بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 محرم 1448ھ 18 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک بیوہ دو بیٹے دو بیٹیوں میں میراث کی تقسیم


سوال

میرے شوہر کا انتقال ہوا، جن کے ترکے میں 64 ایکڑ زمین ہے ،ایک فلیٹ ،جانور اور کاریں  وغیرہ ہیں ۔

ورثاء  میں ایک بیوہ ،دو بیٹے ،ایک بیٹی( دوسری مطلقہ بیوی سے) ہے۔اور والدین حیات نہیں ہیں ۔

سوال یہ ہے کہ شوہر کے  ترکے میں سے بیوہ کو کتنا حصہ ملے گا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے مرحوم شوہر  کی ملکیت میں ان کی وفات تک جتنی اشیاءمنقولہ و غیر منقولہ شامل تھیں،وفات کے بعد وہ سب مرحوم کے ترکہ میں  شامل ہوں گی،اور ان سب کو حصص شرعیہ کے تناسب سےمرحوم کے تمام ورثاء میں تقسیم کرنا ضروری ہوگا، جس کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کے  حقوقِ  متقدمہ  یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد،مرحوم کے ذمہ   اگر کوئی قرض ہو، تو اسے  ترکہ  سے ادا کرنے کے بعد ،اگر مرحوم نے کوئی  جائز وصیت کی ہو ،تو اسے  بقیہ ترکہ کے ایک تہائی  سے پورا کرنےبعد کے  بقیہ کل ترکہ  منقولہ  وغیر منقولہ  کو 40 حصوں میں تقسیم کرکے5حصے مرحوم کی بیوہ کو،14حصے مرحوم کے ہر بیٹے کو،اور7حصے مرحوم کی بیٹی کو ملیں گے۔

صورت تقسیم یہ ہے:8/ 40

بیوہبیٹابیٹابیٹی
18
514147

یعنی فیصد کے اعتبار سے میں سے  12.5 فیصدمرحوم کی بیوہ کو،35 فیصدمرحوم کے ہر ایک بیٹے کو اور 17.5 فیصد  بیٹی کوملے گا۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712100779

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں