
ایک عورت کا اپنے شوہر کے ساتھ جھگڑا چل رہا تھا، شوہر نے غصے کی حالت میں بیوی سے کہا: "تم یہاں سے چلی جاؤ، طلاق، طلاق، طلاق۔" پھر دو منٹ بعد دوبارہ کہا: "تم یہاں پر کیا کر رہی ہو؟، تم یہاں سے چلی جاؤ "طلاق، طلاق، طلاق، طلاق۔"
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ شوہر کا کہنا ہے کہ اس سے صرف دو طلاقیں واقع ہوئی ہیں۔ شرعی طور پر وضاحت فرمائیں کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟
واضح رہے کہ تین طلاقیں خواہ ایک ساتھ دی جائیں یا علیحدہ علیحدہ دی جائیں بہر صورت تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔ قرآن کریم، احادیث مبارکہ، اقوال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی روشنی میں چاروں ائمہ کرام (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) کے نزدیک بالاتفاق تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔ اکٹھی دی گئی تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دینا صریح گمراہی ہےجس پر عمل کرنا قطعاً جائز نہیں،بصورتِ دیگر ساری زندگی گناہ میں گزرے گی۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب شوہر نے "طلاق، طلاق، طلاق" کے الفاظ کہے، تو اس سے تین طلاقیں واقع ہو گئیں، نکاح ختم ہو گیا اور عورت اپنے شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو گئی۔ اب شوہر کے لیے اس مطلقہ بیوی سے رجوع کرنا یا محض تجدیدِ نکاح کے ذریعے دوبارہ ازدواجی تعلق قائم کرنا جائز نہیں۔پس مطلقہ اپنی عدت طلاق(مکمل تین ماہ واریاں اگر حمل نہ ہو اور ماہواری آتی ہو ، اگر حمل ہو تو بچے کی پیدائش تک کا عرصہ) گزار کر دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"وحال الغضب ومذاكرة الطلاق دليل إرادة الطلاق ظاهرًا فلايصدق في الصرف عن الظاهر".
(كتاب الطلاق، فصل في النية في نوعي الطلاق ج3، ص: 102، دار الكتب العلمية)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"و ذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث."
(کتاب الطلاق، ج: 3 ص:233،، ط:سعید)
وفيه أيضاً:
"لكن لا بدّ في وقوعه قضاءً وديانةً من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها."
( کتاب الطلاق،ج:3، ص:250ط: سعید)
وفيه أيضاً:
"ولايلزم كون الإضافة صريحةً في كلامه؛ لما في البحر لو قال: طالق، فقيل له: من عنيت؟ فقال امرأتي، طلقت امرأته. اهـ. على أنه في القنية قال عازياً إلى البرهان صاحب المحيط: رجل دعته جماعة إلى شرب الخمر، فقال: إني حلفت بالطلاق أني لاأشرب وكان كاذباً فيه ثم شرب طلقت... فهذا يدل على وقوعه وإن لم يضفه إلى المرأة صريحاً، نعم يمكن حمله على ما إذا لم يقل: إني أردت الحلف بطلاق غيرها فلايخالف ما في البزازية ويؤيده ما في البحر لو قال: امرأة طالق أو قال: طلقت امرأة ثلاثاً، وقال لم أعن امرأتي يصدق اهـ ويفهم منه أنه لو لم يقل ذلك تطلق امرأته، لأن العادة أن من له امرأة إنما يحلف بطلاقها لا بطلاق غيرها، فقوله: إني حلفت بالطلاق ينصرف إليها ما لم يرد غيرها لأنه يحتمله كلامه".
(کتاب الطلاق، ج:۳ ص248 ، ط:سعید)
فتاوی دارالعلوم دیوبند میں ہے:
"سوال:زید نے اپنے والدین سے غصہ کی حالت میں بوجہ خفگیِ والدین اپنی زوجہ پر اور اس پر یہ الفاظ کہے: "طلاق، طلاق، طلاق" (تین مرتبہ)۔ اس نے لفظِ طلاق کو کسی طرف منسوب نہیں کیا (یعنی یہ نہیں کہا کہ 'تجھے طلاق' یا 'میری بیوی کو طلاق') اور یہ کہا کہ "میں کہیں چلا جاؤں گا یا بھیک مانگ کر کھاؤں گا"۔ کیا اس صورت میں طلاق واقع ہو گئی یا نہیں؟
الجواب: موافق تصریح علامہ شامی کے اس صورت میں زید کی زوجہ مطلقہ ثلاث ہو گئی، ويؤيده ما في البحر: لو قال امرأتي طالق أو قال طلقت امرأة ثلاثا وقال لم أعنِ امرأتي يصدق إلخ، ويفهم منه أنه لو لم يقل ذلك تطلق امرأته لأن العادة أن من له امرأة إنما يحلف بطلاقها لا بطلاق غيرها."
(کتاب الطلاق، تین طلاقین اور ان کے متعلق احکام و مسائل ،ج:9، ص:300 ، ط:مکتبہ حقانیہ)
فقط الله اعلم
فتویٰ نمبر : 144712101083
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن