جس کے تحت اجزاء ہوا کرتے ہیں تب تو خلاف جنس فروخت کرنے کی صورت میں نساء حرام نہیں ہونا چاہیے؛کیوں کہ انتفاء جز (جنس)انتفاء کل کو مستلزم ہوتا ہے،اور اگر شق ثانی مراد ہوکہ ان دو میں سے ہر ایک بالاستقلال علت بننے کی صلاحیت رکھتاہے تو اس وقت معلول واحد پر توارد علل مستقلہ کی خرابی لازم آئے گی جوکہ جائز نہیں ہے،لہذا اس مسئلے کو واضح کردیں۔
2- امام شافعی رحمہ اللہ نے مطعومات میں علتِ ربا طعم کو قرار دیا ہےاور جنسیت کو شرط قرار دیا ہے، حالانکہ طعم بذات خود جنس ہے،جس کے تحت مختلف الانواع داخل ہیں مثلا حنطہ،شعیر وغیرہ،اور یہ بات بداہۃً معروف ہے کہ جنس نوع میں داخل ہوا کرتی ہے،اور امام شافعی رحمہ اللہ نے جنسیت کو شرط قرار دیا ہے، "وشرط الشیئ خارج عن الشیئ" تو اس صورت میں ایک ہی چیز کو داخل وخارج ماننا لازم آئے گا جوکہ ناجائز ہے،لہذا اس مسئلے کو بھی واضح کردیں۔
1- احناف کے نزدیک ربا کی اصل علت دو وصفوں قدر اور جنس کا مجموعہ ہے، جب یہ دونوں وصف اکٹھے پائے جائیں تو علت مکمل طور پر موجود ہوگی اور اس وقت ربا الفضل (جو حقیقی ربا ہے) بھی حرام ہوگا، لیکن اگر دونوں وصف جمع نہ ہوں، بلکہ ان میں سے صرف ایک وصف پایا جائے تو اس کو شبہ علت کہا جاتا ہے، اور ایسی حالت میں ربا النسیئہ جو شبہ ربا ہے حرام ہوگا، یعنی یوں سمجھ لیجیے کہ: علتِ حقیقی کے وجود سے ربا حقیقی ”ربا الفضل اور ربا النسیئۃ“ کی حرمت ثابت ہوتی ہے اور شبہ علت کی موجودگی سے شبہ ربا (ربا النسیئہ) کی حرمت ثابت ہوتی ہے۔
اب یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ جب علت دراصل قدر اور جنس دونوں کے مجموعے کا نام ہے تو پھر محض ایک جز کے پائے جانے سے حکم کیسے ثابت ہو گیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ:ربا الفضل کی حرمت کے لیے واقعی دونوں کا مجموعہ علت ہے، لیکن ربا النسیئہ کی حرمت کے لیے ہر ایک وصف (یعنی قدر یا جنس) بالاستقلال مکمل علتِ تامہ ہے۔ نیز سائل کا یہ اشکال کہ اس میں تواردِ علل کی خرابی لازم آرہی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ عللِ شرعیہ میں یہ ممکن ہے کہ ایک حکم کا ثبوت بیک وقت مختلف علتوں سے ہو،کیوں کہ علل شرعیہ بمعنی اسباب کے ہیں،جیسے نقضِ وضو کے لیے مختلف علل و اسباب ہیں۔
2-امام شافعی رحمہ اللہ نے علتِ ربا طعم (قابلِ خورد و نوش ہونا) کو قرار دیا ہے، اور ربا کے تحقق کے لیے عوضین کا ہم جنس ہونا شرط قرار دیا ہے، اس پر یہ اشکال کرنا کہ "طعم خود جنس ہے جوکہ طعم میں داخل ہے اور جنس کو شرط قرار دیا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ خارج عن الطعم ہے، لہذا جنس طعم میں داخل بھی ہے اور خارج بھی"، درست نہیں؛کیوں کہ طعم ایک وصف ہے، جسے علت بنایا گیا،اور مطعومات اس کے لیے موصوفات ہیں، جیسے معروض عرض کے لیے ہے،یعنی وصفِ طعم کا اپنا ذاتی کوئی وجود نہیں ہے،بلکہ یہ مطعومات کے ضمن میں پایا جاتاہے، لہذا حیثیت کا فرق ہے،یعنی "طعم"مطعومات کے ساتھ ملحق ہونے کی وجہ سے داخل ہے اور نفسِ جنس کے ساتھ لاحق ہونے کی وجہ سے خارج ہے،اور ایک چیز الگ الگ حیثیت سے داخل و خارج ہوسکتی ہے۔
اصول السرخسی میں ہے:
"قلنا أحد وصفي علة الربا يحرم النسأ بانفراده لأن كل واحد من الوصفين علة معنى وحكما إذا تأخر وجوده عن الوصف الآخر وحرمة النسأ مبني على الاحتياط وهو أسرع ثبوتا من حرمة الفضل لقوله عليه السلام إذا اختلف النوعان فبيعوا كيف شئتم بعد أن يكون يدا بيد فجعل ثابتا بوجود أحد الوصفين."
(فصل في تقسيم العلة، ج:2، ص:318، ط:دار المعرفة)
تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے:
"قال رحمه الله (فحرم الفضل والنساء بهما) أي بالجنس والقدر لما بينا أنهما علة الربا قال رحمه الله (والنساء فقط بأحدهما) أي حرم النساء وحل التفاضل بوجود أحدهما إما القدر دون الجنس كالحنطة بالشعير أو الجنس دون القدر كالهروي بالهروي لقوله - عليه الصلاة والسلام «الذهب بالذهب والفضة بالفضة والبر بالبر والشعير بالشعير والتمر بالتمر والملح بالملح مثلا بمثل سواء بسواء فإذا اختلفت هذه الأصناف فبيعوا كيف شئتم إذا كان يدا بيد» رواه مسلم وأحمد وغيرهما من أئمة الحديث ولأن اجتماعهما حقيقة العلة فيكون لأحدهما شبهة العلة فيحرم بحقيقة العلة حقيقة الفضل وهو القدر؛ لأنه تفاضل حقيقة ويحرم بشبهة العلة شبهة الفضل وهو النساء؛ لأنه يشبه الفضل فليس بتفاضل حقيقة إعمالا للدليل بقدره ولا يقال أحدهما جزء العلة وبه لا يثبت الحكم ولا شيء منه فكيف يثبت بأحدهما حرمة النساء؛ لأنا نقول: أحدهما علة تامة لهذا الحكم وهو حرمة النساء وإن كان بعض العلة في حق ربا الفضل حقيقة فلا يلزم المحظور."
(كتاب البیوع، باب الربا، ج:4، ص:88، ط:دار الكتاب الاسلامي)
التلویح علی التوضیح لمتن التنقیح میں ہے:
"يمتنع توارد العلل المستقلة على معلول واحد بالشخص؛ لأنه يقتضي أن يكون كل منها محتاجا إليه من حيث إنه علة ومستغنى عنه من حيث إن الآخر علة مستقلة على أنه غير لازم في العلل الشرعية إذ ليس معنى تأثيرها الإيجاد، وقد صرحوا بأن المتوضئ إذا حصل منه البول والغائط والرعاف ونحو ذلك حصل حدثه بكل واحد من هذه الأسباب."
(الركن الرابع: القياس، فصل في دفع العلل المؤثرة، ج:2، ص:178، ط:دار الكتب العلمية)
اصول السرخسی میں ہے:
"وقد بينا أن العلل الشرعية لا تكون موجبة بذواتها وأنه لا موجب إلا الله إلا أن ذلك الإيجاب غيب في حقنا فجعل الشرع الأسباب التي يمكننا الوقوف عليها علة لوجوب الحكم في حقنا للتيسير علينا فأما في حق الشرع فهذه العلل لا تكون موجبة شيئا وهو نظير الإماتة فإن المميت والمحيي هو الله تعالى حقيقة ثم جعله مضافا إلى القاتل بعلة القتل فيما ينبني عليه من الأحكام."
(فصل في بيان الكلام في القسم الثاني، ج:2، ص:302، ط:دار المعرفة)
الردود والنقود شرح مختصر ابن الحاجب میں ہے:
"أن العلل الشرعية أدلة ويجوز اجتماع الأدلة على معلول واحد."
(القياس، ج:2، ص:500، ط:مكتبة الرشد)
الغایۃ فی اختصار النھایۃ میں ہے:
"والربا ضربان: ربا الفضل، وربا النساء، وعلة ربا الفضل في النقدين كونهما جوهري الأثمان، وفي المطعوم قولان: الجديد أن العلة هي الطعم وحده، والقديم هي الطعم مع التقدير بالكيل أو الوزن، فمتى اتحد الجنس حرم التفاضل والنساء، والتفرق قبل التقابض، واتحاد الجنس محل العلة، وليس جزءا منها على القولين."
(كتاب البيوع، فصل في بيان الطعم الذي هو علة الربا، ج:3، ص:190، الرقم:1181، ط:دار النوادر)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144703101284
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن