
1۔ ہمارے دو بھائی تھے، دونوں بھائیوں کا انتقال ہو گیا ہے، اب ان کے بعد ان کی اولاد زندہ ہے، ان اولاد نے اپنی محنت اور جدوجہد سے مال و جائیداد حاصل کیا ہے، یہ مال والدین کے ترکے سے نہیں ہے بلکہ ان بچوں کی اپنی کمائی ہے، سوال یہ ہے کہ: کیا یہ کمائی ہوئی دولت وراثت کے اصول پر تقسیم ہوگی، یعنی بھائیوں کی سطح پر تقسیم ہوگی؟ اور ہر باپ کے بچوں کو الگ الگ حصہ ملے گا؟یا یہ تقسیم براہِ راست بچوں کی سطح پر ہوگی، یعنی تمام اولاد میں برابر تقسیم ہوگی؟
2۔ مزید یہ کہ ان بچوں میں بعض محنت کر کے کمانے والے ہیں اور بعض بالکل کمائی میں شریک نہیں، تو کیا تقسیم کے وقت ان غیر شریک بچوں کو بھی حصہ دیا جائے گا؟یا یہ مال صرف انہی بچوں کا شمار ہوگا جنہوں نے محنت کر کے کمایا ہے؟
3۔ پھر دوسری صورت یہ ہے کہ ان دو بھائیوں میں سے ایک بھائی کی تین بیویاں تھیں، تینوں بیویوں سے اولاد ہے،پہلی اور دوسری بیوی سے جو بچے ہیں وہ بڑے ہیں اور اپنی محنت سے کما رہے ہیں، تیسری بیوی سے جو بچے ہیں وہ ابھی نابالغ ہیں اور کمائی کے قابل نہیں، والد نے اپنے انتقال کے وقت کوئی جائیداد یا مال نہیں چھوڑا تھا، اب سوال یہ ہے کہ کیا تیسری بیوی اور اس کے نابالغ بچوں کو بھی بڑے بیٹوں کی محنت سے حاصل شدہ مال و جائیداد میں حصہ ملے گا؟یا یہ مال صرف انہی بچوں کا ہوگا جنہوں نے محنت کر کے کمایا ہے؟
1۔2۔ صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً مذکورہ مال وجائیداد اولاد کی اپنی کمائی اور محنت سے ہے، والدین نے ان کو پیسے دے کر اپنے لیے کام نہیں کروایا تھا اور نہ ہی ان کو والدین سے وراثت میں ملی ہے اور نہ ہی انہوں نے باہم اشتراک کا کوئی معاہدہ کیا ہے تو ایسی صورت میں جن جن اولاد نے محنت کرکے جائیداد بنائی ہےتو یہ ان کا اپنا ذاتی حق شمار ہوگا، اس میں نہ ان کے اپنے بھائی اورنہ ہی ان کے چچا زاد بھائیوں میں سے کوئی شریک ہوگا۔
3۔ مذکورہ صورت میں جنہوں نے محنت کرکے کمایا ہے یہ کمائی صرف ان کا حق ہوگا،دیگر بھائی ان کے ساتھ شریک نہیں ہوں گے، تاہم مذکورہ کمانے والے بھائیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے چھوٹے بھائیوں (تیسری ماں سے ہیں اور کام کے اہل نہیں ہیں) کو بطورِ احسان کچھ دے دیں ، اور ان کی تربیت اور پرورش کا بھی خاص خیال رکھا جائے،ان شاءاللہ اس پر انہیں بہت اجر ملے گا۔
درر الحكام میں ہے:
"إن صاحب الملك مقتدر على التصرف كيف ما شاء في ملكه وعلى إتلافه وتضييعه أيضا."
(الكتاب الخامس في الرهن، الباب الرابع في بيان أحكام الرهن، الفصل الأول في بيان أحكام الرهن العمومية، 2/ 167، ط: دار الجيل)
فتاوی شامی میں ہے:
"لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته."
(كتاب الغصب، مطلب فيما يجوز من التصرف بمال الغير، 6/ 200، ط: سعيد)
کفایۃ المفتی میں ہے:
”جب لڑکوں نے جدا جدا کمایااور جدا جدا جائیداد بنائی تو ہر ایک اپنی جائیداد کا جداگانہ مالک ہوگا، صرف ہم طعام ہونے سے جائیداد مشترک نہیں ہوجاتی، ہاں باپ کا ترکہ قاعدہ وراثت کے مطابق سب وارثوں میں تقسیم ہوگا۔“
(کتاب الفرائض،8/ 228ط: دار الاشاعت کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702102135
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن