
ایک مرتبہ غصے کی حالت میں میں نے اپنی بیوی کو کہا تھا: تم کیا چاہ رہی ہو؟ میں طلاق دے دوں؟ اس کے بعد کوئی جملہ نہیں کہا، دوسری مرتبہ دو سال پہلے میں نے غصے میں یہ الفاظ استعمال کیے: میں تمہیں طلاق دے دوں گا اور تیسری بار لڑائی میں میں نے غصے میں پورے الفاظ ادا کر دیے: میں پورے ہوش و حواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، ایک مرتبہ کہا، آپ سے گزارش ہے کہ رہنمائی فرمائیں کہ ہمارا رشتہ قائم ہے یا علیحدگی ہو گئی؟
صورت مسئولہ میں اگر آپ نے پہلی مرتبہ صرف اپنی بیوی سے سوال کیا تھا کہ تم کیا چاہ رہی ہو؟ میں طلاق دے دوں؟ اس کے علاوہ آپ نے طلاق دینے کے کوئی الفاظ نہیں کہے تھے تو ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی تھی۔
اسی طرح دوسری مرتبہ اگر آپ نے صرف یہی الفاظ کہے تھے: میں تمہیں طلاق دے دوں گا، تو ان الفاظ سے بھی کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی؛ کیونکہ یہ محض طلاق کی دھمکی کے الفاظ ہیں، ان سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔
تاہم تیسری مرتبہ جب آپ نے غصے میں یہ الفاظ کہے: میں پورے ہوش و حواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، تو ان الفاظ سے ایک طلاق رجعی واقع ہو گئی، عدت میں رجوع کر کے ساتھ رہنا جائز ہے، عدت سے مراد مکمل تین ماہواریوں کا گزرنا ہے، اگر حمل نہ ہو، حمل ہو تو بچے کی پیدائش پر عدت ختم ہوتی ہے، اگر عدت میں رجوع نہ کیا تو عدت کے بعد نئے مہر کے ساتھ دو گواہوں کی موجودگی میں نیا نکاح کرنا ضروری ہوگا، آئندہ کے لیے شوہر کے پاس دو طلاقیں دینے کا حق ہوگا۔
رجوع کا طریقہ یہ ہے کہ سائل مطلقہ بیوی کو یوں کہہ دے کہ میں نے تم سے رجوع کر لیا، ایسا کہنے سے رجوع ہو جائے گا، بہتر ہے کہ رجوع پر دو گواہ مقرر کر لیے جائیں، یا میاں بیوی آپس میں بوس و کنار یا صحبت کرلیں، اس سے بھی رجوع ہو جائے گا۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"في المحيط: لو قال بالعربية: أطلق لايكون طلاقًا."
(کتاب الطلاق، جلد:1، صفحہ: 384، طبع: دار الفکر)
وفیہ ایضًا:
"و طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية".
(کتاب الطلاق، جلد: 1، صفحہ: 470، طبع: سعید)
فتاوی شامی میں ہے:
"(هي استدامة الملك القائم) بلا عوض ما دامت (في العدة) ... (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة (بكل ما يوجب حرمة المصاهرة) كمس."
(کتاب الطلاق، جلد: 3، صفحہ: 397، طبع: سعید)
وفیہ ایضًا:
"(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب".
(کتاب الطلاق، جلد: 3، صفحہ: 409، طبع: سعید)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144711100212
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن