بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا سنت کفن سے زیادہ کفن دینا جائز ہے


سوال

ہمارے علاقہ میں میت کو کفن دیتے وقت سنت کفن سےزیادہ کفن دیا جاتاہے،یعنی مرد کےلیےچارکپڑےاورعورت کےلیےچھ کپڑوں کا کفن بنایاجاتاہے،کیا شریعتِ مطہرہ میں اس اضافہ کی گنجائش ہے یانہیں؟

جواب

واضح رہے کہ مرد کو تین کپڑوں میں کفنانا سنت ہے؛ کرتا، ازار، چادر۔ اور عورت کو پانچ کپڑوں میں کفنانا سنت ہے؛ کرتا، ازار، سربند، سینہ بند، چادر۔

صورتِ مسئولہ میں میت(چاہےمردہویاعورت) کوسنت کفن سےزیادہ کفن دیناخلافِ سنت ہے،لہٰذا اہلِ علاقہ کواس سے احتراز کرنا چاہیے۔

مبسوط سرخسی میں ہے:

"قال): وتكفن المرأة في خمسة أثواب والرجل في ثلاثة أثواب هكذا قال علي رضي الله عنه: كفن المرأة خمسة أثواب وكفن الرجل ثلاثة أثواب ولا تعتدوا إن الله لا يحب المعتدين".

(کتاب الجنائز،کفن المرأة،ج2،ص72،ط:دارالمعرفۃ)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما الكلام في كمية الكفن.فنقول: أكثر ما يكفن فيه الرجل ثلاثة أثواب: إزار، ورداء، وقميص وهذا عندنا......وروي عن علي رضي الله عنه أنه قال: " كفن المرأة خمسة أثواب، وكفن الرجل ثلاثة، " ولا تعتدوا إن الله لا يحب المعتدين "؛ ولأن حال ما بعد الموت يعتبر بحال حياته".

(کتاب الجنائز،فصل كيفية وجوب التكفين،ج1،ص306،ط:دارالکتب العلمیہ)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144609101515

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں