
ہم کل چار بھائی ایک ہی گھر میں رہتے ہیں۔ میرے باقی بھائی کام کاج اور کاروبار کرتے ہیں، جبکہ میں گھر میں رہ کر بچوں کی دیکھ بھال کرتا ہوں اور ہر وقت گھر پر موجود رہتا ہوں۔ میرے بھائیوں نے مجھ سے کہا کہ:"آپ گھر کا خیال رکھیں، ہماری کمائی میں آپ کا بھی حصہ ہے۔"ہمارے علاقے میں عموماً یہ ہوتا ہے کہ جب بھائی آپس میں علیحدہ ہوتے ہیں تو سب بھائی آپس میں موجود سرمایہ برابر تقسیم کر لیتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ اگر ہم آئندہ علیحدہ ہو جائیں تو کیا میرے بھائیوں کی کمائی میں میرا بھی کوئی حصہ ہوگا یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں سائل اور اس کے بھائیوں کے درمیان اگر واقعۃً یوں معاہدہ ہوا ہو کہ: "آپ گھر کا خیال رکھیں، ہماری کمائی میں آپ کا بھی حصہ ہے"، تو سائل بھائیوں کے کاروبار میں برابر حصے دار ہوگا۔ پس مستقبل میں الگ ہونے کی صورت میں سائل اور اس کے تینوں بھائیوں کے درمیان کل کاروبار برابر چار حصوں میں تقسیم ہوگا۔
العقود الدريۃ في تنقيح الفتاوى الحامديۃ میں ہے:
"(سئل) في إخوة خمسة سعيهم وكسبهم واحد وعائلتهم واحدة حصلوا بسعيهم وكسبهم أموالا فهل تكون الأموال المذكورة مشتركة بينهم أخماسا؟
(الجواب) : ما حصله الإخوة الخمسة بسعيهم وكسبهم يكون بينهم أخماسا."
(كتاب الشركة،ج:1،ص:94،ط:دار المعرفة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100318
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن