
ہم پانچ بھائیوں نے مشرترکہ طور پر رقم ملا کر گھر خریدا تھا،اوراپنے اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ اس مشترکہ گھر میں رہتے ہیں۔ ہمارے بڑے بھائی کا انتقال ہوگیا ہے اور ان کی کوئی اولاد نہیں ہے، نیز مرحوم بھائی کا کوئی ذاتی مکان بھی نہیں تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ اس گھر میں مرحوم بھائی کی بیوہ کے رہنے کا کیا حکم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ گھر میں مرحوم بھائی چونکہ شریک تھے، ان کی وفات کے بعد ان کے حصے کے ایک چوتھائی حصہ یعنی 25 فیصد کی حقدار مرحوم کی بیوہ ہے، لہٰذا مرحوم کی بیوہ اس موروثی حصہ میں رہنے کی شرعًاحقدار ہے، البتہ اس کےلیے مرحوم شوہر کے بھائیوں کے سامنے بے پردہ آنا، خلوت میں بات چیت کرنا ، یا ان سے ہنسی مذاق کرنا جائز نہیں ہوگا، نیز مرحوم کے بھائیوں کےلیے بیوہ کو اس کے حصے سے زبردستی بے دخل کرنابھی جائز نہیں ہوگا، البتہ اگر بیوہ اپنا حصہ مرحوم کے بھائیوں میں سے کسی کو فروخت کردے، تو پھر بیوہ کے لیے اس گھر میں رہنے کا شرعًا حق نہیں ہوگا۔
سنن الترمذی میں ہے:
"عن عقبة بن عامر، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: إياكم والدخول على النساء، فقال رجل من الأنصار: يا رسول الله، أفرأيت الحمو؟، قال: الحمو الموت."
"ترجمہ: حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:عورتوں کے پاس داخل ہونے سے پرہیز کرو ، ایک انصاری شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ ،"دیور" کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟ آپ نے فرمایا :’’دیور‘‘ تو موت ہے۔"
(أبواب النكاح، باب ما جاء في كراهية الدخول على المغيبات، ج:2، ص:462، ط:دار الغرب الإسلامي)
صحیح مسلم میں ہے:
"عن جابر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا لا يبيتن رجل عند امرأة ثيب، إلا أن يكون ناكحا أو ذا محرم."
ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: خبر دار! کوئی مرد کسی عورت کے پاس نہ ٹھہرے مگر یہ کہ وہ اس کا شوہر ہو یا اس کا محرم ہو۔
(كتاب السلام، باب تحريم الخلوة بالأجنبية والدخول عليها، ج:4، ص:1710، ط: دارإحياء التراث العربي)
وفيه أيضًا:
"عن سعيد بن زيد قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول:من أخذ شبرا من الأرض ظلما، فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين."
( كتاب البيوع، باب تحريم الظلم وغصب الأرض وغيرها، رقم الحديث: ١٦١٠، ط: دار الطباعة العامرة - تركيا)
ترجمہ:" حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ایک بالشت برابر زمین ظلم سے لے لے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کو سات زمینوں کا طوق پہنا دے گا۔"
فتاوی ہندیۃ میں ہے:
"و لايجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بأمره، وكل واحد منهما كالأجنبي في نصيب صاحبه."
( كتاب الشركة،الباب الأول في بيان أنواع الشركة وأركانها وشرائطها وأحكامها، الفصل الأول في بيان أنواع الشركة،ج:1،ص:301،ط:رشیدية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703101734
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن