بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک تہائی حصے میں وصیت کرنا


سوال

1)اگر کوئی شخص اپنی جائیداد وغیرہ کے ایک تہائی حصہ کی وصیت  براۓ  مدرسہ، تنظیم یا رشتہ دار وغیرہ  کرے  تو اس کا کیا حکم ہے؟

2)کیا اس میں بھائی بہن یا دیگر قریبی رشتہ داروں کے لیے وصیت کی جا سکتی ہے؟

3)کیا ایک تہائی میں  رشتہ دار  ودیگر  کسی  غریب آدمی کو شریک کیا جا سکتا ہے ؟

4)اگر میاں بیوی اور بیٹی مل کر کوئی پراپرٹی خرید لیں اور پھر ان میں سے کسی کا انتقال ہو جائے تو کیا اس مرحوم کے حصہ کے  مالک باقی دو شریک  ہو جائیں گے یا پھر مرحوم کاحصہ  اس  کے  ورثاءمیں تقسیم ہوگا؟

جواب

 1۔ شریعت مطہرہ نے ہر شخص کو اپنے مال کے ایک تہائی حصہ میں اپنے متوقع وارثوں کے علاوہ دیگر افراد ( خواہ وہ رشتہ دار ہو ں  یا نہ ہوں، مدرسہ، مسجد  ،رفاہی تنظیم) کےحق میں وصیت کرنے کا اختیار دیا ہے، لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص کے لیے تہائی حصہ کی وصیت کرنا اپنے وارثوں کے علاوہ کے لیے جائز ہوگا، اس کی وصیت اس کی موت کے بعد وراثت کی تقسیم سے قبل پوری کرنا اس کے شرعی وارثوں کے لیے ضروری ہوگا۔

2۔ وصیت کرنے والے کے قریبی وارث (مثلابیوہ ،بیٹی ،بیٹا ،والد، والدہ) موجود ہونے کی صورت میں بھائی بہن و دیگر رشتہ داروں کے لیے وصیت کرنا جائز ہوگا، البتہ اگر کسی ایسے شخص کے لیے وصیت کی ہو ،جو وصیت کرنے والے کا وارث بھی بنتا ہو، تو اس کے حق میں کی گئی وصیت دیگر ورثاء کی رضامندی پر موقوف ہوگی، اگر باقی ورثاء راضی ہوں،  تو وصیت نافذ العمل ہوگی،ورنہ وصیت کا لعدم قرار پائے گی، اور جس وارث  کے لیے وصیت کی گئی تھی وہ فقط وراثتی حصہ کا حقدار ہوگا۔

3۔جس کے حق میں وصیت کی گئی ہو، فقط وہی حقدار ہوگا ،دیگر افراد کو شامل کرنے کا کسی کو اختیار نہیں ہوگا۔

 4۔میاں  بیوی اور بیٹی مل کر اگر کوئی پراپرٹی خرید لیں ،اور ان میں سے کسی کا انتقال ہو جائے ،تو مرحوم کا حصہ اس کے شرعی وارثوں میں تقسیم کیا جائے گا ،اور وراثتی  تقسیم کے بغیر محض  شرکت کی وجہ سے دیگر شریک مرحوم شریک کے حصہ کے حقدار نہیں ہوں گے۔

سنن سعيد بن منصور میں ہے:

عن عمرو بن دينار، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا تجوز لوارث وصية إلا أن يجيزها الورثة»

(باب لا وصیة لوارث، ج: 1، ص: 149، ط: الدار السلفیة  الهند)

التلخيص الحبيرمیں ہے:

''حديث ابن عباس "لا تجوز الوصية لوارث إلا أن يشاء الورثة ويروى إلا أن يجيزها الورثة" الدارقطني من حديث ابن عباس باللفظ الأول، وأبو داود في المراسيل'' 

(حدیث ابن عباس، ج: 3، ص: 204، ط: دار الکتب العلمیة)

مسند احمد  میں ہے: 

«حدثنا شرحبيل بن مسلم الخولاني، قال: سمعت أبا أمامة الباهلي يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم في خطبته عام حجة الوداع: " إن الله قد أعطى كل ذي حق حقه، فلا وصية لوارث، والولد للفراش وللعاهر الحجر، وحسابهم على الله، ومن ادعى إلى غير أبيه، أو انتمى إلى غير مواليه، فعليه لعنة الله التابعة إلى يوم القيامة، لا تنفق المرأة شيئا من بيتها إلا بإذن زوجها " فقيل يا رسول الله، ولا الطعام؟ قال: " ذلك أفضل أموالنا»

(حدیث أبي إمامة الباهلي رضی اللہ تعالی عنه، ج: 36، ص: 628، رقم الحدیث: 22249، ط: الرسالة بیروت)

تقريب البغيۃبترتيب احاديث الحليۃ میں ہے :

'' 2069۔عن عامر بن سعد بن أبي وقاص، عن أبيه، قال: جاءه النبي صلى الله عليه وسلم يعوده وهو بمكة، وهو يكره أن يموت بالأرض التي هاجر منها ولم يكن له يومئذ إلا ابنة واحدة، فقال: يا رسول الله، أوصي بمالي كله؟ قال: "لا، الثلث، والثلث كثير، ولعلّ الله أن يرفعك فينتفع بك ناسٌ ويُضرّ بك آخرون" 

2070 -عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن الله قد جعل لكم ثلث أموالكم زيادةً في أعمالكم"

(باب الوصیة بالثلث ،ج:2،ص: 213،رقم الحدیث :2069،ط:دار الکتب العلمیة)

فتاوی شامی  میں ہے :

''قال العلامة البيري: والذي استقر عليه رأي المتأخرين أن الإنسان يتصرف في ملكه وإن أضر بغيره ما لم يكن ضررا بينا، وهو ما يكون سببا للهدم أو ما يوهن البناء أو يخرج عن الانتفاع بالكلية، وهو ما يمنع من الحوائج الأصلية كسد الضوء بالكلية والفتوى عليه اهـ. وفي حاشية الشيخ صالح: والمنع هو الاستحسان، وهو الذي أميل إليه إذا كان الضرر بينا اهـ وبه أفتى أبو السعود مفتي الروم، وهو الذي عليه العمل في زماننا"

(کتاب القسمة،ج: 6،ص:272،ط: سعید)

حاشيۃ  ابن عابدين میں ہے:

''اعلم أن أسباب الملك ثلاثة: ناقل كبيع وهبة وخلافة كإرث وأصالة، وهو الاستيلاء حقيقة بوضع اليد أو حكما بالتهيئة كنصب الصيد لا لجفاف على المباح الخالي عن مالك''

(کتاب الصید، ج: 6، ص: 463، ط: سعید)

مرشد الحيران الى معرفۃ احوال الانسان میں ہے:

''أسباب الملك هي العقود الموجبة لنقل العين من مالك إلى آخر كبيع أو هبة أو وصية والميراث ووضع اليد على الشيء الذي لا مالك له والشفعة.''

 (باب اسباب الملك، ص: 13، ط: المطبعة الکبری الامیریة)

فقط واللہ تعالی اعلم 


فتویٰ نمبر : 144711101902

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں