
کیا الیکٹریک مشین سے مکھی کو مارنا جائز ہے؟ جیسے وہ مشین جس پر اگر مکھی بیٹھ جائے تو وہ اسے زندہ جلا دیتی ہے۔
شریعتِ مطہر ہ نےجلاکر مارنے سے منع کیا ہے،البتہ آج کل ایسے الیکٹرک آلات جو مچھرمکھی وغیرہ کومارنے کے لیےدیوار پر نصب کیا جاتے ہیں یا ریکٹ کی صورت میں استعمال ہوتے ہیں، ان میں ایسی شعاع اور کرنٹ ہوتا ہے، جس سے مچھر مکھی وغیرہ مرجاتے ہیں، ان آلات میں باقاعدہ آگ نہیں ہوتی جو جلاکر مارے، لہٰذا مکھی وغیرہ کو مارنے کےلیے الیکٹرک آلات کا استعمال کرنا جائز ہے، خصوصاً جب ان کا مقصد ایذاء سے بچاؤ اور صفائی کا اہتمام ہو۔
فتاوی شامی میں ہے:
"لكن جواز التحريق والتغريق مقيد كما في شرح السير بما إذا لم يتمكنوا من الظفر بهم بدون ذلك، بلا مشقة عظيمة فإن تمكنوا بدونها فلا يجوز".
(كتاب الجهاد، ج:4، ص:129، ط: سعيد)
وفیہ أیضاً:
"يكره إحراق جراد وقمل وعقرب، ولا بأس بإحراق حطب فيها نمل".
(مسائل شتى، ج:6، ص:752، ط: سعيد)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإحراق القمل والعقرب بالنار مكروه وطرح القمل حيا مباح لكن يكره من طريق الأدب كذا في الظهيرية....قتل الزنبور والحشرات هل يباح في الشرع ابتداء من غير إيذاء وهل يثاب على قتلهم؟ قال لا يثاب على ذلك وإن لم يوجد منه الإيذاء فالأولى أن لا يتعرض بقتل شيء منه كذا في جواهر الفتاوى".
(كتاب الكراهية، الباب الحادي والعشرون فيما يسع من جراحات بني آدم والحيوانات، ج:5، ص:361، ط: دار الفكر)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144611102230
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن