
میرے شوہر نے مجھے ایک ہی مجلس میں بیک وقت زبانی طور پر تین طلاقیں دیں۔ انہوں نے یہ الفاظ "میں تجھے طلاق دیتا ہوں"تین مرتبہ کہے۔
اس کے بعد میرے شوہر نے ایک ادارے سے فتویٰ لیا، جس میں ایک ہی مجلس میں مذکورہ جملہ تین مرتبہ کہنے سے ایک طلاق واقع ہونے کا فتویٰ دیا گیا، لیکن مجھے اس پر اطمینان نہیں ہے۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ اس طرح ایک ہی مجلس میں تین مرتبہ یہ جملہ کہنے سے کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟
(مذکورہ ادارے کا فتویٰ سوال کے ساتھ منسلک ہے۔)
واضح رہے کہ ایک ہی مجلس میں دی ہوئی تین طلاق سے تین طلاقیں از روئے قران و حدیث اور جمہور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور چاروں ائمہ امام اعظم ابو حنیفہ ، امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کے نزدیک تین طلاقیں ہی واقع ہوتی ہیں۔لہذا تین طلاقوں کو ایک کہنا از روئے قرآن و حدیث اور جمہورِ امت کے نزدیک غلط ہے ۔
صورتِ مسئولہ میں جب سائلہ کے شوہر نے ایک ہی مجلس میں اسے تین مرتبہ یہ الفاظ کہے: ''میں تجھے طلاق دیتا ہوں''، تو اس سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں، اوروہ شوہر پر حرمتِ مغلّظہ کے ساتھ حرام ہو کر نکاح سے خارج ہو گئی ہے۔ شوہر کے لیے متعلقہ بیوی (سائلہ) سے رجوع کرنا یا دوبارہ نکاح کرنا شرعا جائز نہیں ہے ۔
پس اب سائلہ عدتِ طلاق (مکمل تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو اور ماہواری آتی ہو، اور اگر حمل تھا تو بچے کی پیدائش تک کا عرصہ) گزار کر دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔
قرآنِ کریم میں ہے:
"الطَّلاقُ مَرَّتَانِ..........فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ"[البقرة: 229-230]
ترجمہ:"وہ طلاق دو مرتبہ ( کی) ہے پھر اگر کوئی ( تیسری ) طلاق دے دے عورت کو تو پھر وہ اس کے لئے حلال نہ رہے گی اس کے بعد یہاں تک کہ وہ اس کے سوا ایک اور خاوند کے ساتھ ( عدت کے بعد ) نکاح کرلے"۔
(تفسير بيان القرآن،سورۃ البقرۃ،آیت: 229-230، ج:1، ص:162، مکتبۃ رحمانیۃ، لاہور)
صحيح بخاری میں ہے:
"عن عائشة «أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول»."
(باب من أجاز طلاق الثلاث،رقم الحديث:5261، ج:7، ص:43، ط: السلطانية، بالمطبعة الكبرى الأميرية، ببولاق مصر)
اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے حافظ ابن حجر ؒ فتح الباری میں فرماتے ہیں:
"فالتمسك بظاهر قوله طلقها ثلاثا فإنه ظاهر في كونها مجموعة".
(باب من جوز طلاق الثلاث، ج:9، ص: 367، ط: المكتبة السلفية - مصر)
أحكام القرآن للجصاص میں ہے:
"فالكتاب والسنة وإجماع السلف توجب إيقاع الثلاث معا وإن كانت معصية".
(مطلب: الدهن المتنجس يجوز الانتفاع به بغير الأكل ويجوز بيعه بشرط بيان عيبه، ج:1، ص: 469، ط: دار الكتب العلمية بيروت - لبنان)
فتح القدير میں ہے:
"قال ابن عباس: بل كان الرجل إذا طلق امرأته ثلاثا قبل أن يدخل بها جعلوها واحدة على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وصدرا من إمارة عمر، فلما رأى الناس قد تتابعوا فيها قال: أجيزوهن عليهم». هذا لفظ أبي داود.وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاثا".
(باب طلاق السنة، الباب الأول في تفسير الطلاق وركنه،ج: 3، ص: 469، ط: شركة مكتبة ومطبعة مصفى البابي الحلبي وأولاده بمصر)
البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے:
"ولا حاجة إلى الاشتغال بالأدلة على رد قول من أنكر وقوع الثلاث جملة لأنه مخالف للإجماع كما حكاه في المعراج ولذا قالوا: لو حكم حاكم بأن الثلاث بفم واحد واحدة لم ينفذ حكمه لأنه لا يسوغ فيه الاجتهاد لأنه خلاف لا اختلاف."
(كتاب الطلاق، ج: 3، ص: 257، ط: دار الكتاب الإسلامي)
فتاوی قاضی خان میں ہے:
"إذا قال لامرأته بعد الدخول ترايك طلاق وترايك طلاق وترايك طلاق يقع الثلاث كما لو قال لها بالعربية أنت طالق أنت طالق أنت طالق، فإنه يقع الثلاث."
(کتاب الطلاق، ج: 1، ص: 402، ط: دار الكتب العلمیۃ بیروت)
فتاوی ہندیۃ میں ہے:
"(وأما البدعي) فنوعان بدعي لمعنى يعود إلى العدد وبدعي لمعنى يعود إلى الوقت (فالذي) يعود إلى العدد أن يطلقها ثلاثا في طهر واحد أو بكلمات متفرقة أو يجمع بين التطليقتين في طهر واحد بكلمة واحدة أو بكلمتين متفرقتين فإذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصيا."
(كتاب الطلاق، ج: 1، ص: 349، ط: دار الفكر بيروت)
کفایت المفتی میں ہے:
"(جواب (۳۲۳) ائمۂ اربعہ یعنی امام ابو حنیفه و امام مالک و امام شافعی و امام احمد بن حنبل اور جماہیر اہل سنت والجماعتہ اس امر کے قائل ہیں کہ تین طلاق دینے سے تینوں پڑ جاتی ہیں خواہ ایک لفظ سے دی جائیں یا ایک جلسہ میں یا ایک طہر میں ۔ (۱) پس صورت مسئولہ میں چونکہ گواہوں سے (بشر طیکہ گواہ عادل بھی ہوں ) یہ بات ثابت ہے کہ زوج نے تین طلاقیں دی ہیں اس لئے اس کی منکوحہ مطلقہ مغلظہ ہو گئی اور اب بدون حلالہ اس کے لئے حلال نہیں ہو سکتی (۲) آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بہ نیت انشائے طلاق تین طلاقیں دینے پر ایک کا حکم نہیں دیا جاتا تھا بلکہ نیت تاکید کا اعتبار کر لیا جاتا تھا اور یہ اعتبار حضرت ﷺ کے حکم اور صحابہ کے اتفاق سے ساقط ہو گیا۔ (۳) واللہ اعلم ۔"
(کتاب الطلاق، ج: 6، ص: 342، ط: دار الاشاعۃ کراچی)
فقط واللہاعلم
فتویٰ نمبر : 144801101094
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن