
ایک وراثتی مکان جو شرعاً تمام ورثاء کی مشترکہ ملکیت ہے، اس میں ایک مشترکہ راستہ بند کر دیا گیا ہے۔ صورتِ حال یہ ہے کہ مکان کے دو دروازے، مشرق اور مغرب کی سمت میں تھے۔ ایک دروازہ ایک گلی میں کھلتا تھا اور دوسرا دروازہ دوسری گلی میں۔ ان دونوں دروازوں کی وجہ سے مکان میں رہائش پذیر افراد بآسانی ایک گلی سے دوسری گلی میں آ جا سکتے تھے۔اب ایک وارث نے اپنے رہائشی حصے میں توسیع کرتے ہوئے مشترکہ حصے میں ایک کمرہ تعمیر کر لیا اور ایک طرف کا دروازہ اپنے حصے میں شامل کر کے بند کر دیا، جس کی وجہ سے دیگر رہائش پذیر افراد کو تنگی اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ:کیا مشترکہ حصے میں شریک کی اجازت کے بغیر مشترکہ راستہ بند کرنا شرعاً جائز ہے؟اور کیا شریعت کی رو سے ایسی دیوار یا تعمیر کا ہٹانا لازم ہوگا؟
یہ سوال چار بھائیوں اور دو بہنوں کی جانب سے پیش کیا جا رہا ہے، تاکہ شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں حق پر عمل کیا جا سکے۔
صورتِ مسئولہ میں کسی ایک شریک کے لیے مشترکہ راستے میں کمرہ یا دیوار بنانا اور اسے بند کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ دیگر شرکاء میں سے ہر ایک کو اس دیوار کے ہٹانے کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہے، اور جس شریک نے یہ دیوار بنائی ہے، اس پر لازم ہے کہ دیگر شرکاء کے مطالبہ کرنے پر اسے ہٹا دے۔
العقود الدریۃ في تنقيح الفتاوى الحامدیۃ میں ہے:
"(سئل) في سكة غير نافذة فيها بيوت لجماعة معلومين فعمد أحد الجماعة وأجرى ميزابي سطحه وسيالته إلى السكة المزبورة بدون إذن من بقية الجماعة فهل ليس له ذلك إلا بإذنهم جميعا؟
(الجواب) : نعم أخرج إلى طريق العامة كنيفا أو ميزابا أو جرضا أو دكانا جاز إذا لم يضر بالعامة ولكل واحد من أهل الخصومة منعه ومطالبته بنقضه بعده، هذا إذا بنى لنفسه بغير إذن الإمام، وإن بنى للمسلمين كمسجد ونحوه: لا، وإن كان يضر بالعامة لا يجوز إحداثه والقعود في الطريق لبيع وشراء على هذا وفي غير النافذة لا يتصرف فيه أحد بإحداث ما ذكرنا مطلقا أضر بهم أو لا إلا بإذنهم أي بإذن أهله لأن الطرق التي ليست بنافذة مملوكة لأهلها فهم شركاء ولهذا يستحقون بها الشفعة والتصرف في الملك المشترك من الوجه الذي لم يوضع له، لا يملك إلا بإذن الكل أضر بهم أو لم يضر ."
(كتاب الحيطان وما يحدث الرجل في الطريق وما يتضرر به الجيران،ج:2،ص:262،ط:دار المعرفة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707100562
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن