
میں نے اپنی بیوی کو یہ الفاظ کہہ کر ایک طلاق دی تھی: "میں تمہیں ایک طلاق دیتا ہوں"، پھر عدت کے دوران زبانی طور پر رجوع کر لیا تھا۔ لیکن تین چار ماہ تک میری بیوی نے مجھ سے کوئی رابطہ نہیں کیا، تو میں نے اس کی والدہ اور کزن کے سامنے یہ الفاظ کہے: "میں تمہیں پہلے طلاق دے چکا ہوں اور اب دوسری طلاق دے رہا ہوں"، اور پھر میں نے دوبارہ یہی الفاظ "میں تمہیں دوسری طلاق دے رہا ہوں" دہرائے اس نیت سے کہ اگر اس کی والدہ وغیرہ نے پہلے نہ سنا ہو تو اب سن لیں۔ تو کیا میری بیوی پر دو طلاقیں واقع ہوئیں یا تین؟
صورتِ مسئولہ میں سائل نےایک طلاق دےکرعدت کےدوران رجوع کیاپھران الفاظ سے"میں تمہیں پہلے طلاق دے چکا ہوں اور اب دوسری طلاق دے رہا ہوں"دوسری طلاق دےدیدی،اگرواقعُۃًپھر دوبارہ یہی الفاظ "میں تمہیں دوسری طلاق دے رہا ہوں" دہرائے اس نیت سے کہ اگر بیوی کی والدہ وغیرہ نے پہلے نہ سنا ہو تو اب سن لیں۔توایسی صورتِ حال میں صرف دوطلاقیں واقع ہوگئی ہیں ،اگر سائل نے عدت (یعنی تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو، اور اگر حمل ہو تو بچہ کی پیدائش تک) کے اندر رجوع کر لیا، تو نکاح برقرار رہے گا اور دونوں میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہیں گے۔ اس صورت میں آئندہ شوہر کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار باقی رہے گا۔اور اگر عدت کے دوران رجوع نہ کیا، تو عدت ختم ہونے کے بعد نکاح ختم ہو جائے گا، اور بیوی دوسری جگہ نکاح کرنےمیں آزادہوگی ۔البتہ اگر دونوں(میاں بیوی) دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو شرعی گواہوں کی موجودگی میں نیا مہر مقرر کر کے دوبارہ نکاح کرسکتےہیں۔ اس صورت میں شوہر کے پاس دوبارہ صرف ایک طلاق کا حق ہوگا۔یاد رہے کہ اگر بعد میں شوہر نے ایک اور طلاق دی، تو اس سے مجموعی طور پر تین طلاقیں مکمل ہو جائیں گی، جس کے بعد بیوی شوہر پر حرمتِ مغلّظہ کے ساتھ حرام ہو جائے گی۔لہٰذا آئندہ کے لیے سائل کو حد درجہ احتیاط کی ضرورت ہے۔
العقودالدریۃ میں ہے:
(سئل) في رجل قال لزوجته روحي طالق وكررها ثلاثا ناويا بذلك جميعه واحدة وتأكيدا للأولى وزجرها وتخويفها وهو يحلف بالله العظيم أنه قصد ذلك لا غيره فهل يقع عليه بذلك واحدة رجعية ديانة حيث نواها فقط وله مراجعة زوجته في العدة بدون إذنها حيث لم يتقدم له عليها طلقتان؟
(الجواب) : لا يصدق في ذلك قضاء لأن القاضي مأمور باتباع الظاهر والله يتولى السرائر وإذا دار الأمر بين التأسيس والتأكيد تعين الحمل على التأسيس كما في الأشباه ويصدق ديانة أنه قصد التأكيد ويقع عليه بذلك طلقة واحدة رجعية ديانة حيث نواها فقط وله مراجعتها في العدة بدون إذنها...
(كتاب الطلاق، ج:1، ص:37، ط: دار المعرفة)
درالمختارمیں ہے:
"(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب".
(كتاب الطلاق باب الرجعة، ص: 230، ط:دار الکتب العلمية بیروت)
تحفۃ الفقہاء میں ہے:
"وأما عدة الطلاق فثلاثة قروء في حق ذوات الأقراء إذا كانت حرة .....وأما في حق الحامل فعدتها وضع الحمل لا خلاف في المطلقة لظاهر قوله: {وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن ."
( كتاب الطلاق، باب العدة،ج:2، ص:244، ط: دار الكتب العلمية،بيروت )
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144612101239
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن