
میرے شوہر کا انتقال ہوا، جن کے ترکے میں 64 ایکڑ زمین ہے ،ایک فلیٹ ،جانور اور کاریں وغیرہ ہیں ۔
ورثاء میں ایک بیوہ ،دو بیٹے ،ایک بیٹی( دوسری مطلقہ بیوی سے) ہے۔اور والدین حیات نہیں ہیں ۔
سوال یہ ہے کہ شوہر کے ترکے میں سے بیوہ کو کتنا حصہ ملے گا؟
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے مرحوم شوہر کی ملکیت میں ان کی وفات تک جتنی اشیاءمنقولہ و غیر منقولہ شامل تھیں،وفات کے بعد وہ سب مرحوم کے ترکہ میں شامل ہوں گی،اور ان سب کو حصص شرعیہ کے تناسب سےمرحوم کے تمام ورثاء میں تقسیم کرنا ضروری ہوگا، جس کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد،مرحوم کے ذمہ اگر کوئی قرض ہو، تو اسے ترکہ سے ادا کرنے کے بعد ،اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو ،تو اسے بقیہ ترکہ کے ایک تہائی سے پورا کرنےبعد کے بقیہ کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو 40 حصوں میں تقسیم کرکے5حصے مرحوم کی بیوہ کو،14حصے مرحوم کے ہر بیٹے کو،اور7حصے مرحوم کی بیٹی کو ملیں گے۔
صورت تقسیم یہ ہے:8/ 40
| بیوہ | بیٹا | بیٹا | بیٹی |
| 1 | 8 | ||
| 5 | 14 | 14 | 7 |
یعنی فیصد کے اعتبار سے میں سے 12.5 فیصدمرحوم کی بیوہ کو،35 فیصدمرحوم کے ہر ایک بیٹے کو اور 17.5 فیصد بیٹی کوملے گا۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144712100779
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن