
درج ذیل حدیث کے حوالہ سند اور تشریح کے بارے میں رہنمائی کیجیے:
کسی مسلمان پر ایسی چیز کا الزام لگائے جس کے بارے میں وہ خود بھی جانتا نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اسے (جہنمیوں کے خون اور پیپ جمع ہونے کے مقام )” رَدْغَۃُ الْخَبَالْ“ میں اُس وقت تک رکھے گا جب تک کہ اپنے الزام کے مطابق عذاب نہ پا لے۔
سوال میں مذكور روایت در اصل ایک طویل حدیث کا ٹکڑا ہے، جسے امام طبرانی نے ”المعجم الکبیر “ اور ”المعجم الاوسط“ میں مرفوعاً روایت کیا ہے۔
معجم طبرانی میں مذکور روایت کے الفاظ درج ذیل ہیں:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ شَيْبَةَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، ثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ، ثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ حُمْرَانَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: «مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ حَرْفٍ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَمَنْ أَعَانَ فِي خُصُومَةِ بَاطِلٍ لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ، وَمَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ فَقَدْ ضَادَّ اللَّهَ فِي أَمْرِهِ، وَمَنْ بَهَتَ مُؤْمِنًا أَوْ مُؤْمِنَةً حَبَسَهُ اللَّهُ فِي رَدْغَةِ الْخَبَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ وَلَيْسَ بِخَارِجٍ»
(المعجم الكبير، باب العين، تحقيق: حمدي بن عبد المجيد السلفي، الشارقة، مكتبة الأصالة والتراث، ط: ١، ١٤٣١هـ/٢٠١٠م، ١٠/٣٢٩٤، رقم ١٣٤٣٥، والمعجم الأوسط، تحقيق: طارق بن عوذ الله، القاهرة، دار الحرمين، ١٤١٥هـ/١٩٩٥م، ٦/٣٠٩، رقم 6491)
ترجمہ:
”عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کے کلمات کہے، اس کے لیے ہر ایک حرف کے بدلے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ اور جو ناحق کسی جھگڑے میں تعاون کرے، وہ اللہ کی ناراضی میں رہتا ہے یہاں تک کہ تعاون چھوڑ دے۔ اور جس کی سفارش اللہ کی حدود میں سے کسی حد میں رکاوٹ بنے، تو اس نے اللہ کے حکم کی مخالفت کی۔ اور جو کسی مومن مرد یا عورت پر تہمت لگائے، تو روزِ قیامت اللہ اسے اہلِ جہنم کے پیپ اور خون کے کیچڑ میں قید کردیں گے، یہاں تک وہ اپنے کہے سے خلاصی پا جائے، لیکن وہ خلاصی نہیں پائے گا“۔
نیز مصنف عبد الرزاق میں یہ روایت موقوفاً منقول ہے، جس میں مطلوبہ حصے کے الفاظ درج ذیل ہیں:
«وَمَنْ بَهَتَ مُؤْمِنًا بِمَا لَا يَعْلَم، جَعَلَهُ اللَّهُ فِي رَدْغَةِ الْخَبَالِ حَتَّى يَأْتيَ بِالْمَخْرَجِ مِمَّا قَالَ»
(المصنَّف، باب من حالتْ شفاعته دون حدٍّ، دار التأصيل، ط: ٢، ١٤٣٧هـ/٢٠١٦م، ١٠/٤٣٧، رقم ٢١٩٨٣)
ترجمہ:
”جو کسی مومن پر ایسا بہتان لگائے، جس کا اسے خود بھی علم نہ ہو، تو اللہ اسے اہلِ جہنم کے پیت اور خون کے کیچڑ میں رکھے گا، یہاں تک کہ وہ اپنے کہے سے خلاصی کا سامان لے آئے“۔
نیز مسند احمد، اور سنن ابی داود میں اسی مفہوم کی روایت قدرے مختلف الفاظ میں، مرفوعاً منقول ہے، جس سے سوال میں مذکور حدیث کا مفہوم ثابت ہوتا ہے۔ مسند احمد اور سنن ابی داود کی احادیث میں، مطلوبہ ٹکڑے کے الفاظ درج ذیل ہیں:
«وَمَنْ قَالَ فِي مُؤْمِنٍ مَا لَيْسَ فِيهِ، أَسْكَنَهُ اللهُ رَدْغَةَ الْخَبَالِ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ».
(مسند أحمد، تحقيق: شعيب الأرنؤوط وآخرين، مؤسسة الرسالة، 9/ 283، رقم 5385، وسنن أبي داود، كتاب الأقضية، باب فيمن يعين على خصومة من غير أن يعلم أمرها، تحقيق: شعيب الأرنؤوط وآخرين، الرسالة العالمية،٥/٤٥٠، رقم 3597)
ترجمہ:
”جس نے کسی مومن نے بارے میں ایسی بات کی، جو اس میں موجود نہ ہو، تو اللہ اسے جہنم کے ایک مقام ردغۃ الخبال میں ٹھہرائیں گے، یہاں تک کہ وہ اپنے کہے کی سزا پالے“۔
روایت کی سندی حیثیت:
اس روایت کے تمام رواۃ ثقہ ہیں، چنانچہ حافظ ہیثمی ،طبرانی کی روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
«رواه الطبراني في الكبير والأوسط، ورجالهما رجال الصحيح، غير محمد بن منصور الطوسي، و هو ثقة».
(مجمع الزوائد ومنبع الفرائد، كتاب الاذكار،باب ما جاء في الباقيات الصالحات،دار المنهاج، ط: ١، ١٤٣٦هـ/٢٠١٥م، ٢٠/٩١، رقم ١٦٨١٩)
مطلوبہ حصے کی تشریح:
ردْغَة: کے معنی مٹی اور کیچڑ کے ہیں، اور الخبال: فساد کو کہتے ہیں۔ حدیث میں وارد: ”ردغۃ الخبال“ سے مراد اہلِ جہنم کا پیپ اور خون ہے۔ (ابن الاثیر، النہایہ فی غریب الحدیث، دار بن الجوزی، ط: ۱، ۱۴۳۴ھ، ص ۳۱۹)
اس حدیث کا مفہوم ترجمے سے واضح ہے، البتہ آخری جملے سے مراد یہ ہے کہ جب تک وہ اس گناہ کے عذاب کو بھگت کر پاک وصاف نہ ہوجائے، وہ اہل جہنم کے درمیان رہے گا۔ (قطب الدین دہلوی، مظاہر ِ حق، دار الاشاعت، ۲۰۰۲ء، ۳/۶۰۸)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701101878
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن