
ایک شخص کو فلیٹ خریدنے کے لیے رقم کی ضرورت ہے۔ وہ بینک سے قرض لینے کے بجائے اپنے ایک عزیز رشتہ دار (انویسٹر) کے ساتھ شراکت داری کی بنیاد پر فلیٹ خریدنا چاہتا ہے۔ فلیٹ کی کل قیمت 120 لاکھ روپے ہے، جس میں سے تقریباً 60 لاکھ روپے خریدار کے ہیں اور تقریباً 60 لاکھ روپے انویسٹر فراہم کرے گا۔ دونوں مشترکہ طور پر فلیٹ خریدتے ہیں۔ اس کے بعد خریدار، انویسٹر کے حصے کے استعمال کے عوض ہر ماہ کرایہ ادا کرتا رہے گا، اور وقتاً فوقتاً انویسٹر کا حصہ بھی خریدتا جائے گا، یہاں تک کہ آخرکار پورا فلیٹ خریدار کی ملکیت میں آ جائے گا۔
کیا اس طرح کا معاملہ شرعاً درست ہے؟ اگر درست نہیں، تو اس کی شرعی طور پر صحیح صورت کیا ہوگی؟
نیز انویسٹر پردیس میں مقیم ہے۔
مشترکہ گھر خریدتے وقت یوں معاہدہ کرنا کہ ایک شریک دوسرے شریک کا حصہ قسط وار خریدتا رہے گا،اور جب تک کل ادائیگی نہ ہوجائے کرایہ بھی ادا کرنے کا پابند ہوگا،دو عقدوں کو ایک عقد میں جمع کرنے کی وجہ سے ناجائز ہے،اس کی جائز صورت یہ ہےکہ :
اگر مشترکہ طور پر گھر خریدنے کے بعد ایک شریک دوسرے شریک کے حصے سے بھی منفعت حاصل کرنا چاہے، تو دونوں کی باہمی رضامندی سے اجارہ (کرایہ) کا معاہدہ کر کے مناسب کرایہ مقرر کر لیا جائے۔ پھر جو کرایہ طے ہو، استعمال کرنے والا شریک اسی کے مطابق دوسرے شریک کو باقاعدگی سے ادا کرتا رہے۔
یا مشترکہ گھر خریدنے کے بعد ایک شریک اپنے حصے کی قیمت طے کرکے قسطوں میں ادائیگی کی بنیاد پر فروخت کردے،ادھار سودا ہونے کی وجہ سے فروحت کنندہ کے لیے موجودہ مارکیٹ ویلیو سے زائد ویلیو پر سود ا کرنا جائز ہوگا،البتہ قسط کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں مالی جرمانہ لگانے کی شرعاًاجازت نہیں ہوگی۔
سنن ترمذی میں ہے:
"عن أبي هريرة قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيعتين في بيعة». وفي الباب عن عبد الله بن عمرو، وابن عمر، وابن مسعود: حديث أبي هريرة حديث حسن صحيح، والعمل على هذا عند أهل العلم، وقد فسر بعض أهل العلم قالوا: بيعتين في بيعة أن يقول: أبيعك هذا الثوب بنقد بعشرة، وبنسيئة بعشرين، ولايفارقه على أحد البيعين، فإذا فارقه على أحدهما فلا بأس إذا كانت العقدة على أحد منهما ... وهذا يفارق عن بيع بغير ثمن معلوم، ولايدري كل واحد منهما على ما وقعت عليه صفقته... الخ."
(أبواب البيوع، باب ماجاء في النهي عن بیعتین في بیعة، ج:3، ص:525،رقم: 1231،ط: مصطفى البابي الحلبي)
البحر الرائق میں ہے:
"ويزاد في الثمن لأجله إذا ذكر الأجل بمقابلة زيادة الثمن قصدًا."
(باب المرابحة والتولية، ج: 6، ص: 125، ط: دار الكتاب الإسلامي)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ومن اشترى شيئا وأغلى في ثمنه فباعه مرابحة على ذلك جاز."
(كتاب البيوع،الباب الرابع عشر في المرابحة والتولية والوضيعة، ج: 3، ص: 161، ط :رشيديه)
وفيه ايضا:
"وأجمعوا أنه لو آجر من شريكه يجوز سواء كان مشاعا يحتمل القسمة أو لا يحتمل وسواء آجر كل نصيبه منه أو بعضه كذا في الخلاصة."
(كتاب الإجارة، الباب السادس عشر في مسائل الشيوع في الإجارة، ج:4، ص:448، ط: دار الفكر)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144801100862
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن